تہذیب کا وقائع نگار نہ رہا
محاورے میں یونہی کہتے ہیں کہ ابھی کل کی بات ہے۔ بات برسوں کی چلی آتی ہے۔ جب علی افتخار جعفری ہمارے اردگرد، پھرتا پھراتا ملنےآجاتا تھا، (اب نہیں آتا)۔ ایک شام آیا، بات چلی تو پوچھا "تم نے نیّر مسعود کو پڑھا ہے؟” مَیں نے نفی میں جواب دیا ، کہنے لگا عجیب احمق آدمی ہو، "اور اسد محمد خاں کو” جی نہیں، اب تو اُسے غصہ آیا، کمرے سے باہر نکلا، گاڑی تک گیا اور واپس چلا آیا۔ اُس کے ہاتھ میں دو تین کتابیں تھیں، "یہ لو، مکالمہ کے اِن دونوں شماروں میں اسد محمد خاں کی کہانیاں چھپی ہیں، اور یہ بھی لو، یہ "طاؤس چمن کی مَینا” نیّر مسعود کی کہانیوں کا مجموعہ۔۔۔۔۔
تو جناب نیّر مسعود سے میرا تعارف جعفری نے یوں کروایا۔ میں نے جعفری کے جانے کے بعد "طاؤس چمن کی مَینا” کو پڑھنا شروع کیا، بائی کے ماتم دار، اہرام کا میر محاسب، نوشد دارو، نُدبہ، رے خاندان کے آثار، تحویل، بُن بست ۔۔۔۔ کتاب نے مجھے نہیں چھوڑا، اگلے دن میں کتاب سرائے پہنچا اور مجھے وہاں سے "عطرِ کافور ” مل گئی، "سیمیا” مجھے نیا ادارہ سے ملی، کیوں کے قوسین کا بقیہ مال وہیں پڑا تھا ۔۔۔۔۔
2008 میں محترم ڈاکٹر آصف فرخی نے "گنجفہ” چھاپ دی۔۔۔۔ نیّر مسعود کی کہانیوں میں عجب سحر تھا، جو بطور قاری مجھ پر مسلسل طاری تھا، ہاں اُن کی تنقید ویسی کارگر نہیں لگی۔ نیّر مسعود کہانی کہتا تھا، سُناتا تھا، بیان کرتا تھا، اُس کے بیان میں ایک جادو تھا، مجھے کبھی نہیں لگا کہ وہ کہانی لکھتا ہے، نثر پر قدرت اُس کی وراثت تھی اور کہانی کا بیان اُس کی تہذیب، تعلیم کی چاشنی فارسی سے مِلی ہو تو نیّر مسعود کے بیان میں جادو اور مناظر میں سِحر دَر آنا، کوئی عجب بات نہیں ۔۔۔۔۔
اُستاد گرامی ڈاکٹر سہیل احمد خاں کے کمرے میں خاموشی تھی، میں دم سادھ کے بیٹھا تھا، مجھ سے کہنے لگے، "اسائینمنٹ کس پر بناؤ گے؟ میں نے عرض کیا، فکشن کا کوئی موضوع دیکھتا ہوں، بولے نہیں شاعری پر بھی بناؤ ۔۔۔۔۔ میں خاموش رہا، تو گویا ہوئے،اختر الایمان کی شاعری دیکھو، میں نے حامی بھری تو پوچھنے لگے، فکشن میں کس پر بناؤ گے؟ میں نے جھٹ سے جواب دیا”نیّر مسعود پر”۔۔۔۔۔۔ خوش ہوئے اور کہنے لگے جلد بنا کر لے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کل کی بات ہے ۔۔۔۔۔۔
اُستاد گرامی سہیل احمد خاں، اچانک دور کی بستیوں میں جا بسے، جعفری کی کوئی خبر نہیں۔۔۔۔۔۔۔ اور اب، نیّر مسعود بھی نہیں رہے ۔۔۔۔۔

