عام آدمی، مولوی اور نورجہاں


میڈم نور جہاں سے متعلق "ہم سب” پر ایک مضمون کی اشاعت سے سوشل میڈیا پر جو ہنگامہ کھڑا ہوا اس سے ہم جیسے عام قاری بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ وجاہت صاحب کی غیر جانبداری کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یقین جانیں اس کا احساس بھی مجھے ان کی مخالفت میں آنے والے آراء اور دلائل سے ہوا کیونکہ سب نے صرف اس مضمون کو حق اشاعت ہونے یا نا ہونے پر ہی بحث کی اور ذاتیات تک اگرچہ کچھ باتیں تھیں جن میں ذاتی تشہیر یا پذیرائی کے کچھ الزامات تھے مگر مجموعی طور پر شائستگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اب صاحب علم لوگ تو پتہ نہیں کس نتیجے پر پہنچیں گے یہ ان پر ہی چھوڑتے ہیں مگر آئیے میں آپ کو ایک عام اور ناخواندہ آدمی کا قصہ سناتا ہوں۔

میں اوکاڑہ کا رہائشی ہوں یہ شہر لاہور سے جی ٹی روڈ کے ذریعے مُلتان کی طرف جاتے ہوئے ایک سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور اس سے مزید سینتیس کلومیٹر آگے ساہیوال ہے ج وکہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بھی ہے اور میں ملازمت کے سلسلے میں ساہیوال میں ہوتا ہوں۔ میرا سسرال اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور جو کہ اوکاڑہ سے چوبیس کلومیٹر دور ہے اور ساہیوال سے مخالف سمت میں واقع ہے میں رہائش پزیر ہے۔ میری بیوی ایک مقامی سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں اس لئے انہیں ہمارے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ وہیں رہنا پڑتا ہے۔ اس لیے میں اپنی ملازمت کے بعد ان کے پاس اوکاڑہ سے گزرتے ہوئے جاتا ہوں اوکاڑہ سے ویگن تبدیل کرنا پڑتی ہے ویگن کی فرنٹ سیٹ پر آپ بیٹھیں تو آپ کو ڈرائیور سے گفتگو کا موقع ملتا ہے اور گاڑیوں میں میوزک بجتا ہی رہتا ہے یہ تو آپ سب کو پتہ ہے، ساہیوال سے دیپالپور جاتے ہوئے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر یہ مرحلہ مجھے درپیش ہوتا ہے،

کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی مولوی صاحب اعتراض کر دیتے ہیں کہ یہ گانا بجانا بند کرو مگر ڈرائیور توجہ نہیں دیتے مگر جب کبھی کوئی مولوی صاحب کُچھ ہمنوا ساتھی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بادل ناخواستہ یا خوف کے مارے ڈرائیور کو موسیقی بند کرنا پڑتی ہے۔

 بہرحال میں نے موسیقی پر اعتراض کرنے والے مسافروں کو ہمیشہ اقلیت میں اور طاقت میں ہی دیکھا ہے جن سے ہم جیسے عام مُسافر جن میں کوئی کوئی زیر لب گانے کے بول دُہرا بھی رہا ہوتا ہے سب سہم جاتے ہیں

میں نے بعض ڈرائیورز کو ایسے سورماؤں سے موقع پر ہی بدلہ لیتے بھی دیکھا ہے وہ ایسے کہ وہ گانے بند کر دیتے ہیں اور ایسی قوالیاں لگا دیتے ہیں جن میں گانوں کی طرز پر کُچھ نہایت بے سُرے قسم کے قوال جو کہ اللہ کی حمد وثنا میں مصروف ہوتے ہیں۔

اگرچہ اس پر بھی اس اقلیتی طبقے کو سخت تحفظات ہوتے ہیں مگر چونکہ اب اکثریت بدلہ لینے کو تیار ہوتی ہے حالانکہ کہ وہ بے ہنگم موسیقی ان اکثریتی مسافروں کے لئے بھی سخت عذاب ہوتی ہے مگر وہ اس اقلیتی طبقہ کو سبق سکھانے کے لئے اسے برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ موسیقی کے رسیاؤں کے پاس تو ایسے ہی ہتھیار ہیں ان کے پاس نا تو بندوق ہے نا ہی دست و گریباں ہو جانے کا ہمت اور حوصلہ ہے۔

