پاکستان امریکہ آمنے سامنے: نقصان کس کا ہوگا


امریکی نائب صدر مائیک پنس کے اچانک دورہ افغانستان کے موقع پر پاکستان کے خلاف سخت بیان اور انتباہ کے بعد وزارت خارجہ اور آئی ایس پی آر نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان الزام تراشی اور ایک دوسرے سے شکوے شکایات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے قبل ڈھکے چھپے انداز میں ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اور پاکستان بھی اپنے طور پر امریکی حکام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد سے پاکستان کو افغانستان میں طالبان کے قوت پکڑنے اور دہشت گردی کے فروغ کا سبب قرار دیتے ہوئے یہ انتباہ دینا شرع کیا ہے کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ دینے سے گریز کی پالیسی اختیار نہ کی تو اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اگرچہ صدر ٹرمپ یا ان کے نمائیندے ابھی تک یہ واضح نہیں کر پائے ہیں کہ امریکہ کون سے ٹھوس اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے اور پاکستان اگر ان میں تعاون پر آمادہ نہیں ہے تو امریکہ کے پاس پاکستان کو ’سزا‘ دینے کے کیا آپشنز ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے بھی پہلی بار امریکی تقاضوں کو مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کو نہ امریکی امداد کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ ڈو مور کا مطالبہ مزید پورا کرنے کے لئے تیار ہے۔ امریکہ کو پاکستان سے تعاون کا مطالبہ کرنے سے پہلے خود ان عناصر کا خاتمہ کرنا چاہئے جو افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اچانک افغانستان پہنچ کر وہاں تعینات امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر مائیک پنس نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ پاکستان اگر امریکہ کے ساتھ تعاون کرے گا تو اس کا ہی فائدہ ہوگا۔ دہشت گردوں کو پناہ دینے کا زمانہ لد گیا۔ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے اپنا بہت نقصان کرے گا‘۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغانستان میں فتح بہت قریب ہے۔ امریکی نائیب صدر کے اس بیان سے یہ اندازہ کرنا تو مشکل نہیں ہے کہ اس قسم کے دعوے زمینی حقائق سے مماثلت نہیں رکھتے۔ افغانستان کی صورت حال انتہائی پیچیدہ اور مشکل ہے۔ امریکہ سترہ برس سے اس جنگ میں کثیر وسائل صرف کرنے کے باوجود کوئی پیش رفت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے کیوں کہ وہ کابل میں ایک ایسی حکومت کو افغان عوام پر مسلط کرنے کی تگ و دو کرتا رہا ہے جو افغان عوام سے زیادہ امریکہ اور علاقے میں اس کے مفادات کی وفادار ہو۔ اس صورت میں امریکہ کی جنگ دہشت گردی اور عسکری گروہوں سے زیادہ اس کے مفادات اور علاقے پر وسیع المدت تسلط کی جنگ بن کر رہ گئی ہے۔ اسی لئے امریکہ دعوے کرنے اور طویل مدت تک اپنے فوجیوں کو جنگ میں جھونکنے کے باوجود افغان عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کے ساتھ امریکہ کے اختلافات کی بنیادی وجہ بھی مفادات کا یہی ٹکراؤ ہے۔ ہر ملک اپنے علاقائی، جغرافیائی اور معاشی مفادات کے لئے کام کرتا ہے۔ دو ملک مل کر اسی وقت چل سکتے ہیں جب اس تعاون سے دونوں کے مفادات پورے ہو رہے ہوں۔ لیکن امریکہ ایک بڑی طاقت ہونے کے ناتے چھوٹے ملکوں کو اپنا آلہ کار بنانے کا طریقہ آزماتا رہا ہے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان نے کسی حد تک اس کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پاکستان اس علاقے میں امریکی مفادات کا محافظ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب امریکہ کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں اس کے اپنے قومی مفادات بھی محفوظ ہوں اور اسے بھی ان تعلقات سے فائدہ حاصل ہو تا ہو۔ امریکہ کی افغان پالیسی میں اس بنیادی اور اہم نکتہ کو فراموش کیا جاتا ہے۔ اسے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے وفور میں دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے اور ان کے لئے گنجائش پیدا کرنے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ اسی لئے پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات غلط فہمی سے بڑھ کر شبہ اور اب بد گمانی اور دھمکیوں تک پہنچ چکے ہیں لیکن امریکی قیادت ‘امریکہ سب سے پہلے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے یہ بھول رہی ہے کہ پاکستان پر الزام تراشی سے امریکہ کامیاب نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی دوسرے ملکوں کو نیچا دکھانے سے امریکی مفادات کا تحفظ ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس قسم کی کوشش شمالی کوریا اور اسرائیل کے حوالے سے بھی کرچکے ہیں۔ اقوم متحدہ کے پلیٹ فارم سے ٹرمپ نے شمالی کوریا کو تباہ کردینے کی دھمکی دی تھی جس کا دنیا بھر کے ماہرین نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح دو ملکوں کے درمیان اختلافات دور نہیں کئے جا سکتے۔

