ہالی ووڈ کی اداکارہ آخر عورت ہی تو ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 Bandidas ہالی وڈ کی فلم ایکشن کامیڈی فلم ہے۔

یہ فلم 2006 میں ریلیز ہوئی۔ 1890 کی دہائی کے پس منظر میں ماریہ ( پینیلوپ کروز) ان پڑھ لڑکی ہے اور ایک غریب کسان کی بیٹی ہوتی ہے جو ظالم جاگیردار ٹیلر کے ہاتھوں ظلم برداشت کرتا ہے۔ سارہ (سلمیٰ ہائیک) ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے جو میکسیکو کے ایک امیر شخص کی بیٹی ہے اور یورپ سے تعلیم حاصل کر کے یہاں آتی ہے۔ سارہ کے والد کو ٹیلر قتل کر دیتا ہے، ماریہ کے والد کو بھی ارادہ قتل میں گولی مار دیتا ہے لیکن وہ بچ جاتا ہے۔

سارہ کے پاس ایک آپشن یہ بھی ہے کہ وہ گاؤں سے واپس یورپ جائے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرے کیونکہ ٹیلر سارہ سے زبردستی شادی کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ماریہ کے پاس دو آپشنز ہیں کہ یا تو وہ اور گاؤں کے دوسرے لوگ جاگیردار ٹیلر کا ظلم برداشت کریں جو ان کا مالی استحصال کرتا ہے یا اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور آواز اٹھانے کے لئے ان کو سارہ کی ضرورت ہوتی ہے جو گاؤں سے بھاگ جانا چاہتی ہے۔ ماریہ کسی نہ کسی طرح سارہ کو روک لیتی ہے کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر ظالم جاگیردار کا مقابلہ کرے گی لیکن دونوں آپس میں بہت لڑتی ہیں۔

وہ ایک فادر (پریسٹ) کے پاس پہنچتی ہیں جو ان کو ایک پرانے ڈاکو کے پاس ٹریننگ کے لئے بھیجتا ہے۔ یہ ڈاکو اب فادر کے کہنے پر ہر قسم کا غیر قانونی کام چھوڑ چکا ہوتا ہے لیکن فادر ہی کے کہنے پر دونوں کی ٹریننگ کا ذمہ لیتا ہے۔

یہ فلم پینیلوپ کروز اور سلمیٰ ہائیک کی شہکار فلم ہے۔ اگر آپ نے یہ نہیں دیکھی تو میں آپ کو مشورہ دوں گی کہ پہلی ہی فرصت میں یہ فلم دیکھیں۔ اس کا ایک ڈائلاگ بہت زبردست ہے جب ماریہ اور سارہ کا ٹرینر ان کے آپسی جھگڑوں سے تنگ آ کر کہتا ہے کہ وہ ایک ان پڑھ جاہل اور ایک تعلیم یافتہ جاہل لڑکی کے درمیان میں پھنس گیا ہے۔

ہالی وڈ کی اداکارہ میرے لئے حوصلے اور جرات کی نمائندہ ہے جس نے مرد کے شانہ بشانہ اپنی پہچان بنائی ہے۔ لیکن ہالی وڈ کی اداکارہ آخر ہے تو عورت ہی۔ میں نے سلمیٰ ہائیک کے بارے میں پڑھا کہ فلم پرڈیوسر ہاروی وائن نے اس آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ کو بھی جنسی طور پر کئی بار ہراساں کیا۔ مجھے یہ پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ جو خواتین ہمیں انٹرٹین کرتی ہیں وہ خود کس مشکل سے گزرتی ہیں۔

اپنے آفس کی طرف سے مَیں جنسی ہراسیت اور چائلڈ ابیوز پر ایک مقالے پر کام کر رہی ہوں۔ جس کے لئے مَیں ماہرِ نفسیات سے بھی ملی اور معلوم ہوا کہ زندگی میں ہر عورت چاہیے وہ جھونپٹری میں رہتی ہو یا بنگلے میں، ایک نہیں کئی بار جنسی ہراسیت کے تجربے سے گزرتی ہے۔

2018 میں یونیسن کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 50 فیصد ورکنگ خواتین کو جنسی ہراسیت کا سامنا ہے (کہنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حضرات کو اِس مشکل کا سامنا نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مرد بڑی حد تک اِس سے محفوظ ہیں)۔

۔ unwanted touch ایک خاتون کا سارا دِن (کارکردگی کے لحاظ سے) برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔ ورکنگ خواتین ہر روز ایسے تجربات میں سے گزرتی ہیں۔ مرد کے لئے تو یہ معمولی سی بات ہو سکتی ہے کہ بس چھوا ہی تو ہے یا بات ہی تو کی ہے لیکن ایک خاتون کی روح تک متاثر ہوتی ہے۔

میں بطور عورت صدق دل سے یہ قبول کرنے کے لئے تیار ہوں کہ آج عورت مرد کے مقابلے میں زیادہ تر فیلڈز میں پیچھے ہے جس کی ایک اہم وجہ جنسی ہراسیت بھی ہے، جس کے منفی اثرات کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ جہاں جہاں عورت کو جنسی تحفظ ملا عورت نے ثابت کیا کہ وہ ہر لحاظ سے مرد کے برابر ہے۔ کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ اگر یہ مشکلات جو آج حائل ہیں ایک حد تک کم ہو جائیں تو انسانی ترقی میں عورت مرد سے زیادہ حصہ ڈال سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •