پاکستان کے ستر سال: ریاست کا صنفی کردار

گو کہ پاکستان کا آئین عورت کے خلاف امتیاز کی اجازت نہیں دیتا مگر اسکے خاتمے کی کوئی ضمانت بھی نہیں دیتا ۔ عورتوں کو مساوی حقوق اور تحفظ کا آئینی حق صرف ایک رسمی شق تک محدود ہے۔ درحقیقت عورتوں کی اکثریت جتنی معاشی محتاجی، سماجی اور ثقاتی پسماندگی کا شکار ہیں، وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں ہیں کہ اِن رسمی حقوق کو حاصل کر سکیں، اور نہ ہی ریاست اور حکومت نے اِس آئینی وعدے پر عملدرآمد کے لئے کوئی ضروری اقدامات اُٹھائے ہیں۔
پاکستان کی ریاست نے پچھلے 70 سالوں میں صنفی مساوات کے لئے جو أئینی اور قانونی اقدامات کئے اُس کا کُل تخمینہ یوں ہے: اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں میں عورتوں کی مخصوص نشستیں، ویمن کمیشن اور عورتوں کی ترقی کی وزارت کا قیام، بالائی طبقے کی چند عورتوں کو سیاسی اور حکومتی عہدے ، فیملی لاء اور فیملی کورٹ کاقیام ، چند بڑے شہروں میں ویمن پولیس ڈیسک، ویمن سٹڈی سینٹرز اور ویمن بنک کا قیام ، عورتوں پر تشدد اور جنسی ہراسگی کی روک تھام کے لئے قانونی طریقہ کار میں چند تبدیلیاں ، اور سرکاری اداروں میں عورتوں کی ملازمت کا محدود کوٹہ۔ اِن سطحی اقدامات میں سے زیادہ تر فوجی ڈکٹیٹروں نے دنیا کو اپنا سافٹ امیج دکھانے کے لئے کئے، اور وہ بھی مؤ ثر جمہوری نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے فعال اور سرانجام نہیں کی جا سکیں ۔ عورت کی صورتحال اس بات کی گواہ ہے کہ یہ اقدامات عورت کی غلامانہ حیثیت کے ڈھانچے کو ختم کرنے اور عورت کو صنف، قوم ، طبقے اور مذہب کی بنیاد پر درپیش جبر و استحصال کا حل پیش نہیں کرتے، بلکہ اُلٹا لمبے عرصے تک اِسے برقرار رکھنے میں آلہ کار رہے ہیں۔
ویسے تو ہمارے سماج میں عورت دشمن روایات کو ہمیشہ مذہب کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور صنفی تفریق کو قدرتی اور مذہبی رنگ دیا جاتا ہے۔ مگراسلامائزیشن کی پچھلی چار دہائیوں کے دوران ریاستی سطح پربھی عورت کے پہلے سے محدود حقوق اور سماجی درجے کے خلا ف منظم طور پر بھرپور رجعتی مہم چلائی گئی، خاص طور پر مذہب کی مخصوص تاویلات کی بنیاد پر بیشمار امتیازی قوانین بنائے گئے۔ مثال کے طور پرقانونِ شہادت اور دیت میں عورت کی گواہی آدھی کر دی، اور مقتولہ کے رشتے داروں کو خون بہا کی ادائیگی اور قاتل کو معافی کے اختیار کو ریاستی پشت پناہی دی۔ حدود کے قوانین بنا کر عورتوں پر جنسی حملے کرنے والوں کو ریاستی تحفظ دیا گیا۔ عورت کے عوامی مقامات پر کھلینے پر پابندی لگائی گئی۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں ا سلامی لباس لازمی قرار دیا گیا۔ اسلامائزیشن کے دفاع کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت کورٹ بنائے۔ جنرل ضیاء کے بنائے گئے اِن قوانین اور ضابظوں کے خلاف شہری عورتوں کی طرف سے زبردست مزاحمت آئی مگر ضیاء کے مرنے کے بعد جمہوری حکومتوں میں دم توڑ گئی۔ جاگیرداری اور مرد کی بالادستی کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرنے والےِ ۱سلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت آج بھی اِس سب کے دفاع کے لئے موجود ہیں۔ جمہوریت سے متصادم یہ قوانین اور ادارے عورت کی انسانی حیثیت اور مساوی حقوق کے لئے جدوجہد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
ریاست مذہبی فاشزم کے ذریعے طبقاتی، قومی اور صنفی جبر سے آزادی کی تحریکوں کا رستہ روکتی رہی ہے، اور سماج کو عمومی طور پر پسماندگی اور جہالت میں دھکیل رہی ہے۔ تمام عورت مخالف مذہبی بنیاد پرست دہشت گرد تنظیموں کو فوج اور بنیاد پرست سیاسی پارٹیوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور دوسری پاپولسٹ سیاسی پارٹیاں اپنے طبقاتی مفادات کی وجہ سے اِن قوتوں کی مخالفت ہی نہیں کرتیں۔
عورت مخالف صنفی ذہن سازی اس ریاست کا خاصہ رہا ہے۔ سرکاری میڈیا اور سرکار سے لائسنس یافتہ پرائیویٹ میڈیا ہاؤسز عورتوں کی تصویروں ، اشتہاروں اور فلموں سے تو سالانہ اربوں روپے کماتے ہے لیکن صنفی مساوات کے سوال پر مجرمانہ طور پر خاموش ہیں کیونکہ میڈیا ہاؤسز خود اِسی منافع خور نظام کے ہونے سے ہیں اور کما رہے ہیں۔ اوپر سے کیبل کے نظام سے شہروں میں ٹی وی پردکھائے جانے والے عورت کے کرداروں کی دیکھا دیکھی اکثر شہری لڑکیاں بھی ان کرداروں کی طرح مرد کی گڑیا بننے کی متمنی ہو جاتی ہیں۔ ملکی خزانے سے رقوم فوج اور حکومت کرنے والی اشرافیہ اور ڈکٹیٹروں کا امیج بہتر کرنے کے لئے اشتہاری پرگراموں اور فلموں پر خرچائے جاتے ہیں مگر عورتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف سرکاری مہم پر نہیں۔ عورتوں میں قدامت پرستی پھیلانے کے لئے بھی کئی تبلیغی چینل چل رہے ہیں ۔ درسی کتب نجی ملکیت اور تجارت کی تقدیس کے قصوں ، مذہبی منافرت، اور مردوں کی برتری اور بالا دستی پر مبنی نظریات سے بھری ہیں۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری لائبریریاں دقیانوسی، رجعتی اور جنس پرستی پر مبنی کتابوں اور رسائل سے بھری ہوئی ہیں۔
پاکستانی ریاست نہ صرف پاکستان میں صنفی جبر، عورتوں پر تشدد اور جنسی جرائم میں ملوث رہی ہے بلکہ ہمسایہ ممالک میں بھی اِن جرائم میں ملوث رہی ہے۔ پاکستان کی ریاست نے افغانستان میں صنفی مساوات پر مبنی ثور انقلاب کو گرانے میں بہت بڑا عسکری اور سیاسی کردار ادا کیا۔ اُس کے بعد افغان عورتوں کے ساتھ جو ہوا، اُس بربریت کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران دو لاکھ سے زیادہ عورتوں کو ریپ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو اغوا کر کے فوجی کیمپس میں رکھا گیا جہاں اِن عورتوں پر مظالم ڈھائے گئے۔ ان مظالم میں جماعت اسلامی کے البدر اور الشمس کے دستے شریک تھے۔ ریاست نے آج تک پاکستان میں ریپ اور غیرت کے نام پر عورت کے قتل کے کسی مجرم کو سزا نہیں دی اور یہ عورت کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی تباہ کُن نظیر ہے۔ ریاست عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں مجرموں کے ساتھ ایک فریق کے طور پر کھڑی ہے۔ گھریلو تشدد تو بلا تفریق طبقہ ہر عورت کا مسئلہ ہے مگر ریاست اسے” جرم” ماننے کو تیار نہیں۔ عورتوں پر جنسی تشدد عام ہے جبکہ ریاست ریپ ثابت کرنے کے لئے چار مرد گواہ مانگتی ہے ، وہ بھی باکردار چشم دید گواہ، جو کہ ناممکن بات ہے۔
پاکستان کا آئین تضادات کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف لکھا ہے کہ جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جائے گا، مگر دوسری طرف عورتوں کی زندگی سے جُڑے تمام ریاستی قوانین، پالیسیاں اور اسکا ہر فِقہ ء صنفی امتیاز اور جبر پر مبنی ہیں۔ سارا کا سارا ریاستی نظام اوپر سے نیچے تک، مقننہ سے لیکر عدلیہ اور ایکزیگٹیو تک نہ صرف صنفی امتیاز پر مبنی ہے بلکہ ایک مضبوط پدر شاہی قلعہ ہے۔ پدر شاہی اِس جنگ پرست ، منافع خوری پر مبنی اور مذہبی قدامت پرستانہ ریاست کی بنیادی ضرورت رہی ہے ، اور اسکی نظریاتی اساس کے خمیر میں عورت سے غُلامی اور اپنے مساوی حقوق سے دستبرداری کا زبردست جبری تقاضا موجود ہے۔ أئین، قانون اور ریاست کے تمام ستوُن مرد کی بالادستی کو قائم اور فعال رکھنے میں مکمل طور پر مُلوث ہیں۔
اِس آئین، ریاستی نظریات و ڈهانچه، اورقوانین کو ترقی پسند بنیادوں پر اُستوار کئے بغیر صنفی مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی سماج کا قیام ممکن نہیں .

