فیصلہ جو بھی ہو، تنازعہ جاری رہے گا


پاکستانی قوم اس وقت سچائی اور اصولوں کی جنگ لڑ رہی ہے۔ بس قباحت یہ ہے کہ اس ملک میں ہر کسی کا سچ اور اصول الگ الگ ہیں جو عام طور سے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پاکستان کے حالات کو باہر سے دیکھنے والوں کو خواہ وہ عام سیاسی تجزیہ نگار ہوں یا سابقہ پاکستانی جو کسی نہ کسی وجہ یا مجبوری کے عالم میں دوسرے ملکوں میں آباد ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ صورتحال سمجھ نہیں آتی۔ کہ ہر شخص یا گروہ کا اپنا اپنا سچ کیوں کر ہو سکتا ہے اور وہ اصولوں کی لڑائی میں ایک دوسرے سے متصادم اور دست و گریباں کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں معمولی فہم رکھنے والا شخص بھی اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ دراصل یہ مفادات کی لڑائی ہے۔ یہ مفادات شخصی ، گروہی یا ادارہ جاتی ہو سکتے ہیں۔ یہ سب افراد ، گروہ یا ادارے اپنے اپنے طور پر واقعی سچے اور ملک و قوم کا بھلا چاہنے والے ہو سکتے ہیں لیکن جب وہ ایسی اندھی گلی میں داخل ہو جائیں جہاں انہیں اپنی آواز کے سوا کوئی صدا سنائی نہ دے یا ایسے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں جو انہی کا سراپا مختلف صورتوں میں ان کے سامنے لاتا ہو یعنی وہ خود کو ہی تمام مسائل کا حل اور دوسروں کو اس حل کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں قوم و ملک کا استحکام ، جمہوریت کا فروغ یا مملکت کی سربلندی غیر اہم ہو جاتی ہے۔ تب انا کا بت ان سب اہم پہلوؤں کو نظر انداز کرکے خود پر سب کو حاوی دیکھنے پر مصر ہوتا ہے۔

لیکن اس قدر صاف اور واضح یہ تصویر ملک سے باہر رہنے والوں یا پاکستان سے تعلق نہ رکھنے والوں کو ہی کیوں نظر آتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ملک کے اندر رہنے والے لوگوں میں ایسی آوازوں کو اہمیت حاصل نہیں ہو پاتی جو وسیع تر مفاد ، بہتر مستقبل اور قابل عمل جمہوری نظام کےلئے ایک دوسرے کی بات سننے، ایک دوسرے کو قبول کرنے اور مل جل کر سب کی بھلائی کےلئے راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ کیونکہ یہ قیاس کرنا یا کہنا محال ہے کہ پاکستان جیسے زرخیز ملک میں ایسے لوگ یا سوچنے والے عناصر ناپید ہو چکے ہیں۔ لیکن اپنے اپنے اصولوں اور مفادات کے علم اٹھائے ایک دوسرے سے متصادم لوگوں اور گروہوں نے ایک ایسی صورت پیدا کر دی ہے کہ یہ آوازیں دن بدن نحیف ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ نہ عام شعور انہیں سننا چاہتا ہے، نہ وہ قابل فروخت ہیں اور نہ ایک دوسرے کی پگڑی اچھالتے اور دست و گریباں ہوتے عناصر کےلئے ان متوازن اور عقل و شعور پر مبنی آرا اور مشوروں کی کوئی اہمیت ہے۔

