فیک نیوز اور گرتا ہوا عالمی صحافتی معیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں آئی ٹی اور اے آئی کی بدولت آنے والے انقلاب نے ہر شعبے کی طرح صحافت پر بھی دیرپا اثرات مرتب کیئے ہیں۔ اور عالمی سطح پر کافی عرصے سے جرنلزم کو از سر نو ”ڈیفائن“ کرنے کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

کیونکہ الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا پر پوری طرح حاوی ہو چکا ہے۔ مختلف نیوز چینلز کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور یہی حال رہا تو صحافت صرف ریٹنگز اور پیسے کا کھیل بن کر رہ جائے گی۔ ان ہتھکنڈوں میں تیزی سے ٹرینڈ پکڑتا ہوا ایک عنصر ”فیک نیوز“ یا جعلی خبریں بھی ہے۔

بلا شبہ ایک عشرے پہلے تک صحافت ایک مشکل ترین پیشہ سمجھا جاتا تھا جس میں قدم رکھنے والے ہر نو وارد کے لئے سب سے بڑا چیلنج سچ کی جستجو تھا، ہر طرح کی مزاحمت، دباؤ اور بلیک میلنگ کے باوجود عوام تک بر وقت اور درست خبر پہنچانا ہی جس کا نصب العین ہوا کرتا تھا۔ اسی لئے لوگ اخبار و رسائل کی خبروں پر حرف ِ آخر کی طرح یقین رکھتے تھے، مگر جب سے الیکٹرانک میڈیا کی ابتدا ہوئی ہے، قابل ِ بھروسہ ذرائع کی تعداد اتنی ہی کم ہوتی جارہی ہے، اب خبر سے زیادہ ترددد اس کے اصلی یا جعلی ہونے کے بارے میں کیا جانے لگا ہے۔ صحافتی اخلاقیات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیکر، دوسرے چینلز سے پہلے خبر نشر کرنے اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے غیر مصدقہ ذرائع سے ملنے والی خبریں بھی فوراً نشر کردی جاتی ہیں اور عموماً خبر کے بے بنیاد ثابت ہونے پر کوئی وضاحت دینا بھی پسند نہیں کی جاتی۔ صحافت کے گرتے ہوئے معیار اور عالمی میڈیا میں بڑھتی ہوئی مسابقت سے پیدا ہونے والے مسائل اور جعلی خبروں کے نیٹ ورک کو توڑنے کی سٹر ٹیجی بنانے کے لئے کچھ عرصے قبل ہارورڈ یونیورسٹی کے سکول آف لا ء میں برک مین کلائن سینٹر فار انٹر نیٹ اینڈ سو سائٹی کے اشتراک سے ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا۔

ہارورڈ سکول آف لاء کی ڈین مارتھا مینو کے مطابق صحا فت کے مستقبل کو درپیش گو نا گوں مسائل کو زیر ِ بحث لانے سے پہلے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ فیک نیوز یا جعلی خبریں اصل میں ہوتی کیا ہیں؟ اور ان کو پھیلانے کے پیچھے کون سے اسباب کارفرماہوتے ہیں؟

یہ ایک مشاہدہ ہے کہ سی این این، بی بی سی، یا پاکستان کے میجر نیوز چینلز پر جب کوئی خبر بنا تصدیق کے نشر کی جاتی ہے، یا جس کے ذرا ئع قابل ِ بھروسہ نہ ہو ں، تو اس کے درپردہ کئی عوامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حکومتی ذرائع سے ایسی خبریں مخالفین کے پروپگینڈے کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے از خود بھی نشر کروائی جاتی ہیں، اس طرح سیاست دانوں کے ذاتی عناد اور چپقلش کی ضد میں وہ نیوز چینلز بھی آجاتے ہیں جو اپنے طور پر میعار کو ترجیح دے کر عوام تک بر وقت اور درست خبر پہنچانے کی اپنی سی پوری کوشش کرتے ہیں۔ صحافتی اقدار کی زوال پزیری میں ایک بڑا کردار ان صحافیوں اور بلاگرز نے بھی ادا کیا ہے، جو کسی بھی چھوٹی سی غیر تصدیق شدہ خبر سے رائی کا پہاڑ کھڑا کرنے میں ملکہ رکھتے ہیں، خاص طور پر پاکستانی الیکٹرانک پر ایسے ہی بلاگرز اور جرنلسٹ کا راج ہے۔

