پاکستان کی مشکلات: افغان جنگ، دہشت گردی اور بھارت


پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں سامنے آنے والے اشاروں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں فوری تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے شاکی ہیں اور دونوں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے علاقے میں دہشت گردی کے فروغ کی ساری ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے پاکستان کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ بصورت دیگر پاکستان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران پینٹا گان نے جنوبی ایشیا میں امریکی حکمت عملی کے بارے میں جو رپورٹ کانگریس کو پیش کی ہے، اس میں نہ صرف پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم فریق مانا گیا ہے بلکہ یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد کے دونوں طرف دہشت گردوں نے اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس رپورٹ میں بھی پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات ختم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف زیادہ فعال ہونے کا تقاضا کیا گیا ہے لیکن یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کا فائدہ افغانستان میں جاری جنگ میں بھی ہوا ہے۔

امریکی کانگریس نے جنگی نقصانات کی ادائیگی کی مد میں پاکستان کو 700 ملین ڈالر ادا کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کرکے پاکستان کےلئے ان وسائل کی فراہمی کی اجازت دے دی ہے۔ امریکہ کی طرف سے افغان جنگ میں تعاون اور سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ نقصان کی مالی تلافی کےلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام سے پاکستان کو ادائیگی کی جاتی ہے۔ اصولی طور پر یہ رقم پاکستان کی خدمات اور نقصان کا ہرجانہ اور معاوضہ ہوتا ہے لیکن امریکہ کے سیاستدانوں نے اسے مسلسل سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جب بھی پاکستان پر دباؤ ڈالنا مقصود ہوتا ہے تو کانگریس میں امریکہ کی پاکستان کے لئے امداد کی دھوم مچا کر عارضی طور پر اس فنڈ سے ادائیگی روک لی جاتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ ہتھکنڈہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ 21 اگست کو افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے رویہ کی شکایت کرتے ہوئے انہوں نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو ارب ہا ڈالر کی امداد دینے کے باوجود وہ امریکہ کے اہداف حاصل کرنے میں مکمل تعاون نہیں کرتا۔ پاکستان کی طرف سے اگرچہ اس غیر ضروری جنگ سے ہونے والے مالی نقصانات کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن کبھی بھی بھرپور طریقے سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ پاکستان کی امداد کےلئے قائم نہیں کیا گیا بلکہ یہ افغان جنگ میں ہونے والے مصارف کا حصہ ہے۔ اب ٹرمپ حکومت یہ تسلیم کرنے لگی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کےلئے صرف دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی مکمل طور سے کامیاب نہیں ہوگی۔ اسی لئے پاکستان کے رکے ہوئے فنڈ فراہم کرنے کے علاوہ پاکستان کی خدمات کا اعتراف اور ضرورت کے بارے میں بیانات بھی سامنے آتے ہیں۔

اس کا تازہ ترین اظہار امریکی پینٹا گان کی کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ البتہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ امریکہ افغان جنگ میں کامیابی کےلئے پاکستان سے الگ بھی منصوبوں پر عمل کرے گا۔ ان میں افغان حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی تیار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن اس حوالے سے یہ رپورٹ اسی طرح تضادات کا شکار ہے جو پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ایک طرف رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کو علم ہونا چاہئے کہ افغانستان میں جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور انہیں مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی طرف آنا چاہئے۔ اس بات میں زور دینے کےلئے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کو جان لینا چاہئے کہ وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ دوسری طرف افغان حکومت کے ساتھ مل کر طالبان مخالف حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے لیکن اسے امریکی امداد کا بلینک چیک بھی نہیں سمجھنا چاہئے۔ امریکہ جب خود ہی کسی منصوبہ پر عملدرآمد کےلئے اس قسم کی قدغن عائد کرتا ہے تو اس کے خلاف لڑنے والے گروہ مطمئن اور پرجوش ہو جاتے ہیں۔

افغانستان میں جاری مسلح جدوجہد میں کامیابی یا ناکامی کے پیمانے سے صرف امریکی کارکردگی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ طالبان تو ہمیشہ سے وہاں تھے اور وہیں رہیں گے۔ وہ چند علاقوں سے پسپا ہونے کے بعد بعض دوسرے علاقوں پر قبضہ کر لیں گے۔ افغان معاشرے پر طالبان کا اثر و رسوخ 17 برس کی جنگ میں ختم نہیں کیا جا سکا۔ اسے مزید جنگ سے بھی ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ امریکہ افغانستان میں سیاسی حل کی بات کرتے ہوئے افغان طالبان کو فریق تو مانتا ہے لیکن انہیں ابھی تک ایک مساوی حریف کا درجہ دینے پر تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طالبان کو دہشت گرد کہتے ہوئے افغان جنگ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتا ہے جبکہ افغان طالبان امریکہ کو اپنے ملک پر قابض طاقت کا درجہ دیتے ہوئے اس کے خلاف جنگ کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ چونکہ ایک بڑی طاقت کے خلاف گوریلا جنگ کر رہے ہیں، اس لئے دہشت گرد حملوں کو بھی جائز قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اکثر صورتوں میں یہ حملے فوجی تنصیبات کی بجائے عام شہریوں پر کئے جاتے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل فریقین کی طرف سے دو طرفہ احترام کے اصول کو مان کر ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کو ماننا ہوگا کہ طالبان نے اگرچہ دہشت گردی کو ہتھکنڈے کے طور پر اختیار کیا ہے لیکن وہ دراصل اپنے ملک سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کی کوشش کر رہے ہیں اور افغانستان سے باہر دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں۔ اسی طرح افغان طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکہ 17 برس سے اس جنگ میں ملوث ہے۔ کسی باقاعدہ سمجھوتہ کے بغیر اس کےلئے افغانستان سے نکلنا آسان نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے اس کا موقع فراہم کیا جائے تو امریکہ جلد از جلد افغانستان سے نکلنا چاہے گا۔ اس لئے مذاکرات کےلئے امریکی افواج کے انخلا کی شرط کو نرم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح انہیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ شہری اجتماعات اور ٹھکانوں پر حملوں کے ذریعے وہ اپنی قوت کا اظہار کرنے کی بجائے افغانستان کی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ کیونکہ ان حالات میں متعدد عسکری گروہوں کو قوت پکڑنے اور جنگ کا حصہ بننے کا موقع مل رہا ہے۔ ان میں داعش اور القاعدہ سرفہرست ہیں۔ کسی سیاسی حل کی صورت میں ان گروہوں کےلئے افغانستان کی سرزمین تنگ ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی حل میں تاخیر کر دی گئی تو داعش جیسے گروہ اتنی طاقت پکڑ سکتے ہیں کہ وہ افغان عوام کو کسی ممکنہ امن معاہدہ سے استفادہ کرنے کا موقع ہی نہ دیں۔

پاکستان میں امریکہ کی حکمت عملی کے حوالے سے جس پریشانی کا اظہار سامنے آتا ہے وہ افغانستان اور علاقے میں بھارت کا کردار اور سی پیک منصوبہ کے خلاف امریکہ کے عزائم ہیں۔ ان اندیشوں کا اظہار وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے قومی سلامتی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھی کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ بھارت کی زبان بولتا ہے اور اس علاقے میں اس کے مفادات کا ضامن بنا ہوا ہے حالانکہ بھارت مسلسل پاکستان کےلئے خطرہ ہے اور اس کے خلاف جنگ کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ اس خطاب میں ناصر جنجوعہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور افغانستان کے راستے بھارت کی تخریب کاری کا ذکر بھی کیا۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ کی اس پالیسی کا مقصد علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا اور روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ ان کا یہ موقف بھی ہے کہ افغان طالبان مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں اور بھارت نت نئے ہتھیار حاصل کر رہا ہے۔ اس لئے جنوبی ایشیا میں صورتحال تبدیل ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ امریکہ افغان طالبان کی قوت کا سبب بیرونی امداد کو قرار دیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے اس کا اشارہ پاکستان کی طرف ہوتا ہے۔ پاکستان اگرچہ یہ سمجھتا ہے کہ افغان طالبان کے مضبوط ہونے سے افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا سکے گا۔ لیکن وہ یہ فراموش کرنے کی غلطی کرتا ہے کہ طالبان جب افغانستان میں طاقتور ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سے پاکستان میں ان کے حامی بھی قوت پکڑتے ہیں۔ ملک میں مذہبی شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی صورتحال ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اس طرح افغانستان میں بھارتی اثر کو ختم کرنے کی خواہش میں پاکستان داخلی مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے موقف کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا ضروری ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور سے پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ہمسایہ ملک کے علاوہ دہشت گردی کا شکار معاشرہ ہونے کے طور پر بھی ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ مذہبی انتہا پسندی اور عسکری گروہوں کو ختم کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali