کیا علامہ اقبال اپنے آخری ایام میں قائد اعظم سے ناراض تھے؟


جن نقائص کی بنا پر ہماری درخواست مسترد کی گئی تھی، وہ محض اصطلاحی تھے۔ اگر نیت بخیر ہوتی تو ہمیں ہدایت کی جاسکتی تھی کہ ان نقائص کو رفع کے کے نئی درخواست بھیج دو۔ لیکن وہاں تو ارادہ یہی تھا کہ الحاق نہ ہونے پائے تا کہ سر سکندر حیات کے آدمیوں کو لیگ کونسل میں داخل کرنے کا راستہ صاف کیا جا سکے۔

غلام رسول خاں نے 12 اپریل کو پنجاب مسلم لیگ کونسل کا جلسہ کر کے سب کمیٹی کے دونوں اعتراض رفع کر دئے اور اصلاح شدہ آئین کے مسودے کے ساتھ الحاق کی نئی درخواست دہلی بھیج دی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس سارے ہنگامے کے دوران نواب ممدوٹ نے اپنی شکل بھی ہمیں نہ دکھائی۔ وہ پنجاب پراونشل مسلم لیگ کے صدر تھے اور ان کا فرض تھا کہ اس جدوجہد میں ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے لیکن ازبسکہ ہماری درخواست کے مسترد کرائے جانے میں سب سے بڑا دخل انہی کو تھا۔ وہ اس موقع پر ہمارے قریب تک نہ آئے۔

اہل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس خصوصی 18/19 اپریل کو کلکتہ میں ہونے والا تھا۔ ہمارا ارادہ وہاں جانے کا نہیں تھا۔ جب پنجاب پراونشل لیگ کا وجود ہی باقی نہیں رہا تھا تو آل انڈیا لیگ کے اجلاس میں شرکت بے معنی سی بات تھی۔ لیکن چونکہ اس اجلاس میں شہید گنج کے مسئلہ کا فیصلہ ہونے والا تھا۔ اس لئے پنجاب بھر میں جوش و خروش پھیلا ہوا تھا اور بہت سے لوگ کلکتہ جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ہر ضلع سے مندوبین کی فہرستیں ہمارے دفتر میں پہنچ رہی تھیں۔ اور لوگ بڑے اصرار سے ڈیلی گیٹ کے ٹکٹ طلب کر رہے تھے۔ مجبوراَ ان تمام لوگوں کو اطلاع دینی پڑی کہ لیگ کا الحاق چونکہ منظور نہیں ہوا اس لئے کوئی شخص ڈیلی گیٹ کی حیثیت سے کلکتہ نہیں جا سکتا۔ اس خبر سے چاروں طرف مایوسی پھیل گئی۔

14 اپریل کو گیارہ بجے کے قریب غلام رسول خاں اور ملک زمان مہدی میرے مکان میں آئے اور کہنے لگے کہ تیار ہو جاؤ، آج شام کی گاڑی سے کلکتہ جانا ہے۔

میں نے تعجب سے پوچھا: “یہ فیصلہ کب ہوا کیونکہ گزشتہ شام تک تو کوئی ارادہ نہیں تھا۔”

غلام رسول خاں نے بتایا: “آج صبح ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ کلکتہ جا کر اپنی جنگ خود لڑو۔ یہاں گھر بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم اب ڈاکٹر ہی کی طرف جا رہے ہیں۔ تم بھی چلو۔”

قائد اعظم اور سر سکندر حیات

پہلے ہم ایک ضروری کام سے روزنامہ احسان کے دفتر گئے اور وہاں سے ڈاکٹر صاحب کے دولت کدے پر حاضر ہوئے۔ ملک برکت علی بھی وہاں موجود تھے ڈاکٹر صاحب آنکھیں بند کئے ہوئے پلنگ پر لیٹے تھے۔ غلام رسول خاں نے عرض کیا:

“ہم لوگ شام کو کلکتہ جا رہے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: “ضرور جاؤ اور اپنے حق کے لئے آخر تک لڑو۔ ہمارے ساتھ سخت نا انصافی ہوئی ہے۔”

ملک برکت علی نے کہا: “اگر ہماری نئی درخواست بھی منظور نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟”

ڈاکٹر صاحب کی طبیعت خراب تھی۔ لیکن انہوں نے کسی قدر جوش سے فرمایا:

“کچھ فکر نہیں۔ درخواست منظور ہو یا نا منظور، جس اصول پر ہم نے اب تک کام کیا ہے آئندہ بھی جاری رہے گا۔”

جب ہم رخصت ہونے لگے تو فرمایا: “کسی کی پروا نہ کرنا۔”

ملک برکت علی، خلیفہ شجاع الدین، غلام رسول خاں ، پیر تاج الدین، ملک زمان مہدی اور راقم السطور 14 اپریل کو شام کو کلکتہ روانہ ہوئے۔ راجہ عبدالعزیز بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہماری مسلم لیگ کا الحاق نا منظور ہوجانے کے باوجود پنجاب سے بہت سے لوگ کلکتہ جا رہے تھے۔ سہارنپور کے سٹیشن پر نواب اسماعیل بھی ہماری گاڑی میں سوار ہو گئے۔ وہ بھی کلکتہ جا رہے تھے۔ نواب صاحب الحاق کی درخواستوں کا فیصلہ کرنے والی سب کمیٹی کے صدر تھے۔ جب ان سے پنجاب کے بارے میں ہماری مفصل گفتگو ہوئی، تو انہیں تمام حالات سن کر سخت افسوس ہوا۔ غلام رسول خاں کے پاس الحاق کی نئی درخواست بھی موجود تھی۔ نواب صاحب نے اسی وقت اس پر بڑے زور دار الفاظ میں لکھ دیا کہ الحاق فوراَ منظور ہوجانا چاہئیے۔

16 اپریل کی صبح کو ہم کلکتہ پہنچے اور مسلم انسٹی ٹیوٹ کی بالائی منزل میں قیام پذیر ہوئے۔ اسی روز دوپہر کو ایک بجے الحاق کی نئی درخواست جس پر نواب اسماعیل خاں کی سفارش درج تھی ہم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے دفتر پہنچا دی۔

17 اپریل کو ساڑھے گیارہ بجے آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا اجلاس ہونے والا تھا۔ اس لئے 16 کی شام کو ہم نے اکٹھے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ اس اجلاس میں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہماری درخواست پھر مسترد کر دی جائے گی۔ غلام رسول خاں تخت یا تختہ کے قائل تھے۔ آخر کسی قدر سوچ بچار کے بعد فیصلہ ہوا کہ اگر درخواست منظور نہ ہو تو راقم التحریر وہیں اجلاس میں کھڑے ہو کر بحث کا آغاز کرے اور اگر بحث طول کھینچ لے تو ملک برکت علی اور خلیفہ شجاع الدین مدد کریں۔

نواب زادہ لیاقت علی خاں نے پہلے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنائی۔ پھر صوبائی لیگوں کے الحاق کی درخواستوں کا معاملہ زیر بحث آیا، تو کئی ایسی لیگوں کی درخواستیں منظور کر لی گئیں جن کا وجود محض کاغذی تھا اور جن کا کوئی آئین بھی نہیں تھا۔ صوبہ سرحد کی بھی ایک نام نہاد لیگ کا الحاق منظور کیا گیا۔ حالانکہ خود آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری نے اس وقت تسلیم کیا کہ اس لیگ کا وجود صرف کاغذی ہے اور اس کا کوئی دستور بھی تا حال وضع نہیں کیا گیا لیکن پنجاب کی طرف سے الحاق کی نئی درخواست پیش ہوئی، تو نواب زادہ لیاقت علی خاں نے مخالفت کی اور کہا کہ درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔

 باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3