ملک کا میڈیا آزاد اور خود مختار ہو چکا ہے۔ یہاں کا صحافی طاقتور ہو کر ہر جاہ پسند کے منہ پر بات کرنے کا حق حاصل کر چکا۔ لیکن مالکان کے تجارتی مفادات میں جکڑا یہ اہم ادارہ بھی مفادات کی اس جنگ میں فرد اور اصول کو علیحدہ کرنے، ذاتی مفاد اور قومی ضرورتوں کو سامنے لانے کے قابل نہیں ہے۔ یا کم از کم ایسا کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مین اسٹریم میڈیا پر مباحث اور مناظروں میں صرف وہ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو دیکھے بھالے ہیں اور ایک دوسرے پر حرف زنی کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں، پارٹی پروگروام یا ایجنڈے پر بات کرنے والے نمائندے تیار کرنے کی بجائے ایسے جنگجو تیار کرتی ہیں جو کسی بھی ٹیلی ویژن ٹاک شو میں جا کر فریق مخالف کی فقرے بازی کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پروگراموں کے میزبان خود ہی فریق اور منصف بننے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تصادم کی موجودہ فضا کو بگاڑنے میں ملک کا میڈیا اہم ترین بلکہ بدترین کردار ادا کر رہا ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ جہاں ایک یا دوسرے فرد یا گروہ کے حامی و مخالف ہر طرح کی پابندی سے آزاد، اخلافیات ہی نہیں عقل و دانش سے عاری گولہ باری میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ ماحول اہم ترین قومی معاملات کو نظر انداز کرنے کا باعث ہی نہیں بن رہا بلکہ انہیں بگاڑنے اور آنے والے برسوں یا نسلوں کےلئے نئے مسائل کی بنیاد رکھنے کا سبب بھی ہے۔ درپیش مسائل کو اگر آج سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی تو کل ان کی پیچیدگی اور سنگینی میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

اس وقت ایک سچ عمران خان اور ان کے ساتھی بیان کر رہے ہیں کہ اگر ملک کا وزیراعظم یا ان کا خاندان بدعنوانی میں ملوث ہے تو اسے حکومت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ یہ ایک اعلیٰ اصول ہے لیکن احتساب کا یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے یہ اہتمام کرنے کا ہوش نہیں رہتا کہ الزام کی زد میں آئے ہوئے ہر شخص کو خواہ وہ ملک کا وزیراعظم ہو یا ادنیٰ شہری، اپنا دفاع کرنے اور صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اور نہ یہ تسلیم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ اگر عدالتی طریقہ کار پر بھروسہ کر لیا گیا ہے تو عدالت کے ججوں کو فیصلہ کرنے کا حق بھی دے دیا جائے۔ یہ انتظار کر لیا جائے کہ ایک ’’بدعنوان‘‘ حکمرانوں کے بارے میں عدالتی کارروائی کس انجام کو پہنچتی ہے اور کیا اس میں انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ اس کی بجائے ہر مرحلہ پر خود کو درست اور نواز شریف کو بدعنوان بلکہ چور قرار دیتے ہوئے ان سے نہ صرف عہدہ چھیننے کا اعلان کیا جاتا ہے بلکہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا اڈیالہ جیل جانا ہوگا۔ انصاف نافذ کرنے کے اسی جوش میں جب ایک اعلیٰ سرکاری افسر دستاویزات میں رد و بدل کرنے کے الزام ۔۔۔۔ (واضح رہے ظفر حجازی پر ابھی صرف الزام عائد ہؤا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے، فیصلہ صادر نہیں کیا) ۔۔۔۔ میں گرفتاری پر تو تبدیلی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں لیکن اسی ملک کی عدالتوں سے دہشت گردی اور سرکاری املاک پر حملہ کے الزام میں گرفتاری کے احکامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ’’حوصلہ ہے تو گرفتار کر لیا جائے‘‘۔ گویا معاملہ قانون کی بالادستی کا نہیں ہے بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون کس وقت اس کا کان مروڑ سکتا ہے اور ناک کو اپنی مرضی کے رخ پر کر سکتا ہے۔

