ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے بعد بھی رکاوٹیں موجود رہیں گی


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن سعودی عرب اور قطر کے دورہ کے بعد منگل کو ایک روزہ دورہ پر پاکستان پہنچیں گے۔ اگرچہ اسلام آباد میں اس دورہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ باہمی غلط فہمیاں دور کرنے کا اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس دورہ کے دوران دونوں ملکوں کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں اتفاق رائے کی بجائے اختلافات پر زیادہ بات ہونے کا امکان ہے۔ سیکرٹری ٹلرسن ایک ایسے وقت میں پاکستان آ رہے ہیں جب ایک طرف امریکہ میں ایک ایسا صدر برسر اقتدار ہے جس کی پالیسی واضح نہیں ہے اور جو خود اپنے قریب ترین ساتھیوں کی باتوں کو بھی علی الاعلان مسترد کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اس لئے ٹلرسن کی وضاحتیں یا وعدے ٹرمپ کے ایک ٹویٹ سے اپنی اہمیت و وقعت کھو سکتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی سیاسی عدم استحکام ان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقنی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان میں بات صرف سول ملٹری تنازعہ تک ہی بات محدود نہیں ہے بلکہ اب یہ مباحث بھی خبروں اور تبصروں کا حصہ بنے ہوئے ہیں کہ حکمران مسلم لیگ (ن) پر اصل کنٹرول کس کا ہے۔ کیا نواز شریف واقعی معاملات پر اختیار رکھتے ہیں اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خارجہ و سلامتی کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔ یا پارٹی میں نواز مخالف عناصر اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ نواز شریف اہم امور میں اہمیت کھو چکے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات گزشتہ کچھ عرصہ سے پیچیدہ اور مشکل صورتحال کا شکار ہیں۔ پاکستان کے خلاف امریکی شبہات اور امریکہ کے بارے میں پاکستان کے اندیشوں میں اضافہ تو سابق صدر باراک اوباما کے دورہ میں ہی شروع ہو گیا تھا لیکن صدر ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ خاص طور سے ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے جس طرح بھارت کی تعریف کی اور افغانستان میں اس کے زیادہ کردار کو ضروری اور امریکی افغان پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور ساتھ ہی پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا، اس سے اسلام آباد کی بے چینی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی فوج اور حکومت نے ٹرمپ کی تقریر کو مسترد کرتے ہوئے ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے کو یکسر مسترد کیا۔ پاکستان کا یہ موقف بھی ہے کہ وہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قبول نہیں کر سکتا کیوں کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری کےلئے استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے امریکہ کے رویہ پر نکتہ چینی کے باوجود امریکی حکام نے اعلیٰ سطح پر نئی ٹرمپ حکمت عملی کی کوئی خاطر خواہ وضاحت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور امریکی نائب صدر مائیک پنس کی ملاقات بھی ہوئی اور وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے واشنگٹن کا دورہ بھی کیا۔ لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات پر چھائے ہوئے بادل ابھی تک چھٹ نہیں سکے ہیں۔

مبصرین یہ بات واضح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات نہیں کی۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر پاکستان ایک طرف امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے افغانستان کے بارے میں اس کی پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے تو دوسری طرف اسلام آباد سے یہ اشارے بھی دیئے جاتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان مواصلت میں اضافہ ہو رہا ہے اور شکوک و شبہات ختم ہو رہے ہیں۔ اسی حوالے سے نیویارک میں صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ آئے ہوئے سربراہان مملکت و حکومت کے اعزاز میں دیئے گئے ایک استقبالیہ کے موقع پر وزیراعظم عباسی اور صدر ٹرمپ کے سماجی تعارف کو ملاقات کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود امریکہ سے سی پیک کے خلاف بیان بھی سامنے آیا اور پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرنے کے مطالبے بھی دہرائے جاتے رہے۔ حتیٰ کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران جب پاک فوج نے ایک امریکی کینیڈین جوڑے اور اس کے تین بچوں کو طالبان کی قید سے آزاد کروایا تو صدر ٹرمپ نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ جتانا ضروری سمجھا کہ پاکستان اب دہشت گردی کے خلاف مستعدی سے کام کرنے کی امریکی خواہش کے مطابق کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں امریکہ کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا کہ پاک فوج کو یہ کارروائی اس امریکی انتباہ کے باعث کرنا پڑی تھی کہ اگر اس نے یہ کام نہ کیا تو امریکہ نیوی سیل کے دستے کو اسی طرح پاکستان میں کارروائی کےلئے بھیجنے پر مجبور ہوگا جس طرح مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کےلئے ایبٹ آباد پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس طرح پاکستان کو زیادہ شرمندگی اور پریشانی کا سامنا ہوگا۔ پاک فوج کی کامیاب کارروائی کے باوجود سی آئی اے کے سربراہ نے چند ہی روز بعد یہ قرار دے کر پاکستان کو ہی ’’ملزم‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ امریکی کینیڈین جوڑا اور ان کے بچے 5 برس تک پاکستان میں ہی قید رکھے گئے تھے۔ اس طرح پاکستان کے اس موقف کو مسترد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ خاندان افغانستان سے اچانک پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔ امریکہ نے ڈرون نگرانی کے ذریعے حاصل ہونے والے معلومات پاکستان کو فراہم کیں جس کے نتیجے میں پاکستان نے کامیاب کارروائی کرکے 5 برس تک قید رہنے والے امریکی کینیڈین خاندان کو رہا کروا لیا۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دورہ امریکہ کے دوران یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان کو ’’گھر کی صفائی‘‘ کرنے یعنی ملک میں پروان چڑھنے والے بعض عسکری گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی پیشکش کی تھی کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کےلئے تیار ہے۔ خواجہ آصف کے ان دونوں بیانات کو پاکستان کی فوج کی جانب سے مسترد کرنے کے بعد حکومت کو بھی پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ اب پاکستان صرف اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کی ہے۔ امریکہ کو اسے تسلیم کرتے ہوئے افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ اور افغان سرزمین پر موجود پاکستان دشمن عسکری گروہوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ نئے مؤقف کے مطابق پاکستان امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرے گا اور امریکی معلومات پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی بھی کرے گا لیکن اپنی سرزمین پر امریکی یا افغان فوجیوں کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس لئے پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کا آپشن موجود نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت میں پاکستان آ رہے ہیں جب امریکہ نے پاک افغان سرحد پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان حملوں میں گزشتہ دنوں جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خالد خراسانی اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا تھا۔ اس طرح پاکستان کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوا کہ پاکستان دشمن عسکری گروہ افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ لیکن ڈرون حملوں میں اضافہ کے ساتھ ہی افغانستان میں دہشت گرد حملوں میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران ایسے حملوں میں افغان فوجیوں کے علاوہ مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ ہے۔ اسلام آباد میں امریکی وزیر خارجہ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں اس معاملہ کو اٹھائیں گے اور حقانی نیٹ ورک کے علاوہ دیگر گروہوں کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا جائے گا جبکہ پاکستان بار بار یہ موقف اختیار کر چکا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔

ریکس ٹلرسن پاکستان پر یہ واضح کرنے کی بھی کوشش کریں گے کہ افغانستان میں امن اس کے اپنے مفاد میں ہے۔ اس لئے اسے اس میں زیادہ سرگرمی سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے لیکن وہ اس بات کا واضح جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے کہ امریکی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے بارے میں پاکستان کے تحفظات کیسے دور ہوں گے۔ بھارت نہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کو معمول پر لانے کےلئے تیار ہے اور نہ ہی پاکستان سے مذاکرات پر آمادہ ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ پاکستان جب تک دہشت گردوں کی سرپرستی بند نہیں کرتا، اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے بھارت کا مفہوم ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ہوتا ہے۔ جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مداخلت کی وجہ سے ہی کشمیر میں حالات خراب ہیں۔ بھارتی قیادت مسلسل یہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہی ہے کہ کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ رہنے کےلئے تیار نہیں ہیں اور آزادی کی تحریک عوامی حمایت کی بنیاد پر کھڑی ہے۔

امریکہ نے ریکس ٹلرسن کے دورہ اسلام آباد سے پہلے اپنے طور پر یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ بیک وقت پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کا خواہشمند ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کل ایک رپورٹر کے اس سوال پر کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کیا امریکہ اس بار بھارت کا ساتھ دے گا ۔۔۔۔۔۔ جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایسی کسی جنگ میں فریق نہیں ہوگا۔ لیکن وزیر خارجہ ٹلرسن گزشتہ ہفتہ کے دوران واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں ڈرامائی قربت پیدا ہوگی۔ اسلام آباد سے نئی دہلی پہنچنے پر وہ بھارت کے ساتھ ’’100 سالہ اسٹریٹجک پارٹنر شپ‘‘ کا آغاز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکہ بھارت کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور عسکری تعلقات کو چین کے اثر و رسوخ کے خلاف اپنی کوششوں کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ پاکستان ان دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو برصغیر میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں ہوتا دیکھتا ہے۔ ریکس ٹلرسن اسلام آباد میں قیام کے دوران یہ یقین دلانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کو بھارت کی بالا دستی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بھارت، پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور ایسی کسی صورت میں امریکہ بھارتی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرے گا۔ تاہم اس قسم کے امریکی دعوے اس وقت تک پاکستان کےلئے بے معنی ہوں گے جب تک امریکہ ان دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کروانے اور انہیں کشمیر کے مسئلہ پر قابل قبول حل پر آمادہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ واشنگٹن کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا ہے اور نئی دہلی نے ایسی کسی مفاہمانہ مداخلت کو یکسر مسترد کیا ہے۔

دریں حالات ریکس ٹلرسن کا دورہ پاکستان اس تاثر کو تو کمزور کرے گا کہ پاکستان دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور امریکہ کےلئے غیر متعلق ہو چکا ہے لیکن اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اہم اور اختلافی امور پر کسی پیش رفت کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali