میری امی کی کہانی


سوال: ان لوگوں‌ سے آپ کیا کہنا چاہیں گی جو کہتے ہیں کہ بچے زیادہ سے زیادہ پیدا کرو اور ہمارے مذہب میں بچے بند کرنا منع ہے۔
جواب: ایسا کچھ نہیں‌ ہے۔ مذہب سے پہلے انسانیت کو رکھیں، خود سے باہر انسانوں‌ کے دکھ اور تکالیف کو محسوس کرنے کی کوشش کریں۔ دو یا تین سے زیادہ بچے پیدا نہ کریں۔  مذہب کو خود کو اور اپنے معاشرے کو پیچھے رکھنے کے لئیے استعمال کرنے کے بجائے اس کو اپنی اور دوسروں‌ کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئیے استعمال کریں۔
سوال: ایک مڈل کلاس پڑھی لکھی فیملی کے یہ حالات تھے تو غریب اور ان پڑھ افراد کا کیا حال ہو گا؟
جواب: جتنا وقت پاکستان میں گذارا یہی دیکھا کہ بہت زیادہ خراب حالات ہیں اور لوگوں کی توجہ غلط سمت میں‌ ہے۔ یہ ایک لاچارگی کا لمحہ ہوتا ہے جب آپ اپنے سامنے ایک چھوٹے سے بچے کو دیکھ رہے ہیں جو اپنا خیال نہیں کرسکتا اور آپ میں‌ سکت نہیں ہوتی کہ ایک انگلی بھی ہلا سکیں۔ ایسے وقت میں‌ تمہارے ابو بھی دوسرے کمرے میں‌ سوتے تھے۔ اپنی زندگی کے حالات سے سیکھ کر میں‌ نے اپنے بیٹوں کی یہ تربیت کی ہے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اس سے بہتر شوہر بنیں اور بچے پالنے میں‌ باپ کا جو کردار ہونا چاہئیے وہ نبھائیں۔ صرف بچے پیدا کرلینا باپ کا فرض پورا نہیں کرتا۔
سوال: دیسی معاشرے میں‌ لڑکیوں‌ کی تعلیم و تربیت کے بارے میں‌ آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب: میں‌ نے کبھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں‌ میں‌ کوئی فرق نہیں‌ رکھا۔ سب کو برابر کے مواقع فراہم کیے۔ معاشرے میں‌ یہ بہت بڑا تضاد دیکھتی ہوں‌ کہ جان بوجھ کر پہلے دن سے خود لڑکیوں‌ کو پیچھے رکھتے ہیں، کھانے پینے میں‌ فرق، اسکول میں‌ فرق، سہولیات میں‌ فرق اور پھر کہتے ہیں کہ ان کا نصیب اچھا ہو۔ ایسا کیسے ممکن ہے جب کہ آپ نے اپنا سارا زور ان کا نصیب بگاڑنے پر لگایا ہوا ہے؟ شائد وہ یہ دعا دینے میں‌ مخلص نہیں ہیں۔
سوال: کل ہم سب بھابی کی برتھ ڈے پارٹی میں‌ گئے۔ باتوں‌ باتوں‌ میں‌ حسان دوستوں کے سامنے ہنستا ہوا کہہ رہا تھا کہ اس کی وصیت کے مطابق اس کا چھوڑا ہوا سب کچھ بھانجے بھانجیوں کو ملے گا اور اس کی بیوی کو کچھ نہیں۔ میں‌ نے برا محسوس کیا کہ تم اپنی بیوی کے سامنے ایسے کیوں‌ کہہ رہے ہو تو اس نے کہا کہ وہ نوجوان ہے اور ذہین ہے، اسے کالج میں‌ رہنا چاہئیے، اپنی ڈگری مکمل کرنی چاہئیے اور خود اپنے پیروں پر اس طرح‌ مضبوط ہونا چاہئیے کہ وہ میرے چھوڑے ہوئے پیسوں‌ کی فکر سے آزاد ہوجائے۔ یہ سن کر میں‌ حیران ہو کر اس کو دیکھ رہی تھی کہ چھوٹا  بھائی کتنا سمجھدار ہوگیا۔ یہ دونوں‌ لڑکے ایسے کیسے بن گئے؟
جواب: میں‌ ایک روایتی ماں‌ نہیں‌ تھی اور انہوں‌ نے دیکھا کہ تینوں بہنیں‌ پڑھ لکھ کر کس طرح‌ اپنی زندگی میں‌ کامیاب ہوئیں، پھر امریکہ آکر انہوں‌ نے اپنے آپ کو ترقی یافتہ سوچ میں‌ شامل کرلیا۔ ماؤں پر بڑی ذمہ داری ہے، وہی یہ آدمی بناتی ہیں۔
سوال: جب ابو کا انتقال ہوگیا تو پھر کیا ہوا؟