اس پینل ڈسکشن میں شریک ہونے والے برک مین کلائن سینٹر کے کُو فاؤنڈر اور پروفیسر آف انٹرنیشنل لاء جوناتھن زیٹرین کا کہنا تھا کہ اصل ”جعلی خبر“ وہ ہوتی ہے جو جھوٹی ہو مگر ذاتی مفادات کے لئے جان بوجھ کر اس طرح نشر کی جائے کہ اس پر حقیقت کا گمان ہو، لہذاٰ کم علمی یا ”مصالحہ دار“ خبروں میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بنا تصدیق کے ان پر یقین کر لیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ الیکٹرانک میڈیا کا کمال ہے کہ ٹرمپ کی “چھینک” ہو یا وینا ملک کی ”خلع“ ہر افواہ راتوں رات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہے اور جب معتبر ذرائع سے تصدیق کی جائے تو اس کا کوئی سر پیر نہیں ملتا، عمو ماً اس طرح کی خبریں سیلیبریٹیز سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے خود بھی پھیلایا کرتے ہیں۔

ہاروڈ ڈین مارتھا مینو کے مطابق ہر علاقے اور ملک کے اپنے مجموعی معاشرتی رویئے بھی جعلی خبروں کو پھیلانے اور غیر معتبر صحافت کو پنپنے کا موقع دے رہے ہیں۔ ورنہ کوئی صاحب ِ علم شخص بنا تصدیق کے محض افواہ پر کان ہی نہیں دھرتا۔ اسی وجہ سے پاکستان میں جب کوئی خبر نشر کی جاتی ہے تو عوام کی اکثریت میجر نیوز چینلز اے آر وائی، جیو نیوز، ڈان اور دنیا نیوز سب کو باری باری چیک کرکے اس کو مصدقہ تسلیم کرتےہیں، نیوز چینلز کی بھرمار نے صحافتی اخلاقیات اور معیار کو گرانے میں بنیادی کردار کیا ہے، کیونکہ اگر لا تعداد چینلز سے بے حساب متفرق خبریں نشر کی جائیں تو لازمی عوام کے لئے ان میں سے صحیح یا غلط کا انتخاب کرنا ایک دشوار گزار عمل ہوگا۔

برک مین کلائن سینٹر کی ڈائریکٹر آف یوتھ اینڈ میڈیا سینڈرا کورٹیسی کے مطابق ان جعلی خبروں کو پھیلانے میں الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ عوام کا اپنا بھی ہاتھ ہے، سچ یا جھوٹ۔ اصلی یا جعلی کے جھمیلوں میں پڑنے سے کہیں زیادہ گمبھیر سوال یہ ہے کہ عوام خود کس چیز پر توجہ دیتے ہیں۔ مصالحہ دار خبریں، آرٹیکلز، بے سرو پا ”ٹاک شوز“ یا ”لوز ٹاکس“ تب ہی ٹرینڈ پکڑتے ہیں جب لوگ ان میں دلچسپی لیتے ہیں، اگر عوام کے لئے سچی اور معیاری خبر اہم ہو کوئی شک نہیں کہ نیوز چینلز اپنا چلن بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

صحافت کے گرتے ہوئے عالمی معیار اور جعلی خبروں کی رسد کو روکنے کے لئے کافی عرصے سے کوششیں کی جا رہی ہیں جس میں لائقِ ستائش گلوبل جرنلسٹ فرم ”میڈان“ کا قیام ہے۔ جس کا مقصد عالمی سطح پر ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے نشر ہونے والی ہر خبر کو باقاعدہ فلٹر کیا جائے، اور فی الوقت بھی ”پرو پبلی شیا“ اور ”ایمنیسٹی انٹرنیشنل“ جیسے معروف و معتبر ادارے میڈان کو استعمال کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے قیام کا ایک اور بڑا مقصد نیو جرنلسٹ جنریشن کو اعلی ٰ صحا فتی اقدار و اخلاقیات سے پوری طرح آگاہ کر کے ان میں یہ شعور بیدار کرنا ہے کہ افواہ، بہتان یا پروپیگینڈے میں بر وقت امتیاز کرکے اسے ”خبر“ بننے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر دس پندرہ برس قبل کے خبروں کے اس اعلی ٰ معیار کو بحال کیا جاسکے جو پبلک کے لئے ہر طرح سے قابل بھروسہ بھی تھا اور قابل ِ اعتماد بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •