ٹرمپ کیا کرنے والے ہیں؟


آصف زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں ایک بار ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا، ڈرون کوئی چیل نہیں، مار گرائیں تو اس کے بعد کیا ہو گا؟

چودھری نثار نے بطور وزیر داخلہ اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ملک میں مجھ سمیت صرف چار پانچ لوگوں کو پتہ ہے کہ پاکستان پر ایک بڑے خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق اپنے پالیسی بیان میں پاکستان کو بہت واشگاف لفظوں میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے، ہم اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے ان دہشتگردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، پاکستان کے اس رویے کو تبدیل ہونا چاہئے اور بہت جلد تبدیل ہونا چاہئے۔
ممتاز دانشور اور صحافی ایاز امیر نے صدر ٹرمپ کی پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ بالکل امریکہ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہئے لیکن ہمیں بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسامہ بن لادن اور ملا منصور امریکہ کو کہاں سے ملے تھے؟ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ہماری بات نہیں سنتا۔

اگلے روز افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے کہا کہ افغان طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں پناہ لئے ہوئے ہے۔

سابق صدر مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی ایئرفورس ڈرون کو مار سکتی ہے لیکن اس کے بعد اگر اگلا ڈرون امریکی ایئر فورس کے کور کے ساتھ آ گیا تو پھر؟

ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ افغانستان پر حملے سے قبل امریکہ نے بار بار طالبان حکومت سے کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو پناہ دینے سے انکار کر دے، انہیں اپنے ملک سے نکال دے مگر طالبان حکومت نے امریکہ کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر خودمختار ملک کو اپنے غلط یا درست فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاہئے لیکن پھر آپ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اپنی آزادی اور خودمختاری کو برقرار رکھنا غریب، ٹیکنالوجی سے عاری اور کمزور ممالک کیلئے خاصا مہنگا شوق ہوتا ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو اپنے گھوڑے اور لشکر تیار رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم کی وجہ یہ بتائی ہے کہ ایسا اس لئے کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر اور خدا کے دشمنوں پر تمہاری دھاک بیٹھ سکے۔ پھر ایک اور جگہ بھی مسلمانوں سے اپنے خیموں کی طنابیں مضبوط رکھنے کو کہا گیا ہے۔

ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے میں مطلق کوئی غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ روایتی جنگی صلاحیت کے تناظر میں ہم بھلے افغانستان سے بدرجہا بہتر ہوں گے لیکن امریکی ایئر سٹرائیک کے سامنے شاید ہم میں اور افغانستان میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ یقین نہ آئے تو ایبٹ آباد آپریشن کو یاد کر لیں۔

ابھی تو فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف سالہا سال سے اندرون ملک لڑی جانے والی جنگ کا آخری معرکہ بھی خود لڑنا ہے یا کسی اور کو کوئی غلط موقع فراہم کرنا ہے۔ ہمیں یا تو اونٹ پالنے کا شوق نہیں پالنا چاہئے اور یا پھر اپنے گھروں کے دروازے اونچے کرنے چاہئیں۔ تھوڑے کو بہت جانیں۔ تار کو خط سمجھیں کہ علقمند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور بے عقلوں کیلئے سب کچھ ناکافی ہوتا ہے۔ ٹرمپ کیا کرنے والے ہیں، یہ تو ہم قبل از وقت نہیں جان سکتے لیکن ہم نے کیا کرنا ہے، یہ فیصلہ تو ہم کر ہی سکتے ہیں نا؟ ماہرین نفسیات کی سب سے بڑی کونسل، امریکی سائیکاٹری کونسل جس میں لگ بھگ 32 نفسیاتی مکاتب کے ماہرین شامل ہیں، صحیح الذہنی اور دماغ کے خلل کی تعریف کچھ یوں بیان کرتی ہے، ‘کسی بھی نئے ماحول سے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ بہتر مطابقت پیدا کرنا صحیح الذہنی جبکہ کسی نئے ماحول سے زیادہ سے زیادہ وقت میں کمزور سے کمزور مطابقت پیدا کرنا دماغ کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے’۔ وقت بدل گیا ہے، ہمیں بھی بدلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS