چیف جسٹس کا انکسار اپنی جگہ مگر شان تو لیڈروں والی ہے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں لیڈر بننے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن جس طرح انہوں نے عوام کے مسائل حل کرنے اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ، اس سے ان کی شان و شوکت ایک جج سے زیادہ لیڈر کے طور پر ہی نمایاں ہو رہی ہے۔ یوں بھی کچھ عرصہ سے اعلیٰ عدالتوں سے سیاسی معاملات پر فیصلے دینے اور تبصرے کرنے کی صدائیں ہی بلند ہو رہی ہیں۔ کسی اہم آئینی یا قانونی معاملہ پر کوئی پرمغز فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔ بعض جج فیصلوں میں شاعری کرتے ہیں اور ایسے اشارے دیتے ہیں جن کا رشتہ قانون کی کتاب کی بجائے افسانوی مافیا سے جا ملتا ہے اور پھر ان کرداروں کی حقیقت میں نشاندہی کرنے کے لئے عرق ریزی کی جاتی ہے۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ ججوں کی باتیں صرف فیصلوں کے ذریعے عام نہیں ہوسکتیں چیف جسٹس نے نہ صرف تقریروں کا سہارا لیا ہے بلکہ سرکاری اسپتالوں کے دورے کرکے یہ واضح کیا ہے کہ ججوں کو کمرہ عدالت میں ’محصور ‘ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود جسٹس ثاقب نثار اس انکسار کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ وہ لیڈر بننا نہیں چاہتے۔
سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں آلودہ پانی کے ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہ صرف مخالفین کی تنقید کا جواب دیا بلکہ سیاسی لیڈروں کی طرح ایک منشور کا اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا ہے۔ وہ چونکہ عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہیں اس لئے ان کی بات کو چیلنج کرنا تو توہین عدالت ہی کہلائے گی جس کا حوالہ انہوں نے مقدمہ کی سماعت کے دوران دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر سرکاری اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں نے ان کے حکم کے مطابق صورت حال کو تبدیل نہ کیا تو توہین عدالت کے قانون کو حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ اس طرح آئین و قانون کی نئی تشریح اور تفہیم کرتے ہوئے چیف جسٹس توہین عدالت کے اختیار کو بھی نئے معانی پہنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب تک تو یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ کمرہ عدالت میں اگر کسی سائل یا اس کے وکیل سے جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی گستاخی سرزد ہو جائے تو جج حضرات اس کی نشاندہی اور تنبیہ کے لئے توہین عدالت کے اصول کو بروئے کار لاتے ہیں۔ عام طور سے ایسی غلطی کا ارتکاب کرنے والے جب اپنی کوتاہی کا اعتراف کرلیتے ہیں تو یہ نوٹس واپس لے لیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کی سپرینم کورٹ کو ہی یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ توہین عدالت کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ملک کے منتخب وزیر اعظم کو اس کے عہدے سے معزول بھی کرچکی ہے۔ اب جسٹس ثاقب نثار اس روایت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ان کی ہدایت پر سر کے بل حاضر رہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے آج مقدمہ کی سماعت کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئندہ برس انتخابات سے پہلے سندھ اور پنجاب کے شہریوں کے لئے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس راستے میں آنے والے لوگوں کے خلاف حکم جاری کرسکتے ہیں۔ یہ قصد کسی سیاسی لیڈر کے انتخابی منشور کا ہم آہنگ لگتا ہے۔ لیکن سیاسی لیڈروں کے پاس اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوئی اختیار نہیں ہوتا البتہ جسٹس ثاقب نثار نے واضح کردیا ہے کہ وہ با اختیار ہیں اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کریں گے۔ اب عام آدمی خود ہی اندازہ کرسکتا ہے کہ جو مسئلہ دہائیوں کی لاپرواہی، ناقص منصوبہ بندی اور وسائل کی کمیابی کی وجہ سے پیدا ہؤا ہو ، اسے حل کرنے کے لئے ایک سیاسی لیڈر سے زیادہ مستعد چیف جسٹس کی ضرورت ہے جو قیادت کا حق بھی ادا کرے لیکن انتہائی انکسار سے اس کا انکار بھی کرتا رہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے لاہور میں میو ہسپتال کے دورہ پر سامنے آنے والی تنقید کا مستک جواب دیتے ہوئے یہ بھی واضح کردیا کہ مخالفین کے بے جا اعتراضات کا جواب دینے میں صرف سیاست دان ہی طاق نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو بھی یہ کام بخوبی آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین جو بھی کہتے رہیں لیکن میں اس قسم کے اقدام کرتا رہوں گا کیوں کہ قانون مجھے اس بات کی اجاازت دیتا ہے۔ چونکہ قانون کے معانی سمجھانا بھی عدالت عظمیٰ ہی کا کام ہے اس لئے چیف جسٹس کی بات کو برحق مانتے ہوئے صاد کہنے کے سوا چارہ ہی کیا ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمی کے چیف جسٹس تو ’قانون کے مطابق‘ ہی ہسپتالوں کا دورہ کرنے، حکومتی انتظامی معاملات کی نگرانی کرنے اور سیاسی معاملات میں رائے زنی کرنے کا ’حق‘ حاصل کررہے ہیں لیکن اس ملک میں تو یہ روایت بھی بہت مضبوط ہے کہ شانے پر عہدے کے اسٹار لگانے والے جرنیل حسب مرضی آئین کو کاغذ کا فالتو ٹکڑا قرار دے سکتے ہیں یا جب چاہے منتخب وزیر اعظم کو کان سے پکڑ کر چلتا کر سکتے ہیں۔
فوج کی اس زور زبردستی کی روایت کا ہی شاخسانہ ہے کہ سیاسی لیڈر مسلسل جی ایچ کیو کے اشارے اور خوشنودی کے منتظر رہتے ہیں اور پارلیمنٹ کو اقتدار و اختیار کا منبع قرار دے کر منتخب نمائیندوں کو احترام دینے کی باتیں کرنے والوں کو حقیقت سے فراریت کا الزام دیا جاتا ہے۔ یعنی فوج اگر آئین شکنی کرے تو اسے زمینی حقیقت قرار دے کر قبول کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنے والے فوجی سربراہ کو ’زمینی حقائق ‘ کے عین مطابق اقدام کرنے کا مشورہ بھی اکثر و بیشتر سامنے آتا رہتا ہے۔ البتہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ارشادات کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ فوج کے بعد اب شاید عدالت عظمی کے قابل صد احترام جج حضرات اس روایت کا حصہ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس دشت کی سیاحی میں ججوں کی کامیابی کے امکان بھی جرنیلوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہو سکتے۔ اس طبع آزمائی میں البتہ یہ اندیشہ موجود رہے گا کہ اگر کسی مرحلے پر سیاست دانوں نے کسی طریقے سے ججوں کا کام سنبھالنے کا قصد کیا تو ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی کا کیا عالم ہوگا۔


