سوتیلا آدمی (2)
استاد شیدی کی بدمزاجی صرف شاگردوں ہی کے لیے نہیں تھی۔ گھر والے اور بھی زیادہ مورد عتاب تھے۔ ان کی تین لڑکیاں ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے نام منصور علی تھا۔ اولاد میں سب سے بڑا وہی تھا۔ اچھا خاصا چل نکلا تھا۔ استاد کا حال یہ تھا کہ جہاں فرصت ملی ، سارنگی اٹھائی اور لڑکے کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ذرا چوکا اور استاد نے گالی دی۔ زیادہ جھنجلائے تو ہاتھ چھوڑ بیٹھے۔
استاد شیدی کی ماں کا انتقال ان کی کم سنی میں ہو گیا تھا اور ماموں نے انہیں پالا پوسا تھا۔ اس لیے وہ ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ بڑے میاں آتے تو گھر والوں کی جان چھوٹتی۔ استاد ماموں کی آواز سنتے ہی رفو چکر ہو جاتے۔ واپسی پر مٹھائی کا دونا ان کے ہاتھ میں دبا ہوتا۔ آتے ہی ایک ایک بچے کو اپنے ہاتھ سے مٹھائی کھلاتے۔ ان کے کردار میں ایسے ہی نہ جانے کتنے تضاد تھے۔
استاد نے طوائفوں کو تعلیم دینا بند کیا تو گھر پر تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ اب انہوں نے اپنا نام استاد شیدی کے بجائے مرزا شیدا علی بیگ رکھ لیا تھا۔ پہلے ان کے شاگرد انہیں استاد کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ اب وہ انہیں مرزا صاحب کہنے لگے۔ اگر بھولے سے کوئی استاد کہہ کر بلاتا تو وہ بھڑک کر گالیاں بکنا شروع کر دیتے۔
ان دنوں ان کا بیشتر وقت گھر ہی پر گزرتا تھا۔ سویرے تڑکے ہی سارنگی لے کر بیٹھ جاتے اور شام تک راگنیوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ اب ان میں ایک نیا مرض یہ پیدا ہو گیا تھا کہ موسیقی پر لیکچر بازی کرنے لگے تھے۔ ان کی اس نئی عادت کا سب سے بڑا نشانہ بیوی تھی۔ استاد بے چاری سیدھی سادی گھریلو عورت سے موسیقی کے بارہ ٹھاٹھوں پر بات کرتے کرتے سیاست پر بحث شروع کر دیتے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ یہ لیکچر بازی انہیں راس آگئی اور وہ میوزک کالج میں باقاعدہ لیکچرر ہو گئے۔ اس تبدیلی سے استاد کی وضع داری میں تو کوئی فرق پیدا نہیں ہوا البتہ یہ انقلاب ضرور رونما ہوا کہ ان کے دروازے پر ایک بڑی سی تختی لٹکنے لگی جس پر انگریزی کے موٹے موٹے حروف میں لکھا تھا۔ پروفیسر شیدا علی بیگ۔ حالانکہ استاد انگریزی سے قطعی نا آشنا تھے مگر اب وہ پروفیسر کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ دو چار دفعہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد گھر پر آنے والے شاگرد ں نے انہیں پروفیسر صاحب کہنا شروع کر دیا۔
آمدنی معقول تھی۔ مزے سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ اب وہ اور بھی وزنی گالیاں بکنے لگے تھے۔ شاگردوں کو بات بات پر کتوں کی طرح دھتکارتے تھے۔ شاگرد بھی دم سادھے بیٹھے رہتے۔ ان میں بعض سے میرے مراسم تھے۔ پوچھا بھائی یہ استاد شیدی میں کیا سرخاب کا پر لگا ہے کہ دھڑا دھڑ گالیاں کھایا کرتے ہو کسی اور سے کیوں نہیں سیکھتے؟“ مگر سب کی متفقہ رائے تھی کہ جس طرح سارنگی کی بجانے میں دور دور تک استاد شیدی کا جواب نہیں، اسی طرح وہ راگ داری کے رگ و ریشے سے بھی واقف ہیں۔ اس قدر مہارت تھی کہ بتانے پر آتے تو یہ تک بتا جاتے کہ فلاں راگ کا موجد کون تھا؟ اور اب تک اس میں کیا کیا تبدیلیاں پیدا ہوئیں؟
انہی دنوں کا ذکر ہے کہ راجہ بانکی پور کے ہاں ایک تقریب تھی۔ رقص موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ استاد شیدی کو بھی بلایا گیا۔ وہ اب مجروں میں بہت کم جاتے تھے۔ مگر منصور علی کے اصرار پر چلے گئے۔ راجہ صاحب نے بڑی دھوم دھام سے جشن کا بندوبست کیا تھا۔ شہر کے سارے کلاکاروں کو انہوں نے اکٹھا کیا تھا۔ رات بھر راگ رنگ کی محفل گرم رہی۔ البتہ استاد کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ رات کے کوئی گیارہ بجے برق بانو نے ایک ٹھمری گائی۔ یہ برقی بانو کے عروج کازمانہ تھا۔ قبول صورت طوائف تھی۔ کھلتا ہوا چمپئی رنگ، تیکھے نقش و نگار ، نکلتا ہوا چھریرا بدن۔ اس نے ٹھمری چھیڑی تو محفل میں آگ لگ گئی۔ بول تھے ”اندھیریا ہے رات سجن رہیو کہ جیو۔ “ اودھ کے تعلقہ داروں کی محفل، برق بانونے نرت کے ساتھ ٹھمری کے بول ادا کیے تو ہر طرف سے واہ واہ ہونے لگی۔ روپوں کی بارش شروع ہو گئی۔ محفل میں راجہ صاحب اجے گڑھ بھی موجود تھے۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے روپیہ نچھاور کیا۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ ہاﺅ ہو برپا ہو گیا۔
بر ق بانو کا مجرا ختم ہوا تو محفل کا رنگ بدل چکا تھا۔ اس کے فوراً بعد استاد شیدی کا پروگرام تھا۔ وہ حسب معمول ڈھیلی ڈھالی اچکن پر دوپلی ٹوپی لگائے ہوئے تھے۔ ان کی وضع قطع دیکھ کر کچھ منچلے مسکرا کر رہ گئے۔ انہوں نے ایمن راگ چھیڑا اور دھیرے دھیرے استھائی میں چلے۔ محفل کا مطالبہ کچھ اور تھا مگر استاد کو اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ وہ طبلے کی سنگت کے ساتھ مدھم سروں میں سارنگی بجاتے رہے۔ ذرا دیر تک خاموشی رہی۔
اس کے بعد سننے والوں کی دلچسپی بھٹکنے لگی اور محفل پر ایک اکتاہٹ سی طاری ہو گئی۔ محفل میں سر جوالا پرشاد سری واستو بھی شریک تھے، ان سے ضبط ہو سکا۔ مسکرا کر بولے۔ ”استاد جی ، یہ آپ نے کیاروں روں لگا رکھی ہے؟ ذرا کچھ اچھے ہاتھ دکھائیے۔ “
سرجے پی سری واستو کا یہ جملہ سنتے ہی استاد شیدی کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ فوراً ہاتھ روک لیا۔ پلٹ کر طبلچی کی طرف دیکھا اور ڈانٹ کر کہنے لگے۔ ”روک بے ہاتھ!“ طبلچی نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ استاد نے خاموشی کے ساتھ قریب رکھا ہوا سارنگی کا غلاف اٹھایا اور سارنگی اس میں لپیٹنے لگے۔ سرجوالا پرشاد کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا ، مسکرا کر بولے۔ ”استاد جی معلوم ہوتا ہے کہ آپ میری بات کا برا مان گئے۔ میں نے تو آپ سے ایک درخواست کی تھی۔ آپ کو کچھ سنا کر جانا پڑے گا۔ “
راجہ بانکی پور نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ استاد نے جل کر کہا ” جی سنانے والے کی تو …..“ انہوں نے ایک گندی گالی دی اور بدستور سارنگی غلاف میں لپیٹتے رہے۔ ”آپ نے مجھے میراثی سمجھا ہے۔ برسوں خون پانی ایک کر کے ریاض کیا ہے ، رنڈیوں کی چلمیں نہیں بھریں۔ واہ صاحب واہ ، کیا قدر دانی کی ہے؟ مجھے کیا معلوم تھا کہ سالے ایسے بیوقوفوں سے پالا پڑے گا۔ “ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔
محفل پر سناٹا طاری ہو گیا۔ سر جوالا پرشاد وائسرائے کی کونسل کے ہوم مبر تھے۔ لوگوں نے سوچا کہ اگر استاد اس وقت جوتے مار کر نہ نکالے گئے تو انہیں کم از کم جیل کی ہوا تو ضرور کھانا پڑے گی۔ انہوں نے سر محفل ہوم ممبر کی بے عزتی کی تھی لیکن استاد بڑی بے نیازی کے ساتھ محفل سے اٹھ کر چلے گئے۔
سنا ہے کہ سرجوالا پرشاد خود استاد کو منا کر پھر محفل میں لائے۔ اس کے بعد استاد شیدی نے بہار کا خیال چھیڑا اور کئی گھنٹے تک سارنگی پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ استاد کا عالم یہ تھا کہ کہ آنکھیں بند تھیں۔ جسم پتھر کی طرح ایک جگہ جم کر رہ گیا تھا۔ صرف ہاتھ چل رہا تھا اور سارنگی سے سنگیت کی بارش ہو رہی تھی۔ یہ پھاگن کی رات تھی۔ بہار کی آمد آمد تھی۔ کچھ تو موسم کا اثر اور کچھ استاد چوٹ کھا کے اپنا کمال دکھا رہے تھے۔ سماں بندھ گیا۔ استاد شیدی نے ٹھمری کی تندی ٹھرے کے نشے کی طرح اتار کر رکھ دی۔ وہ رنگ باندھا کہ بہار کی کیفیت طاری ہو گئی۔ رات ڈھلتی گئی اور استاد کا ہاتھ سارنگی پر چلتا رہا۔ محفل پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص مبہوت تھا۔
جب انہوں نے ہاتھ روکا تو وہ اکڑ کر رہ گیا۔ واللہ اعلم، یہ بات کہاں تک درست ہے۔ البتہ اتنا ضرور دیکھا کہ استاد شیدی نے شاگردوں کو کچھ عرصے کے لیے تعلیم دینا بند کردی تھی اور ان کا ہاتھ سفید پٹی میں جھولتا رہتا تھا جس پر روزانہ سویرے سویرے ایک مالشیا آکر گھنٹوں مالش کیا کرتا تھا۔
اس بات کو زمانہ ہو گیا۔ زندگی میں بہت سے تغیرات رونما ہوئے استاد شیدی میں بھی بہت بڑا تغّیر ہوا۔ اس کا انکشاف مجھ پر اچانک ہوا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ وہ اپنا ایک ٹیلی گرام پڑھوانے میرے پاس آئے۔ میرے ایک دوست بھی کمرے میں موجود تھے میں نے استاد کا ان سے تعارف کرایا۔ ”آپ سے ملیے ،آپ استاد شیدی ہیں، میوزک کالج میں پروفیسر ہیں۔ سارنگی بجانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے“۔ میں نے تعارف کروانے میں حتی الوسع یہ کوشش کی تھی کہ کہیںمنہ سے ایسی بات نہ نکل جائے کہ استاد کی طبع نازک پر بار گذرے مگر غلطی سر زد ہو گئی۔ اس کا اندازہ مجھے استاد کی آنکھوں کے جلال سے ہوا۔ انھوں نے تیوری پر بل ڈال کر مجھے قہر آلود نگاہوں سے کچھ اس طرح دیکھا کہ اگر کوئی شاگرد ہوتا تو منہ پر وہ جھانپڑ پڑتا کہ دن میں تارے نظر آجاتے۔ میرے دوست سے کہنے لگے۔ ” جناب مجھ کو پرنس مرزا شیدا علی گورگانی کہتے ہیں۔ میوزک کالج میں پروفیسر ضرور ہوں مگر میرا یہ خاندانی پیشہ نہیں ہے۔ “ اس کے بعد استاد نے جو اپنا شجرہ نسب بتانا شروع کیا تو سلاطینِ مغلیہ سے اپنا رشتہ ملا دیا۔ اس وقت انہوں نے موسیقی کے متعلق ایک لفظ نہیں کہا۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ اچانک ان پر مغل شہزادہ ہونے کا نکشاف کیسے ہوا؟
تحقیقات سے پتہ چلا کہ دور کی یہ کوڑی ان کے صاحبزادے منصور علی لائے تھے جو خیر سے اب ٹیوشن پڑھانے لگے تھے اور ان دنوں کسی کی عوضی پر میوزک کالج میں گانے کی تعلیم بھی دے رہے تھے۔ استاد نے نہ صرف صاحبزادے کی تجویز قبول کرلی بلکہ باقاعدہ اس کی تبلیغ بھی شرع کر دی۔ ان کے مکان کی تختی بھی بدل گئی البتہّ کشمیری بھانڈوں میں اس تبدیلی پر چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ استاد کے خلاف ایک محاذ قائم ہو گیا۔ جن دنوں یہ کشمکش زوروں پر تھی میں لکھنّو چھوڑ کر کراچی آگیا اور یہاں آکر ایسا پھنسا کہ لکھنّو جانا نصیب نہ ہوا۔
چند سال قبل میں ایک عزیز سے ملنے ملیر گیا۔ واپسی پر بس اسٹینڈ پر کھڑا تھا کہ کسی نے قریب آکر بڑے لکھنوی انداز میں جھک کر سلام کیا۔ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ میں اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکا البتہ اتنا ضرور خیال آیا کہ اسے کہیں دیکھا ہے۔ کہاں دیکھا ہے؟ یہ بات یاد نہ آئی تو اس نے خود ہی کہا۔ ” نہیں پہچانا؟ ہاں بھئی غریبوں کو کون پہچانتا ہے؟“
میں فوراً پہچان لیا، استاد شیدی ہیں۔ ابھی خیرو عافیت پوچھنے کا سلسلہ جاری تھا کہ اس اثنا میں میری بس آ گئی اور میں اس پر سوار ہو کر چلا گیا۔ اس وقت بڑی عجلت میں تھا۔ یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ ملا کہ ان کا قیام کہاں ہے؟ اور کب تک یہاں ٹھیریں گے؟ عارضی طور پر آئے ہیں یا مستقل ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے ہیں۔ لیکن یہ میں نے اندازہ ضرور لگایا کہ ان کی حالت کچھ پتلی تھی۔ ا ±س روز وہ شیروانی بھی میلی کچیلی پہنے ہوئے تھے اور ان کی آواز میں پہلا سا کرکرا پن نہیں تھا۔
کوئی ہفتے بھر بعد استاد شیدی سے پھر مڈ بھیڑ ہوگئی۔ اس روز خاصی تفصیلی ملاقات رہی۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ انہیں کراچی آئے ہوئے آٹھ ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ دونوں بڑی لڑکیوں کی شادی انہوں نے لکھنّو ہی میں کر دی تھی۔ میوزک کالج کی ملازمت مہا سبھائی پرنسپل کے ہاتھوں جاتی رہی۔ بات صرف اتنی تھی کہ ہولی کے تہوار پر پرنسپل نے کالج کا تمام اساتذہ کو اپنے گھر پر مدعو کیا تھا۔ ہولی منانے کا پروگرام تھا۔ استاد شیدی صوم و صلوة کے پابند مسلمان تھے۔ پرنسپل کے منہ پر صاف صاف کہ دیا کہ” میں رنگ کھیل کر خود کو جہنمی نہیں بنانا چاہتا۔ مجھ کو اس شیطانی چرخے سے باز ہی رکھا جائے۔ “
پرنسپل نے ان کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی بجائے کاٹ پیچ شروع کر دی۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ استاد شیدی کو کالج ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑا۔ ملازمت سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی وہ مزے میں تھے، گھر پر اچھے خاصے شاگرد آ جاتے تھے۔ انہی دنوں منصور علی پاکستان چلا آیا۔ اسی کی تحریک پر وہ بھی چلے آئے۔ میں نے پوچھا۔ ” منصور علی کہاں ہے؟“ کہنے لگے۔ ” ا ±س نے قوالوں کی چوکی بنائی ہے اور آج کل خیر پور میں ہے۔ “
