امریکہ سے ناراض پاکستان تعاون جاری رکھے گا!


پاکستان کے سیاسی محاذ پر معزول وزیراعظم نواز شریف کی مہم جوئی اور سفارتی محاذ پر امریکہ کے بدلتے ہوئے تیور کے خلاف پاکستانی حکومت و فوج کے سفارتی رویہ میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔ جس طرح بعض حلقے نواز شریف سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مصالحت اور محاذ آرائی کے درمیان راستہ اختیار کرنے کی سعی لاحاصل کو ترک کرکے براہ راست فوج کو موجودہ سیاسی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیں اور واضح کریں کہ اب ان کی سیاسی جدوجہد سیاست میں فوج کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کےلئے ہوگی۔ جب تک سابق وزیراعظم یہ حوصلہ نہیں کرتے اور جب تک وہ مرکز اور پنجاب میں حکمرانی کے مزے بھی لوٹنا چاہتے ہیں لیکن جلسوں اور انٹرویوز میں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی کہانی سنا کر ہمدردی بھی حاصل کرنا چاہیں گے، وہ کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بعینہ دو روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے ایک طرف حسب سابق الزامات کو مسترد کیا ہے لیکن دوسری طرف افغانستان میں امن کےلئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہنے کا وعدہ بھی دہرایا ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات میں ایک بار حوصلہ کرکے دل کی بات زبان پر لانے میں کیا ہرج ہے کہ :’’امریکہ بہادر اگر ااپ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہیں گے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کردار ادا نہیں کریں گے تو پاکستان بھی افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں آپ کی کیوں مدد کرے‘‘۔

یہ کھرا اور دو ٹوک جواب ہی پاکستان کا موقف واضح کر سکتا ہے۔ لیکن پاکستان نے گزشتہ دو دہائی کے دوران افغانستان کے مختلف گروہوں کے ساتھ جس طرح مراسم استوار کئے ہیں اور جب تک وہ ایک ایسے افغانستان کی تشکیل کا خواب دیکھتا رہے گا جو پاکستان نواز ہو اور اس مقصد کےلئے عوامی رابطوں، سیاسی مفاہمت اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی بجائے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بھارت کے ساتھ پاکستان کے مراسم کے تناظر میں دیکھنے اور معاملات طے کرنے کی حکمت عملی جاری رکھی جائے گی تو صورتحال میں قابل ذکر تبدیلی رونما نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی فوج ملک کی سیاسی حکومت کے ساتھ مل کر اگر تصادم کی بجائے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مفاہمت اور لین دین کے اصول پر چلنے کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر سکے، تب ہی امریکہ کا غرانا کم ہو سکتا ہے اور اسی صورت میں نئی دہلی بھی پاکستان کو اپنے لئے براہ راست خطرہ سمجھنے کی بجائے یہ ماننا شروع کرے گا کہ پاکستان اب تصادم ، تنازعہ اور جنگ کی بجائے امن ، مفاہمت اور مصالحت کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ہرگز یہ باور کروانا مقصود نہیں ہے کہ بھارت اس سارے معاملہ میں بے قصور ہے۔ بھارت نے بھی افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے اور عالمی سفارتی محاذ پر جہاں تک ممکن ہے پاکستان کا قافیہ تنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ مشرقی افغانستان میں موجود پاکستان دشمن دہشت گرد گروہوں اور بلوچستان کے قوم پرست عسکری گروپوں کی مدد اور تربیت کے ذریعے بدستور پاکستان کے امن و امان کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسی لئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے آج واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ امن قائم کرنے کےلئے کام کرے اور پاکستان کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ بنے۔

پاکستان سے جب تصادم کی بجائے مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس کا پس منظر گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران پاکستان کی طرف سے سامنے آنے والا رویہ ہے۔ یہ رویہ افغانستان کے حوالے سے بھی واضح ہے۔ اور بھارت کے معاملہ میں بھی اس کے شواہد سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگرچہ پالیسی اعلان کے مطابق پاکستان نہ تو افغانستان میں کسی بدامنی میں ملوث ہے اور نہ ہی وہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی قسم کی شورش کا ذمہ دار ہے۔ لیکن افغانستان میں حالات کی خرابی کی ساری ذمہ داری امریکہ پاکستان پر عائد کر رہا ہے اور بھارت مسلسل یہ دعوے کرتا رہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج سے لے کر عسکری حملوں تک میں پاکستان ملوث ہے۔ ان الزامات سے انکار کرکے خود کو تو مطمئن کیا جا سکتا ہے لیکن عالمی رائے عامہ اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ پاکستان اسی مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکی صدر کی افغان پالیسی کے بارے میں تقریر افغانستان میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں کم اور پاکستان پر الزامات کے حوالے سے زیادہ تند و تیز تھی۔ اس تقریر سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ امریکی صدر کا واضح پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو مجبور کئے بغیر امریکہ کےلئے افغانستان میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان اس جنگ میں اس قدر اہم ہے تو دنیا بھر میں اسے مطعون کرکے کون سے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اور یہ کیسے تصور کر لیا جائے کہ دباؤ بڑھانے اور پاکستان کو برا بھلا کہنے سے حالات تبدیل ہو جائیں گے۔ اسی لئے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیات کے اعلیٰ اجلاس میں نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا گیا ہے بلکہ امریکہ پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان پر الزام تراشیوں سے افغانستان کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔

جس طرح صدر ٹرمپ کا تند و تیز لب و لہجہ دراصل امریکی عوام کو مطمئن کرنے کےلئے اختیار کیا گیا تھا اسی طرح پاکستانی قیادت کی طرف سے الزامات مسترد کرکے امریکہ کو نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ حکومت امریکہ کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور قومی سلامتی و مفادات کی ہر قیمت پر حفاظت کی جائے گی۔ اسی اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امریکہ کو جو پیغام دیا گیا ہے وہ ان نکات پر مبنی ہے:

1) جنگ افغانستان کے مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اس کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ پاکستان اس حوالے سے ماضی میں خدمات سرانجام دیتا رہا ہے۔

2) پاکستان نے اپنے ملک میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے اسی لئے اب ملک میں امن بحال ہوا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔

3) پاکستان دیگر ملکوں کے شہریوں کو اپنے شہریوں ہی کی طرح مقدم سمجھتا ہے۔ اس لئے پاک سرزمین کو کسی بھی ملک میں فساد پھیلانے کےلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

4) البتہ پاکستان کے پڑوسی ملک اس حکمت عملی پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ اس لئے امریکہ افغانستان میں پاکستان دشمن گروہوں کا خاتمہ کرے اور بھارت پاکستان میں تخریب کاری سے باز آ جائے۔

5) امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد نہیں دی ہے۔ بلکہ یہ رقم زمینی و فضائی حدود میں حاصل کی جانے والی سہولتوں کے معاوضہ کے طور پر ادا کی گئی ہے۔

گویا الزامات مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی ڈگر پر قائم رہے گا اور اس کے نزدیک یہی بہتری اور علاقے میں استحکام کا راستہ بھی ہے۔ اصل مسئلہ بھارت کی طرف سے پیدا ہوتا ہے جو ایک طرف اپنے سب ہمسایہ ملکوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے سے انکار کرکے علاقے میں عدم استحکام کا سبب بنا ہؤا ہے۔ جو بات پاکستان امریکہ کو گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں سمجھا سکا تو کیا وہ اب بھارت کے خلاف اس کے موقف کو تسلیم کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ اب تو امریکہ بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا کر ایک طرف بحر ہند میں اس کی طاقت میں اضافہ کروانا چاہتا ہے تو دوسری طرف افغانستان میں مزید مستعد ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ بیشتر ماہرین ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کو لاعلمی کی بنیاد پر استوار قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔ عام خیال ہے کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھا کر اور پاکستان کو ناراض کرکے امریکہ اس مشکل سے نہیں نکل سکے گا۔ البتہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو صدر ٹرمپ کی تقریر میں بعض نئی باتیں بھی نظر آئی ہیں اور وہ ان کی کامیابی کی امید بھی کرتے ہیں۔

حسین حقانی کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے افغانستان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہنے کا اعلان کرکے پاکستانی فوج کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ امریکہ افغانستان سے نکلے گا تو وہ کابل پر اپنی حکمرانی قائم کرلے گی۔ دوسرے امریکہ نے بھارت کو افغانستان میں زیادہ سرگرمی دکھانے کی دعوت دے کر پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب پاکستان کو یقین ہو جائے گا کہ بھارت افغانستان میں پہنچ گیا تو وہ دو طرف سے دشمن کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ حقانی کا خیال ہے کہ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ امریکہ نواز اور پاک فوج سے رنجش رکھنے والے ایک تجزیہ نگار کی رائے ہے۔ کیونکہ امریکہ افغانستان میں طویل مدت قیام تو کرنا چاہتا ہے لیکن وہ مسلسل جنگ کی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتا جس کے نتیجے میں ہر ماہ نئے تابوت افغانستان سے امریکہ روانہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ خواہ بھارت کےلئے افغانستان میں جیسے بھی سازگار حالات پیدا کرے، وہ اس علاقے میں چین ، روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مفادات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

صدر ٹرمپ کی تقریر کے فوری بعد چین نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ 2001 میں افغانستان کی جنگ جیت سکتا تھا تاہم طویل المدت اسٹریٹجک مفادات کی خاطر اس جنگ کو طول دیا گیا۔ 2017 میں حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں جب تک سب فریقوں کی ضرورتوں اور مفادات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک افغان سرزمین پر شورش اور بدامنی کے حالات ختم نہیں ہو سکتے۔

اس لحاظ سے پاکستانی قیادت کی یہ بات درست ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے آج پریس کانفرنس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امریکہ شمالی کوریا کی طرح پاکستان کو بھی دنیا میں تنہا کرنے کےلئے کام کرے گا۔ یہ بیان ایک طرف پاکستان کےلئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتا ہے تو دوسری طرف امریکہ کی سادہ لوحی اور زمینی حقائق سے لاعلمی کا اظہار بھی ہے۔ ایسی امریکی قیادت کیوں کر افغان جنگ کو ختم کرنے اور وقت آنے پر طالبان سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کر سکے گی۔ اعلیٰ سفارت کاری میں مناسب وقت کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ مشکل وقت کو اپنے لئے بہتر بنانے کی تدبیر کی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali