پاک بھارت تعلقات میں برف پگھلنے کا امکان


 

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مشیران برائے قومی سلامتی نے گزشتہ منگل کو بنکاک میں ملاقات کی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور اجیت ڈیول کے درمیان اس ملاقات کے بارے میں اس ماہ کے شروع میں ہی دونوں ملکوں نے طے کرلیا تھا اور بظاہر اس کا 25 دسمبر کو اسلام آباد میں پاکستان میں قید بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بیوی اور ماں کی اس سے ملاقات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے سیکورٹی کے مشیر البتہ ایک ایسے وقت ایک تیسرے ملک میں ملاقات کررہے تھے جب بھارتی وزارت خارجہ کلبھوشن سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات کے حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کررہی تھی۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان سے ان دونوں خواتین کی واپسی کے بعد یہ الزامات عائد کئے گئے تھے کہ پاکستانی حکام نے ان کے ساتھ نازیبا سلوک روا رکھا اور ان کی مذہبی روایات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ الزام تراشی کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے تاہم اعلیٰ سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان ملاقات ایک خوش آئیند خبر ہے۔

پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور خیر سگالی کے اظہار کے لئے کلبھوشن کی بیوی کو موت کی سزا پانے والے جاسوس سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔ تاہم بھارت کی درخواست پر اس کی ماں کو بھی اس ملاقات میں شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی ملاقات کی نگرانی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ ملاقات مقررہ تیس منٹ کی بجائے چالیس منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پر خیر سگالی کے اظہار کے لئے کروائی گئی تھی لیکن دونوں ملکوں نے اسے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کے لئے استعمال کیا۔ پاکستان کی طرف سے اس ملاقات کا اہتمام میڈیا کو مطلع کئے بغیر بھی ہو سکتا تھا تاکہ اس موقع پر میڈیا کے ارکان کی طرف سے جو نازیبا کلمات کہے گئے یا الزام تراشی پر مبنی سوالات کرنے کی کوشش کی گئی ، اس سے بچا جا سکتا۔ کیوں کہ یہ پہلے ہی طے ہو چکا تھا کہ دونوں خواتین یا بھارتی سفارتی نمائیندے میڈیا سے بات نہیں کریں گے۔ تاہم خیر سگالی کے علاوہ اس ملاقات کا اصل مقصد پاکستان کی امیج بلڈنگ تھا جس کے لئے میڈیا کو ملوث کرنا ضروری سمجھا گیا۔

دوسری طرف بھارت نے کلبھوشن کے اہل خاندان کو یہ موقع ملنے پر اسے اپنے ایک شہری خاندان کے لئے نادر سہولت کے طور پر شکریہ کے ساتھ قبول کرنے کی بجائے ملاقات سے پہلے ہی اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی اور بعد میں ملاقات کے دوران پاکستانی حکام اور میڈیا کے رویہ کو موضوع بنا کر سنگین الزام تراشی کی گئی۔ بھارتی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کی گئی اور اس میں اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے ارکان نے یکساں طور سے پاکستان کے خلاف زہر اگلا۔ اب پاکستان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی حکام نے کلبھوشن کی بیوی چیتانکل کی جوتی اتروا لی تھی جو بار بار درخواست کرنے پر بھی واپس نہیں کی گئی۔ اور پاکستان اس حوالے سے کوئی ’شرارت‘ کرسکتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس جوتی میں دھات کی بنی کسی شے کا سراغ ملا ہے جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس طرح خیر سگالی کا ایک مشن دونوں ملکوں کے درمیان الزام تراشی کا نیا موقع بن کر رہ گیا۔

الزام تراشی اور بد گمانی کے ایسے ماحول میں اور ایسے وقت جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بند ہے، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے سلامتی کے مشیروں کی ملاقات اور اہم موضوعات پر بات چیت ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس ملاقات میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور اس کے بارے میں بھارت کے سخت رویہ پر بھی بات کی گئی۔ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے اس ملاقات کے بعد جمعرات کو جاتی عمرہ میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے پانچ گھنٹے کی طویل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بارے میں پاکستانی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں سامنے آنے لگی تھیں کہ یہ فوج کے ساتھ نواز شریف کی کسی درپردہ ڈیل کا حصہ تھی۔ تاہم اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ جنرل جنجوعہ سابق وزیر اعظم کو بھارتی وزیر اعظم کے سیکورٹی کے مشیر اجیت ڈیول کے ساتھ ملاقات کے بارے میں آگاہ کرنے گئے تھے ۔

پاکتسان کے لئے بھارت کے ساتھ تعلقات اب صرف مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہی اہم نہیں ہیں بلکہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل، افغانستان میں رونما ہونے والے حالات اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے دگرگوں تعلقات کی روشنی میں بھی اہمنیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ دونوں ملک مل جل کر باہمی تنازعات حل کرنے اور دوستی کا سفر شروع کرنے پر متفق ہو سکیں تو پورے خطے میں اقتصادی احیا اور سیاسی مفاہمت کا ایک اہم دور شروع ہو سکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان اپنے اپنے طور پر امریکہ اور دوسرے ملکوں سے تعلقات استوار کرکے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اس وقت بھارت کا پلڑا بھاری ہے کیوں کہ صدر ٹرمپ کی حکومت بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں ترجیح دے رہی ہے جبکہ پاکستان پر سخت الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔

دونوں ملک تصادم اور الزام تراشی کی جس حکمت عملی پر کاربند ہیں، اس سے وقتی فائد ہ تو اٹھایا جاسکتا ہے لیکن اس سے اس خطے میں مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی اہلکاروں کے درمیان ملاقات اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر جمی برف پگھلنے کا اشارہ ہے تو یہ اس خطے کے علاوہ پوری دنیا کے امن کے لئے ایک اچھی خبر ثابت ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali