دلہن کے دام، منکوحہ گرل فرینڈ اور غدار اسمبلی


تحفظ نسواں اور غدار اسمبلی

پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے عورتوں کو تشدد سے بچانے کے لئے ’تحفظ نسواں‘ نامی ایک قانون پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر عورت پر تشدد ہو اور متعلقہ جج اس بات کو درست تسلم کر لے تو وہ دوسری شرائط کے علاوہ مرد کو گھر سے باہر رہنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے اسے روایتی خاندانی نظام کی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے مشترکہ طور پر مسترد کیا اور اسے رشتوں کو ختم کرنے کا باعث قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام نے جتنے حقوق خواتین کو دیے ہیں، وہ مغرب نہیں دے سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام میں مرد و عورت کے حقوق اور خاندانی نظام کو سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کا کہا اور بتایا کہ یہ قوانین ایسے مغربی معاشرے کے عکاس ہیں جہاں پر خونی رشتوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی ہے اور والدین پر ان کے بچوں اور بچوں پر ان کے والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔

ہمارے ایک عزیز کالم نگار جناب انور غازی صاحب، تحفظ نسواں کے بل پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ

مغربی تہذیب یہ ہے کہ عورتوں سے زیادہ سے زیادہ جنسی تسکین حاصل کی جائے اور کوئی ذمہ داری بھی نہ آئے۔ اور کون نہیں جانتا کہ بے پردگی کے بے شمار نقصانات ہیں۔ گھر تباہ ہوجاتا ہے۔ اس گھر میں سکون نہیں رہتا۔ میاں بیوی میں ہم آہنگی نہیں رہتی۔ دونوں میں بداعتمادی پیدا ہوجاتی ہے۔ اولاد تباہ اور آوارہ ہوجاتی ہے۔ ان کی تربیت نہیں ہوسکتی۔ انہیں والدین کی توجہ اور شفقت بھی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان کی تربیت میں سب سے بڑا حصہ محبت کا ہوتا ہے اور اس گھر میں محبت نہیں رہتی۔ خاندان معاشرے کا بنیادی یونٹ ہے، لہٰذا جب خاندان برباد ہوا تو پورا معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ اس ماحول میں رشتہ داریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ وہاں صرف شہوت پوری کرنا ’رشتہ داری‘ ہوتی ہے‘۔

غازی بھائی، نکاح مسیار میں خاندانی نظام پر بھی روشنی ڈالیں۔ کیا وہی ان سب ’فضائل‘ کا حامل ہے جس کی آپ بات کر رہے ہیں، یا پھر پنجاب اسمبلی کا تحفظ نسواں کا بل ہی یہ سب کچھ کرتا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے میں آئین و اسلام کی خلاف ورزی کرنے والی پنجاب اسمبلی نے تو بس یہی حکم لگایا ہے کہ اگر کسی عورت پر اس کا شوہر ظلم و ستم کرتا ہے تو ریاست اس عورت کی والی وارث بن کر اسے قاضی کے ذریعے بچائے اور ظلم روکنے کے طریقوں پر مبنی احکامات دے۔ اگر کوئی شوہر ایسا ہی مزاج والا ہے ہے کہ غصے سے دیوانہ ہو کر بیوی کو مارنے پیٹنے لگے اور اس امر سے روکنے پر بیوی سے عارضی طور پر الگ کیے جانے پر اسے طلاق دے دے گا، تو وہ جلد یا بدیر یا تو اسے مار ڈالے گا یا طلق دے دے گا۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اسے الگ رہ کر سکون سے سوچنے کا موقع دیا جائے اور اس عرصے میں عورت کو تشدد سے بچا لیا جائے؟ اسلامی میں تین طلاقوں اور رجوع کی مہلت کس لیے دی گئی ہے؟ کیا کوئی اس پر روشنی ڈال سکتا ہے؟

Mar 8, 2016 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “دلہن کے دام، منکوحہ گرل فرینڈ اور غدار اسمبلی

  • 08/03/2016 at 1:02 شام
    Permalink

    محبت والوں کے لیے اچھا موضوع ماں باپ کے لئے لمحہ فکریہ

  • 08/03/2016 at 8:15 شام
    Permalink

    What is the difference between Massiar and civil union then, except the inclusion of the will of the women? What’s the status of the issues (children)? Whether either member of such a couple gets the share of the deceased spouse? And a million dollar question, did this concept evolve out of the needs/constraints of men or out of the wishes and needs of independent and self-sufficient ladies? Plz write more on the topic.

  • 08/03/2016 at 10:36 شام
    Permalink

    بہت عمدہ اور قابل غور ہے۔ یہ فقیہان کرام صدیوں سے اسی کام ہر لگے ہوئے ہیں کہ زنا کے کتنے طریقوں کو جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک مولانا صاحب ہوتے تھے جو خود تو ساری عمر مجرد رہےمگر معاشرے میں پھیلنےوالی بے حیائی کی ذمہ داریلونڈیوں کے خاتمے پر ڈالتے تھے۔ کیا یہ فقیہان کرام اس بات کی وضاحت کرنا پسند فرمائیں گے کہ قرآن حکیم میں نکاح کےلیے حصن کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے کیا معنی ہیں۔

Comments are closed.