جواب: سارا خاندان امڈ آیا اور طرح طرح‌ کے مشورے دینے لگا۔کوئی کہتا کہ تمہاری اتنی ساری بیٹیاں ہیں اور پیسے بھی نہیں تو ان کی شادیاں کیسے کرو گی؟ میرے والد بار بار کہتے کہ گھر بیچ دو اور چاروں بچے چاروں بھائیوں میں بانٹ دو اور خود ہمارے ساتھ رہو۔ بھائیوں‌ کے اپنے مسائل تھے، وہ میرے بچوں‌ کو کیسے دیکھتے۔ ایک بھابی نے کہا کہ میں‌ نے تمہاری بیٹی کو دودھ پلا دیا اور وہ میرے بیٹوں کی بہن بن گئی ہے اس لئیے یہ نہ سوچنا کہ ان کی بڑے ہوکر آپس میں‌ شادی ہوسکتی ہے۔ ایک سنجیدہ صورت حال کے بیوقوفانہ حل پیش کئیے گئے۔ایک مرتبہ مجھے اتنا برا ڈپریشن ہوگیا کہ چاروں بچوں کے ساتھ دریائے سندھ میں‌ کود کر خود کشی کرنے کے بارے میں سوچنے لگی۔
اپنی زندگی کے تجربے سے مجھے یہ بات سمجھ میں‌ آئی ہے کہ میرے والد یا میرے بھائی انتہائی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اور اتنا وقت دنیا کے مختلف ملکوں میں‌ گذارنے کے باوجود زہنی طور پر کافی پیچھے ہیں، وہ کافی ایسی باتیں‌ نہیں سمجھتے جو میں نے ان سب سے عمر میں‌ کم ہوتے ہوئے اپنی زندگی کے تجربوں‌ سے سمجھ لیں۔
سوال: آپ کے اردگرد پڑوسی اور رشتہ دار آنٹیاں اپنی بیٹیوں کی شادیاں‌ کرانے میں‌ لگی ہوئی تھیں۔ آپ کے زہن میں‌ اپنی بیٹیوں‌ کو کالج بھیجنے کا خیال کیسے آیا؟
جواب: چونکہ بھائی سارے پڑھتے تھے اور گھر میں‌ کتابیں‌ اور رسالے ہوتے تھے، میں‌ نے بہت چھوٹی عمر سے پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ کسی پڑیا میں مسالہ آیا، یا اخبار میں‌ روٹیاں، یا کوئی کتاب ہاتھ لگی تو ان کو باتھ روم میں‌ چھپ کر پڑھتی تھی۔ ایک رسالہ نکلتا تھا جس کا نام سیربین تھا، وہ آدھا انگلش میں‌ اور آدھا اردو میں ہوتا تھا۔ اس میں تصویریں‌ بھی ہوتی تھیں جن میں‌ بچے صاف ستھرے کپڑے پہن کر اسکول جارہے ہیں۔ اس سے مجھے پتا چلتا تھا کہ سکھر سے باہر بھی ایک بڑی دنیا ہے اور تعلیم کے دروازے سے زندگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ اس لئیے سامنے کوئی راستہ دکھائی نہ بھی دیتے ہوئے، خود اپنے بچوں‌ کے لئیے یہ راستہ بنانے کی کوشش کی۔ ان خواتین کی باتیں سنتے ہوئے میری خواہش تھی کہ ایک دن میری بیٹیاں بڑی ہوکراپنے پیروں پر کھڑی ہوجائیں اوران کے بیٹوں سے شادی کرنے سے انکار کردیں۔ ان تمام مسائل اور بدسلوکی کی ایک بڑی وجہ مجھے یہ نظر آتی تھی کہ اگر میرے
پاس اپنی نوکری اور پیسے ہوتے تو لوگوں‌ کا رویہ میرے ساتھ بہتر ہوتا۔
سوال: آپ پچھلے پچیس سال سے امریکہ میں‌ رہ رہی ہیں۔ یہاں‌ آپ کو رہنا کیسا لگتا ہے؟
جواب: بہت اچھا۔ میرے بچوں‌ نے مجھے گھر دلایا، میری ذیابیطس کی تشخیص کی اور علاج بتایا، وہ مجھے دنیا گھماتے ہیں اور میرے پاس اپنی ضرورت کی ہر چیز ہے۔ یہاں‌ بہت ساری نوجوان خواتین ہیں جن کے والدین دوسرے ملکوں‌ میں‌ ہیں، وہ مجھ سے اپنی زندگی کے معاملات میں‌ مشورہ مانگتی ہیں اور مجھے ان کی مدد کرنا پسند ہے۔ میں‌ یہاں پر خوش ہوں۔
***
امی کی کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر خواتین کو جدید تعلیم دی جائے تو وہ اپنا اور اپنی اولاد کا مستقبل بہتر بنا سکتی ہیں۔ گھر میں رہنے والی خواتین کے لئیے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بیکار ہیں حالانکہ امی نے ساری زندگی کام کیا ہے۔ چاہے وہ بچے پالنا ہو، ابو کی نقشے بنانے میں‌ مدد کرنا ہو یا بھائی کے بزنس میں ہاتھ بٹانا، ماؤں کا نہ نظر آنے والا ہاتھ ہر جدوجہد کا حصہ رہا ہے جس کو وہ عزت نہیں‌ ملی ہے جس کا وہ حقدار ہے۔ ​
Facebook Comments HS

صفحات: 1 2