دوسری طرف نواز شریف ہیں۔ موصوف تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی جمہوری حکومت کو گرانے کےلئے سازش کی جا رہی ہے۔ البتہ وہ اور ان کے ترجمان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ سازش کون اور کیوں کر رہا ہے۔ کیونکہ بطور وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ 4 برسوں میں ایسا کوئی متنازعہ یا ڈرامائی اقدام نہیں کیا ہے کہ ریاست کے بعض طاقتور اداروں یا عالمی قوتوں کو ان سے کوئی اندیشہ لاحق ہو سکتا ہو۔ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سے تین نسلوں کا حساب مانگا جا رہا ہے اور یہ کہ یہ سارا ذاتی کاروبار ہے اور انہوں نے کبھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر ان دعوؤں کو بالکل اسی طرح درست مان بھی لیا جائے تو بھی یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ طویل جلاوطنی اور ماضی میں قائم مقدمات کی روشنی میں تیسری بار وزیراعظم بننے سے پہلے انہوں نے اس بات کا اہتمام کیوں نہیں کیا کہ ان کے اور خاندان کے مالی معاملات کے بارے میں سب شبہات کو رفع کر دیا جائے۔ وہ وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی یہ حکم دے سکتے تھے کہ ماضی میں ان پر عائد تمام الزامات کا شفاف جائزہ لینے کےلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔ تا کہ وہ خود بھی ان الزامات سے گلو خلاصی حاصل کر لیتے ، مخالفین انہیں مطعون کرنے اور دشمنوں کو سازشیں کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔ لیکن سیاست اور امور مملکت میں طویل تجربہ رکھنے کے باوجود نواز شریف ایسا انتظام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جو مستقبل میں بھی سیاسی رہنماؤں کے لئے ایک اہم اصول اور مثال کی حیثیت اختیار کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس وہ خود پر اور اپنے بچوں پر عائد الزامات کا جواب قانونی موشگافیوں اور سیاسی ہتھکنڈوں میں تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نواز شریف کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ان کے استعفیٰ دینے سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اقتدار میں رہنے پر اصرار کرکے جمہوریت کےلئے خطرہ بن رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ملک میں جمہوری روایت ابھی بے حد کمزور ہے۔ فوج میں ایسے عناصر موجود ہیں جو حالات تبدیل ہوتے ہی جمہوری حکومت ختم کرنے کےلئے دلیل دینا شروع کر سکتے ہیں۔ 2014 میں یہ صورتحال پیش آ چکی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ عہدے پر برقرار رہنے پر اصرار کیا جائے بلکہ جمہوری نظام کے تسلسل کےلئے تدبر، فہم اور ایثار سے کام لیتے ہوئے اپنی پارٹی کے اقتدار کو محفوظ بنایا جاتا۔ لیکن جب حکومت کا مقصد ذاتی اقتدار ہو جائے تو خود پر اٹھنے والی ہر انگلی نظام کےلئے خطرہ ہی دکھائی دینے لگتی ہے۔ اسی لئے نواز شریف کو اپنی ذات پر ہونے والی نکتہ چینی دراصل نظام اور جمہوریت کے خلاف سازش لگتی ہے۔

ان حالات میں ساری قوم اپنی اپنی مرضی کا فیصلہ سننے کےلئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کر رہی ہے۔ سب فریق یہ کہہ رہے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو مانا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ جو بھی ہو ملک کی سیاسی قوتیں اپنی اپنی ڈگر پر ہی چلیں گی۔ عمران خان، نواز شریف کے استعفیٰ کےلئے دھرنا دیں گے، مظاہرے کریں گے اور الزام لگائیں گے۔ نواز شریف عہدہ سے ہٹانے جانے کی صورت میں سیاسی شہید بن کر بڑی جے آئی ٹی یعنی عام انتخابات میں خود یا اپنے کسی قریبی کو وزیراعظم بنوانے کی کوشش کریں گے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا اور اس سے تنازعہ ختم ہو جائے گا، سخت غلطی پر ہیں۔ یہ تنازعہ شاید فیصلہ آنے کے بعد زیادہ شدید ہو جائے گا۔ اعلان تو یہ ہے کہ قانون سربلند ہو اور انصاف کا بول بالا ہو لیکن قانون یا انصاف چونکہ تنازعہ کے سب فریقوں کی خواہشات پوری نہیں کر سکتا، اس لئے اس کی حیثیت ایک ہتھکنڈہ یا ڈھکوسلہ سے زیادہ نہیں ہے۔

اسی لئے تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) مل کر نہ انتخابی اصلاحات کے پروگرام پر کام کریں گی اور نہ 62، 63 جیسی ناجائز اور بے مقصد شقات کو آئین سے حذف کرنے کےلئے تعاون کریں گی بلکہ ایک دوسرے کو جھوٹا ثابت کرنے کےلئے انہی شقات کو عدالتوں میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کو نافذ اور انصاف کو سربلند کرنے کے نعرے لگاتی رہیں گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali