موسم خزاں اور لاشوں کے تحفے
یہ دسمبر کی پہلی تاریخ تھی، موسم شدید سرد تھا اور میں چین کے شہر چنداؤ میں اپنی ریسرچ لیب کی کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا
ہر شجر پرسکون کھڑا تھا۔ زرد و نارنجی پتے یہاں وہاں بکھرے پڑے تھے۔ سرد ہوا پتوں کو سرسراتی ہوئی گزر رہی تھی اور درختوں کی ٹنڈ منڈ خالی شاخوں پر سورج کی کرنیں مسحور کن مناظر پیش کر رہی تھیں
میں اکثر لیب پہنچتے ہی سائبان اوپر کی جانب سرکا دیتا ہوں تاکہ مظاہر قدرت کے خوردبینی مطالعے کے ساتھ ساتھ سورج کی کرنوں اور باہر کے نظاروں سے بھی لطف اٹھا سکوں۔ اگرچہ تحقیقی عمل کے دوران ’ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بڑا کام ’ والی صورتحال ہوتی ہے لیکن قدرت کے رنگ اپنی جانب متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ چنداؤ چین کا ایک خوبصورت ساحلی اور سیاحتی شہر ہے اور ہم بسلسلہ پوسٹ ڈاکٹریٹ یہاں مقیم ہیں۔ یہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شہر ہر موسم میں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن جب یہاں خزاں آتی ہے تو اس کی خوبصورتی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
خزاں کے موسم میں یہاں کے رنگ دیکھنے والے بلکہ دنگ کر دینے والے ہوتے ہیں اور یہاں خزاں کی خوبصورتی اپنے پورے جوبن پر نظر آتی ہے جو یہاں گھومنے کا تجربہ ناقابل فراموش بنا دیتی ہے اور زمین پر چلتے پتوں کے ساتھ چلنا اچھا لگنے لگتا ہے۔ یہاں خزاں کا استقبال بہت شان و شوکت سے کیا جاتا ہے۔ فیسٹیولز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ میلے سجتے ہیں اور تحفے تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے۔ گویا کہ ایک طلسم ہے خزاں کا جو پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
میں ابھی خزاں کے خوبصورت رنگوں سے لطف اٹھا ہی رہا تھا میری نظر خزاں زدہ پتوں سے بھرے ہوئے تالاب پر پڑی۔ میں نے یہ خوبصورت منظر اپنے موبائل میں محفوظ کرنا چاہا۔ موبائل نکالا ہی تھا کہ سکرین پر ایک میسیج نمودار ہوا کہ گلابوں کا شہر ایک دفعہ پھر خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ خزاں کے سارے رنگ بکھر گئے اور تالاب میں پتوں کی بجائے لاشیں تیرتی محسوس ہونے لگیں ۔ ویسے تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہمارے ملک میں کوئی واردات نہ ہوتی ہو۔ ہر طرح کی دہشت گردی قابل مذمت ہے لیکن جب ایسا کوئی واقعہ پشاور میں پیش آتا ہے تو افسرگی اور بھی بڑھ جاتی ہے کیوں کہ یہ وہ شہر ہے جس کے ساتھ ہماری گہری وابستگی کی وجہ ہمارے تعلیمی سفر کے وہ چھ سال تھے جو ہم نے یہاں گزارے۔
یہاں سے بہت کچھ سیکھا اور بہت سی یادیں سمیٹیں۔ اور اس دفعہ تو حملہ بھی ہماری جانی پہچانی جگہ ایگری کلچر ڈائریکٹوریٹ کے ایک ہاسٹل پر ہوا تھا۔ آٹھ طلباء شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اگرچہ شہر کی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے مزید نقصان سے بچا لیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ایجوکیشنل اداروں کی انٹرنل سیکیورٹی اتنی کمزور کیوں ہے۔ تقریباً ایک سال قبل چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی بھی ایسا سانحہ دیکھ چکی ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ درجن طلباء جن کی بازی ہار گئے تھے۔ ٹھیک تین سال قبل اسی مہینے میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آیا تھا جس میں سو سے زائد ننھے پھول رونددیئے گئے تھے۔
ہر سال موسم خزاں ہمیں لاشوں کے تحفے دے جاتا ہے اور ہم آہنی ہاتھوں کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں۔ ہم ماضی میں ہونے والے واقعات سے کچھ نہیں سیکھتے۔ ہم آئے روز خون ریزیاں کرنے والوں کے ساتھ دو ٹوک رویہ بھی نہیں اپناتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنی سیکیورٹی بڑھانے پر توجہ نہیں دیتے ۔ پچھلے دنوں ہمیں یہاں چنداؤ میں ایک تفریحی مقام پر جانے کا اتفاق ہوا۔ تین جگہوں پر ہماری چیکنگ کی گئی، حالانکہ یہاں سیکیورٹی کے اتنے خدشات بھی نہیں۔ لاؤ شان ہلز کے اس علاقے میں نہ تو کوئی آبادی تھی اور نہ ہی کوئی عمارت۔ صرف پہاڑ تھے اور آخر پر ایک آبشار۔ ہم حیران تھے کہ اتنی سیکیورٹی کسے مہیا کی جا رہی ہے پہاڑوں کو، آبشار کو یا سیاحوں کو ۔ ایک پہاڑی علاقے میں سیکیورٹی کا یہ عالم ہے تو باقی جگہوں پر سیکیورٹی کا اندازہ آپ خود لگا لیں۔
یہاں تعلیمی اداروں میں تو کسی غیر متعلقہ شخص کے داخل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایڈمیشن کے ساتھ ہی ہر سٹوڈنٹ کو ایک کارڈ دے دیا جاتا ہے اور وہ کارڈ سٹوڈنٹ کی شناحت بھی ہوتا ہے اور وہی کارڈ یونیورسٹی، لیب اور ہاسٹل کے دروازے کھولنے کے لیے چابی کا کام بھی کرتا ہے۔ جس دن آپ کارڈ لانا بھول گئے آپ یونیورسٹی کے اندر داخل نہیں ہو سکتے۔ اس آٹو میٹک سیکیورٹی کے باوجود سیکیورٹی کے دیگر انتظامات بدستور موجود رہتے ہیں۔ ہم چینی مصنوعات کی تو بات کرتے ہیں، سی پیک کے گن گاتے نہیں تھکتے۔ کاش کہ ان کے کچھ سسٹمز کو بھی فالو کر لیا ہوتا اور کچھ نہیں تو کم از کم تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے لیے ہی ان سے کچھ سیکھ لیں۔
آج مجھ سمیت دیار غیر میں بیٹھا ہر پاکستانی اپنے وطن عزیز کے لیے دعا گو ہے کہ خدا کرے کہ امید کی کرنیں وطن پر چھائی دھند کی دبیز تہہ کو چیر کر روشنی کا پیغام لائیں اور ہم بھی ہوا میں جاگتی امید کا منظر دیکھ سکیں۔ خدا کرے کہ ہمارے ملک پر چھائے ویرانی کے سائے چھٹ جائیں اور خوف و ہراس کی کھیتی میں امن اور سکون کی برکھا برسے کیونکہ ہماری ساری خوشیاں اسی وطن سے وابستہ ہیں اور ہماری زندگی کے سارے رنگ اسی ملک کی خوشحالی اور سلامتی میں پوشیدہ ہیں۔