امریکہ خود جوہری قوت ہوتے ہوئے کسی دوسرے ملک کو یہی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔ اس کے لئے ویسا معاہدہ کرنے اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے جس کا مظاہرہ سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے کیا تھا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اسے بدترین معاہدہ قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔ ان کے اپنے قریب ترین حلیف ممالک اس معاملے پر ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اب بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے امریکہ نے دنیا بھر میں خود کو تنہا کر لیا ہے۔ جوممالک کسی طور امریکہ سے اختلاف کی خواہش نہیں رکھتے، وہ بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکہ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ یہ شہر متنازعہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان افہام و تفہیم سے ہی ممکن ہے۔ لیکن ٹرمپ اپنی ترنگ میں یہ دعوے کررہے ہیں کہ وہ امریکہ سے امداد لینے والے ملکوں کی امداد بند کردیں گے۔ یہ ایک توجہ طلب سوال ہے کہ کیا اس طرح امریکہ اس ہزیمت اور شرمندگی سے محفوظ رہ سکے گا جو بیت المقدس کے معاملہ میں اس کا مقدر بن چکی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہے کہ غریب ممالک امریکہ سے اربوں ڈالر امداد وصو ل کرتے ہیں اس لئے انہیں خود مختارانہ رائے رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکہ یا دوسرے ترقی یافتہ ممالک جو امداد ترقی پذیر ملکوں کو دیتے رہے ہیں، وہ ان صنعتی، ماحولیاتی اور تجارتی مفادات کے مقابلے میں بہت کم ہے جو ان غریب ملکوں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ امریکہ کی طاقت اور دولت کے بل بوتے پر دنیا کے ہر ملک کو آنکھیں دکھانے اور اس کے ساتھ من مانی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ خود اپنے بودے پن کا اظہار کرنے کے سوا کچھ اور نہیں کرسکتے۔ اس رویہ کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو جو رقوم کولیشن سپورٹ فنڈ میں فراہم کرتا ہے ، وہ کوئی احسان یا امداد نہیں ہے بلکہ یہ رقم ان اخراجات کی تلافی کے لئے ادا کی جاتی ہے جو پاکستان امریکہ کی عسکری اور تکنیکی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے برداشت کرتا ہے۔ اس دعوے کا ایک رخ اس حقیقت سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے دورہ کے دوران ٹرمپ نے اربوں ڈالر کا اسلحہ اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کے جو معاہدے کئے تھے، اس سے امریکی معیشت کو ہی استحکام نصیب ہوگا۔ یہ دنیا مفادات کے باہمی احترام کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتی ہے۔ کوئی ملک کسی بھی طور کسی دوسرے ملک کی مجبوری یا کمزوری کے لئے آگے بڑھ کر صرف اس لئے ا مداد نہیں کرتا کہ اس کے پاس وافر وسائل موجود ہیں۔ ہر ملک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس امداد یا تجارت کے بدلے اسے بھی تجارتی یا اسٹریجک مفادات حاصل ہوں۔ امریکہ کے تاجر صدر کو یہ سبق از سر نو سمجھنے اور یاد کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان میں امن کے حوالے سے پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہوئے امریکہ کو یہ غور ضرور کرنا چاہئے کہ اس طرح وہ کون سے امریکی مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر وہ افغانستان میں کسی بھی قسم کا کوئی مقصد حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی لئے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’حلیفوں کو دھمکیاں نہیں دی جاتیں ، اس سے ان مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے جو دو ملک مل کر حاصل کرنا چاہتے ہیں‘۔ اسی لئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ’ امریکہ اگر واقعی دہشت گردی کو ختم کرنے کا دعوے دار ہے تو وہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو ختم کرے‘ ۔ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی اعانت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان دشمن گروہوں کی افغانستان میں پرورش کرتے رہنا کسی طور امریکہ کی نیک نیتی کو ظاہر نہیں کرتا۔ پاکستان نے دہشت گردی سے شدید نقصان بھی اٹھایا ہے اور اس کے خلاف کسی حد تک کامیاب جنگ بھی کی ہے۔ تاہم امریکہ کے ساتھ اس کے اختلافات کی بنیاد یہ ہے کہ امریکہ افغان سرزمین کو بھارت کے پاکستان دشمن عزائم کا مسکن بنانے میں تعاون کررہا ہے۔ پاکستان اس حکمت عملی کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کی معیشت کے لئے واحد امید سی پیک منصوبہ کو ناکام بنانے کا خواہشمند ہے تاکہ چین کی بڑھتی ہوئی تجارتی اور سفارتی طاقت کو محدود کیا جا سکے اور بھارت کو اس کے مقابلے میں کھڑا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ یہ عزائم پاکستان کی ضرورتوں اور مفادات سے براہ راست متصادم ہیں۔ لیکن امریکہ اپنی طاقت کے نشہ میں اس سچائی کو دیکھنے اور سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے۔

 دونوں ملکوں کے درمیان الزام تراشی کی موجودہ صورت حال کسی طور خوش آئند نہیں ہے۔ لیکن بوجوہ پاکستان اس حوالے سے امریکہ کے خلاف پروپیگنڈا کی جنگ میں مسلسل پسپا ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی حکام عوام کو حقیقی صورت حال کے بارے میں اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ داخلی ضرورتوں کے تحت کئے جانے والے بعض فیصلے پاکستان کے ایک امن پسند اور انتہا پسندی کے خلاف سرگرم ملک کے امیج کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا معاملہ سرفہرست ہے۔ اسی طرح سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی اور ملک کی جمہوری حکومت کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا رکھنے کا ملکی سیاست میں جس کو جو بھی فائدہ ہو لیکن عالمی سطح پر ذمہ دار جمہوری مملکت کے طور پر پاکستان کی شہرت داغدار ہوتی ہے۔ پاکستان امریکہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ نہ ہی امریکہ پاکستان کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان اپنی شہرت بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کرسکتا ہے اور اگر امریکہ کے خلاف اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کی مؤثر کوشش نہ کی گئی تو امریکہ پاکستان کی سفارتی اور مالی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali