خان بچ گیا، اب پاکستان کی فکر کیجئے
جب تحریک انصاف کے حامی ’عمران خان ‘ بچ گیا کی دھمال پر بھنگڑے ڈال رہے تھے اور جب مسلم لیگ (ن) کے کارکن حدیبیہ کیس کھولنے کی اپیل مسترد ہونے اور جہانگیر ترین کے نااہل قرار دیئے جانے پر خوشی کا اظہار کررہے تھے تو عین اس ہنگام کے بیچ امریکہ کے وزیر خارجہ واشنگٹن میں متنبہ کررہے تھے کہ افغانستان میں لڑنے والے طالبان کی توجہ کابل سے اسلام آباد کی طرف مبذول ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی سرزمین طالبان کے تصرف میں آسکتی ہے۔ اس علی الاعلان امریکی وارننگ کے بعد یہ سوچنا ضروری ہے کہ کیا ایک یا دوسرے سیاسی لیڈر کی فتح اور ناکامی کا جشن مناتے ہوئے اہل پاکستان کو اس بات کی خبر ہے کہ اس کی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اور کیا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش رکھنے اور کوشش کرنے والے ریاستی ادارے یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ ملک کوغیر معمولی اندیشوں اور خطرات کا سامنا ہے اور صرف دعوے کرنے اور یہ سمجھ لینے سے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور کوئی دشمن اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا، ملک کو درپیش خطرات کو ٹالنا مشکل ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے واشنگٹن میں ’2017 اور اس کے بعد خارجہ پالیسی کے چیلنجز‘ کے نام سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تفصیل سے حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے بارے میں بات کی۔ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ پاکستانی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کاروائی کرے کیوں کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن اور سیاسی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہؤا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے تحت قبائیلی علاقوں میں تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف یکساں قوت سے کارروائی کی گئی ہے اور اب پاکستان میں کسی دہشت گرد گروہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ پاکستان اگرچہ امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے لیکن امریکہ اور دیگر عالمی تبصرہ نگاروں کو اس بارے میں شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ مراسم ہیں اور وہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے طالبان کے ساتھ قطع تعلق کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریکس ٹلرسن نے پاکستان کی اس کمزوری کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ یہ تعلقات ایک دہائی پہلے پاکستان نے اپنے خیال میں بعض اچھی وجوہات کی بنا پر یہ استوار کئے ہوں لیکن اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب ان تعلقات کو بھی تبدیل ہو نا چاہئے۔ اگر پاکستانی اب بھی ہوشیار نہیں ہوں گے تو وہ اپنے ہی ملک سے ہاتھ دھو سکتے ہیں‘۔
کسی امریکی لیڈر کی طرف سے یہ انتباہ انتہائی پریشان کن اور تشویشناک ہے کہ پاکستان کا علاقہ دہشت گردوں کے قبضے میں جا سکتا ہے اور وہ اپنی خود مختاری سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اس کا مناسب حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ان باتوں کو محض ایک سپر پاور کے مخبوط الحواس صدر کے وزیر خارجہ کی یاوہ گوئی قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ پاکستان کے حالات پر نظر ڈالنے سے یہ گمان بھی ہوتا ہے کہ پاکستانی قیادت یا تو معاملات کی سنگینی سے آگاہ نہیں ہے یا اس پر توجہ مبذول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سول حکومت مختلف قسم کے تنازعات کا شکار ہے اور ملک کی ساری سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر یا مل کر حکمران جماعت کو زیر کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ جبکہ حساس ادارے طاقت کا محور و مرکز ہونے کے باوجود ملک میں برسراقتدار منتخب حکومتوں کے خلاف سازشوں کا حصہ بنے نظر آتے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کو اس حوالے سے عسکری اداروں سے یکساں شکایات ہیں۔ حال ہی میں فیض آباد دھرنے میں ایک تو فوج سول حکومت کو کمزور اور لاچار کرتا دکھائی دی تو دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ عسکری ادارے اب نئے مذہبی گروہوں کو انتشار اور بدامنی کی سیاست میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ طرز عمل ان اندیشوں میں بھی اضافہ کرتا ہے کہ ملکی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اپنا اصل کام کرنے کی بجائے قومی سلامتی اور مفاد کے نام پر ملکی سیاست میں زیادہ مصروف عمل ہیں۔ اس طرح ایسے گروہوں کو قوت پکڑنے کا موقع ملتا ہے جو انتشار اور تصادم کی کیفیت میں اپنا راستہ بناتے ہیں۔
وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے بیان پر غور کیا جائے تو اس کے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کی پالیسیاں غلط ہیں اور ان کی وجہ سے ایسے عناصر قوت پکڑ رہے ہیں جو جلد یا بدیر پاکستانی ریاست کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ انتباہ حقیقت کے بہت قریب دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی زمانے میں پاکستانی عسکری اداروں کے ’اثاثے‘ تھے۔ لیکن انہوں نے بعد میں اسلامی نظام کے قیام کا نعرہ لگاتے ہوئے پاکستانی ریاست کو ہی اپنے نشانے پر لے لیا۔ یہ جنگ اب تک جاری ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں فوجی اور شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور اس جنگ سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس کے سماجی شعور پر مرتب ہونے والے اثرات اپنی جگہ مہلک اور اندیشوں سے پر ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نقصان اٹھانے کے باوجود پاکستان میں اب بھی یہی رائے غالب ہے کہ اصل خطرہ طالبان نہیں ہیں بلکہ امریکہ کی دوستی کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بننا پڑا۔ اسی لئے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو بھی حقیقی خطرہ کی نشاندہی سمجھنے کی بجائے اس کو پاکستان سے امریکہ کی عداوت اور دشمنی قرار دے کر نعرے بازی سے اس کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ امریکہ متنبہ کررہا ہے کہ پاکستان نے اگر افغانستان میں اس کے اہداف کے لئے تعاون نہ کیا تو وہ بھی انہی ہتھکنڈوں کو استعمال میں لا سکتا ہے جو پاکستان نے افغانستان کے بارے میں اختیار کئے تھے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مدخلت کے بعد بلوچستان میں بھارت کی دراندازی کی صورت میں اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ اگر امریکہ بھی افغان طالبان کے عناصر کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا تہیہ کرلیتا ہے تو یہ ایک مشکل اور خطرناک صورت حال ہوگی۔ امریکہ کے پاس یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے وسائل بھی ہیں اور وہ افغانستان میں اپنی موجودگی سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے ایسے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
البتہ اس قیاس کو صرف امریکہ دشمن نعروں میں تبدیل کرنے سے پاکستان کے مفاد کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے قومی سطح پر زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ ضروری ہوگا۔