مولوی عطاءاللہ صاحب کا میڈم نور جہاں کے متعلق جس دن میں نے مضمون پڑھا، میں اس دن بھی میں ساہیوال میں تھا اور مجھے اس کا انتہائی افسوس ہوا تھا اگرچہ مجھے موسیقی کی سمجھ محض محضوضیت اور ایک خاص قسم کے کیف و سرور کے حصول تک ہی ہے اور میرے جیسے ہی اکثریت میں ہیں۔ ہمیں مختلف گُلوکاروں کے مقام و مرتبہ کا اندازہ یا تو اُن کے چاہنے والوں کی تعداد یا پھر صاحبان علم موسیقی کی ان پر  تحاریر اور گفتگو کے ذریعے ہی سے ہوتا ہے ذاتی تجربہ اس کے علاوہ۔

میرا بیٹا بیمار تھا جسے چیک کروانے کے لئے میری بیوی دیپالپور سے اوکاڑہ آ رہی تھی اور مجھے ساہیوال سے اوکاڑہ اور پھر واپس دیپالپور اکٹھے جانا تھا۔  ہم واپسی کے لئے ویگن اسٹینڈ پہنچے تو میرے ساتھ ایک خاتون کی موجودگی کی وجہ سے مجھے فرنٹ سیٹ دے دی گئی کیونکہ فرنٹ سیٹس بطور احترام عورتوں کے لیے مخصوص ہوتی ہیں

 سفر شروع ہوا تو میں اپنے ڈیڑھ سالہ بیمار بیٹے کو گود میں لئے اسی مضمون کے متعلق سوچ رہا تھا کہ اتفاقاً ڈرائیور نے میڈم نور جہاں کا ایک گیت پلے کر دیا۔

میں اسے پوچھے بغیر نہیں رہ سکا کہ کیا اسے نور جہاں اچھی لگتی ہے تو اس نے بغیر توقف کے ہاں جی کہا میرا اگلا سوال تھا کیوں پسند ہے۔ تو اس نے سادگی سے کہا مجھے مزا آتا ہے اور میں شروع سے ہی نور جہاں کے گیتوں کا دیوانہ ہوں پھر میں نے اسے کہا کیا تمہیں پتہ ہے وہ ایک اچھی خاتون نہیں تھیں تو اس نے کہا جی میں نے بھی سنا ہے اس کے کئی لوگوں سے تعلقات تھے تو میں نے جھٹ سے کہا تو تم پھر بھی اسے سنتے ہو تو اس کا فوری ردعمل تھا سر جی مینوں کیہ۔ مطلب مجھے کیا، مجھے تو اس کی آواز اچھی لگتی ہے۔

میں نے فورا پینترا بدلا اور آواز میں تھوڑی سختی پیدا کرتے ہوئے اسے بتایا کہ موسیقی سننے پر اسے جہنم میں جانا پڑے گا جہاں اسے آگ میں جلایا جائے گا تو وہ میری بات سے تھوڑا ڈرا یا پھر مجھ سے یا پھر ہم دونوں سے ہی یہ مجھے اندازہ نہیں ہو سکا بہرحال  اس نے نیچے جُھک کر گیت بند کرنے کی کوشش کی تو میں نے اسے روک دیا کیونکہ میرا مقصد یہ نہیں تھا

 اسی دوران میری بیوی ہم دونوں کی گفتگو پر زیر لب مُسکرا رہی تھی اور بیٹا موسیقی کی تھاپ پر آہستہ آہستہ اپنے پاؤں تھرکا رہا تھا۔

ڈرائیور کا خوف دور ہو چُکا تھا اس نے سیدھے ہو کر اسٹئیرنگ پر دونوں ہاتھ جمائے اور مجھے دیکھے بغیر پوچھا آپ کے بچے کی عمر کتنی ہے؟ میں نے کہا یہی کوئی ڈیڑھ سال تو وہ ہلکا سا مُسکرایا اور کہا صاحب جی اسے اللہ رسول کا نام آپ خود سکھاو گے جب یہ بولنا شروع کرے گا مگر موسیقی پر یہ ابھی سے پاؤں تھرکا رہا ہے میں اس کی اس بات پر ابھی حیران ہو ہی رہا تھا کہ اس نے ایک اور بات کہی چونکہ ہم پنجابی میں بات کر رہے تھے اس لیئے اس کے کہے گئے اس آخری فقرے کو پنجابی میں ہی بیان نا کروں تو لطف نہیں آۓ گا

 سانوں ساڈے کرتوتاں جہنم پہنچانا ایے کلی نور جہاں ای تھوڑی جہنم لے جاسی۔ (ہمیں ہمارے کرتوت جہنم میں لے جائیں گے۔ نور جہاں اکیلی ہمیں جہنم میں نہیں جا سکتی)

ہمارا سفر ختم ہو گیا تھا اور ہم گاڑی سے اتر آئے تھے۔  مگر میرے ذہن میں اس ڈرائیور کا وہ فقرہ ابھی گونج رہا ہے۔

Facebook Comments HS