میں نے حیرت زدہ ہو کر کہا قوالوں کی چوکی؟“
وہ مسکرا کر بولے۔ ”آخر کچھ نہ کچھ تو پیٹ کا دھندہ کرتا۔ یہاں گانے بجانے کی کون قدر کرتا ہے؟“
”اور آپ؟“ غیر ارادی طور پر میں پوچھ بیٹھا۔ یکبارگی پرانے استاد جاگ اٹھے۔ انہوں نے ایک سڑی ہوئی گالی دی اور غصّے میں بولے۔ “ جی قوالی بھی کوئی راگ ہے؟ لاحول ولا قوة۔ منصور میرے سر بہت ہوا۔ میں نے کہا ابے بیدھا ہوا ہے، اب میں قوالی گاو ¿ں گا؟ ذرا غور تو کیجیے۔ زندگی بھر کا ریاض چند ٹکوں کی خاطر قربان کردوں واہ صاحب واہ۔ یہ بھی ایک ہی رہی۔ “
وہ دیر تک اسی قسم کی باتیں کرتے رہے مگر ان کی حالت بڑی ابتر تھی۔ اچکن بے حد بوسیدہ ہوگئی تھی۔ پائجامے پر گھٹنے کے پاس بڑا سا پیوند لگا تھا۔ چہرہ اور بھی بد شکل ہو گیا تھا۔ آخر دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے استاد شیدی رخصت ہو گئے۔ چند ہی روز بعد وہ میرے دفتر آئے۔ تھوڑی دیر اِدھر ا ±دھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے۔ ” ریڈیو کے صاحب سے آپ کی کچھ ملاقات ہے؟“
میں نے انکار کیا تو انکا چہرہ اتر گیا۔ نہ جانے وہ میرے پاس کیا توقعات لے کر آئے تھے۔ بڑے پژمردہ لہجے میں بولے۔ ”میں نے سوچا تھا کہ شاید آپ کے توسط سے ان تک رسائی ہو جائے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بغیر سفارش یہاں کوئی کام نہیں بنتا۔ “
میں نے غور کیا کہ استاد شیدی کو زندگی برتنے کا گر ابھی تک نہیں آیا۔ میری سفید پوشی سے مرعوب ہو گئے اور سمجھے کہ میں یہاں آکر بڑی توپ بن گیا ہوں۔ مجھے خاموش دیکھ کر استاد نے بات کا رخ پلٹ دیا۔ کہنے لگے کہ منصور کا خط آیا ہے وہ بھی آج کل بہت پریشان ہے۔ لکھا ہے کہ اس کا گلا خراب ہو گیا ہے۔ کسی نے سیندور کھلا دیا۔ لمحے بھر توقف سے بولے۔ ”اجی! سیندور کسی نے کیا کھلایا ہو گا؟ سالے نے قوالیاں گا گا کر اپنی آواز کا ستیا ناس کردیا۔ “
اس روز بھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے رہے۔ چلتے وقت بہت جھجکتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ”کچھ روپے ہوں گے آپ کے پاس؟ بخدا د دو روز سے گھر میں فاقہ پڑا ہے۔ “ یہ کہ کر وہ اس طرح سہم کر کھڑے ہو گئے جیسے چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہوں۔
میرے پاس اسوقت ایک روپیہ تھا دو روپے دفتر میں ایک صاحب سے لے کر انہیں تین روپے دیے اور گھر کا پتہ بتا دیا کہ وہاں آجائیں تو کچھ اور بندوبست کردیا جائے گا۔ واقعہ یہ ہے ان کا حال سن کر کلیجہ دھک سے ہوگیاتھا۔
دوسرے ہی دن وہ گھر آئے میں نے دس روپے اور دیے۔ انہوں نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے نوٹ پکڑا۔ لمحے بھر تک بت بن کر کھڑے رہے اوپھر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپا کر دھاڑیں مار مار کر رو دیے جیسے کوئی اپنے رشتے دار کی میّت کے سرھانے کھڑے ہو کر روتا ہے۔
اس کے بعد وہ ایک عرصے کے لیے نہیں ملے۔ ایک روز آئے تو ان کی حالت اور بھی خستہ تھی۔ اچکن جگہ جگہ سے مسک گئی تھی۔ ان کی موٹی سی ناک پچک کر رہ گئی تھی اور جنگلی کبوتر کی سی سرخ آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ اس روز وہ صرف اس غرض سے آئے تھے کہ انہیں کہیں چپڑاسی کی ملازمت دلوا دوں۔ اس دفعہ بھی میں نے انہیں کچھ رقم دی اور وعدہ کیا کہ کہیں نوکری دلوا دوں گا۔
اس کے بعد وہ برابر آتے رہے۔ ہر بار وعدہ کرتا اور وہ ہر بار اس یقین پر چلے جاتے۔ آخر میں ان سے ا کتا گیا۔ اِ س کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ میں ہر بار ان کے مالی امداد کرنے سے معذور تھا۔
ایک دن وہ آئے تو میں نے کہلو ا دیا کہ ” کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ “ نہ جانے کیا بات تھی کہ واپس جانے کی بجائے وہ دروازے پر رک گئے اور ٹہل ٹہل کر میرا انتظا کرتے رہے۔ عجیب مصیبت تھی کہ میں گھر کے اندر قید تھا اور وہ دروازے پر گویا پہرا دے رہے تھے۔
شاید9 بجے دن کے وہ آئے تھے ، سہ پہر تک اسی طرح ٹہلتے رہے۔ مجھے ان کی حالت پر ترس بھی آیا۔ خدا معلوم وہ کس عالم میں میرے پاس آئے تھے اور صبح کے بھوکے پیاسے بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ گھر کا ایک ہی دروازہ تھا جس پر وہ موجود تھے۔ ورنہ میں کسی نہ کسی طرح ان کے پاس چلا آتا۔ جب تک وہ موجود رہے۔ بڑا ذہنی کرب رہا۔ جھٹپٹا ہونے سے کچھ دیر قبل وہ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ میرے گھر نہیں آئے۔
چند ماہ بعد کا واقعہ ہے ، مجھے جوتوں کے کارخانے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں مجھے ایک شخص میں استاد شیدی کی شباہت معلوم ہوئی۔ وہ فرش پر بیٹھا رامپی سے بڑی محویت کے عالم میں چمڑا کاٹ رہا تھا۔ گرمی کا موسم تھا۔ اس کے بدن پر ایک گندا سا نیکر تھا۔ ایک ایک ہڈی نظر آرہی تھی۔
اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو میں ششدر رہ گیا۔ استاد شیدی تھے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا کہ استاد مجھے یہاں دیکھ لیا تو بڑے ہی خفیف ہوں گے لہذا مجھے فوراً اٹھ جانا چاہیے مگر انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور خلافِ توقع بڑی گرم جوشی سے بولے۔ ” ارے آپ ہیں ؟ کہیے خیریت تو ہے؟“
اس کے بعد انہوں نے فوراً باہر والے کو آواز دے کر بلایا اور دو چائے کا آرڈر دے دیا۔ میں نے اظہار ہمدردی کے طور پر کہا۔ ” مرزا صاحب، یہ آپ نے کیاحالت بنا رکھی ہے؟“۔ ہنس کر بولے۔ ” بھائی دونوں وقت پیٹ بھر کر روٹی مل جاتی ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے“
میں نے کہا۔ ” تو گویا موسیقی آپ نے بالکل ترک کردی؟“
بڑی شانِ استغنا کے ساتھ بولے۔ ” اجی لعنت بھیجئے!“
اس کے بعد انہوں نے موسیقی کے فن کو بڑی گندی گندی گالیاں دیں اور پھر خاموش ہو کر بڑے اطمینان سے گردن نیچی کرکے رامپی سے چمڑا کاٹنے لگے پہلی بار مجھے اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ استاد شیدی کو میں جس قدر سادہ لوح سمجھتا تھا۔ وہ ایسے نہ تھے۔ کم از کم اس دفعہ انہوں نے دانش مندی کا ثبوت دیا تھا۔ ایسا فن سیکھا جس کی ضرورت امر مسلمہّ تھی۔ آدمی جوتے کے بغیر تو نہیں رہ سکتا البتہ اتنا ضرور ہے کہ جن انگلیوں سے وہ نغموں کا جادو جگاتے تھے، آج ان سے جوتیاں گانٹھ رہے تھے۔






