وادی سون کا مقام ”کوٹ کھنڈرات“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ ہے 24 دسمبر 2017 اور ارادہ سفر ہے وادی سون کا مقام ”کوٹ کھنڈرات“ کا۔

صبح 8:00 بجے اعجاز اعوان صاحب میرے گھر جوہرآباد پہنچے چائے پی اور ہم دونوں موٹر سائیکل پہ نکل پڑے وادی کی طرف۔ خالق آباد سے ہوتے ہوئے کھٹوائی پہنچے جہاں سے بائیں جانب سڑک ہر دو سودھی کی جانب جاتی ہے، سودھی موڑ پہ کچھ دیر انتظار کے بعد عدنان احسن اور نجیب اللہ نے جوائن کیا۔ یہاں مختصر تعارف کے بعد ہر دوسودھی کی جانب روانہ ہوئے، وہاں جانے کا مقصد خدادا صاحب سے ملاقات تھا جنہوں نے کوٹ کھنڈرات تک پہنچنے میں ہماری راہنمائی کرنا تھی۔ مہمان نوازی یہاں کے لوگوں کا شیوہ ہے تو انہوں نے چائے کی پیشکش کی اور اپنے گھر لے گئے جہاں کے طرز تعمیر نے ہم سب کو حیران کر دیا، پرانا لکڑی کا دروازہ، رنگوں سے کی ہوئی خوبصورت نقاشی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ مکان ان کے آباؤاجداد نے تقریباً 100 سال پہلے 1918 میں تعمیر کروایا تھا مکان کی کچھ تصاویر بنائی۔

اتنی دیر میں پتا چلا کہ خدادا صاحب نے کوٹ کھنڈرات تک پہنچنے کے لئے ہماری مدد کے لئے ایک مقامی گائیڈ جناب رب نواز صاحب کو بلا لیا ہے جوکہ ایسی ایکٹویٹیز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ رب نواز صاحب آئے اور سلام دعا کے بعد ہم اپنے ٹریک کے سٹارٹنگ پوائنٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک مقامی ڈیرے پر گاڑی اور موٹرسائیکل پارک کی اور اب اگلا سفر پیدل تھا۔ رب نواز ایک انتہائی شاندار گائیڈ ثابت ہوا کیونکہ وہ صرف راستہ دکھا ہی نہیں رہا تھا بلکہ راستہ سنا بھی رہا تھا جو ایک اچھے گائیڈ کی خاصیت ہوتی ہے رب نواز اگرچہ پروفیشنل گائیڈ تو نہ تھا مگر یہ خداد داد صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔ راستے کے شروع میں ہی ایک پتھروں سے بنا کمرہ نظر آیا جو کہ شاید چرواہوں کے استعمال میں رہتا ہے آگے ایک چرواہا بھی نظر آگیا جو کہ اکیلا ہی نظر آیا جس کی گایں یا تو گواچی ہوئی تھی یا اس پہاڑی کی دوسری جانب چر رہی تھی جس کی چوٹی پہ یہ موصوف بیٹھا تھا، یہاں سے آگے بائیں جانب بارش کے پانی کو محفوظ کو کرنے کےلئے تالاب بنے ہوئے تھے جنہیں مقامی زبان میں ”بن“ کہتے ہیں، اس سے آگے ٹریک مشکل ہوتا گیا وائلڈ، پتھریلا۔

تقریباً 40٬50 منٹ سفر کے بعد ہمیں کوٹ کھنڈرات کی بیرونی دیوار نظر آئی جس کے داخلی راستہ پر ایک بڑا پتھر رکھا ہوا تھا شاید ایسے مزیدپتھروں کی مدد سے یہ راستہ بند کیا جاتا ہو گا۔ اندر داخل ہونے پر جابجا پھیلے پتھروں سے بنے کمروں کے کھنڈرات تھے۔ ان تمام کھنڈرات کا تفصیلی معائنہ کیا تقریبا 40 سے 70 کمرے رہے ہوں گے ان کھنڈرات کے تین طرف گہری گہرایاں تھا جنہیں ”گبھ“ کہتے ہیں یہاں ایک جگہ ایسی تھی جہاں کےپتھر کافی اچھی حالت میں موجود تھے جس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ شاید یہ ان کے سردار کے کمرے ہوں گے۔ اس کے سامنے ایک چیک پوسٹ نما جگہ کے آثار تھے جس کے سامنے دوسری طرف ایک بالکل سیدھا پہاڑ تھا اس پہاڑ پہ ایک ابھری ہوئی چٹان تھی جس کے بارے میں مشہور ہے کہ حملہ آور یہاں سے ان پر تیروں کی مدد سے حملہ کرتا تھا اس حملہ آور کا نام وزیر خان تھا اورجس چٹان پہ یہ بیٹھ کر حملہ کرتا تھا اسے ”وزیر خان آلی ڈھل“ کہتے ہیں۔ یہاں وزیر خان کی نظروں سے بچتے ہوئے ہم نے ایک اوٹ تلاش کی تاکہ کچھ پیٹ پوجا کی جا سکے اور یہاں اعجاز صاحب نے بیگ کھولا اور اس میں سے ایک ڈبہ برآمد ہوا جس میں مشہور زمانہ ”دیسی گھی کے گلاب جامن“ تھے جی بھر کے گلاب جامن کھائے پانی پیا اور اگلے پلان کی منصوبہ بندی شروع کر دی، بالآخر طے پایا کہ کوٹ کھنڈرات کے بالکل نیچے گبھ میں ایک چشمہ ہے اسے دیکھا جائے چونکہ دن گرم تھا اس لئے چشمے کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کے خیالات نے جسم میں adrenaline رش بڑھا دی اور سب چشمے تک پہنچنے کے لئے پرجوش ہوگئے مگر پتا یہ چلا کہ کہ ان کھنڈرات سے پیچھے کی جانب اتر کر پورا پہاڑ گھوم کر انہی کھنڈرات کے بالکل نیچے جاناہے

بقول منیر نیازی
کُج انج وی راہواں اوکھیاں سَن
کج گَل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سَن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

ایک آسان سے ٹریک کو اچھا خاصہ مشکل بنا لیا۔ مگر بقول غالب
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

اور
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

تو یہ مشکلات ہمارے لیے کوئی نئی نہ تھی۔ چلتے پھرتے گپیں ہانکتے ہم چشمے کی طرف رواں دواں تھے کبھی ہمارا گائیڈ ہمیں راستہ دکھاتے آگے آگے اور کبھی ہم راستہ تلاش کرتے کرتے آگے آگے۔ یہاں ایک اور کھنڈر ہمارا منتظر تھا۔ یہ تھی جناب ایک گندم پیسنے والی چکی جو کہ چشمے کے پانی سے چلتی تھی جسے مقامی زبان میں ”جندر“کہتے ہیں۔

جھاڑیوں کے درمیان راستہ تلاش کرتے بالآخر ہم پانی تک تو پہنچ گئے مگر منظر کچھ زیادہ دلکش نہ تھا بارشوں کی کمی کی وجہ سے چشمے کا پانی بہت کم تھا مگر منزل کو پالینے کی خوشی نے ہمارا جوش و خروش قائم رکھا۔

یہاں پر طے یہ پایا کہ گبھ سے نکل کر لنچ کیا جائے گبھ سے نکل کر ٹیرسز نظر آئے بہت ہی شاندار منظر تھا دسمبر کی پیلی دھوپ، ڈھلتا سورج اور لمبے ہوتے سائے ایک مناسب جگہ دیکھ کر لنچ کے لئے پڑاؤ ڈالا گیا، پتھر اکھٹے کیے گئے آگ جلائی کوئلے دھکائے گئے بوٹیاں سیخوں میں پروئی گئی اور انگاروں پہ چڑھا دی گئی دھیمی آنچ پہ گوشت بھنا شروع ہوا تو خوشبو نے دور دور سے جنوں کو بھی کھینچ لیا ہو گا مگر انہوں نے نہ ہمیں چھیڑا اور نہ ہی ہم نے انہیں تنگ کرنا مناسب سمجھا۔ بھنا گوشت کھایا کولا پی اور پیک اپ کیا اور واپسی کی راہ لی۔ پکی سڑک یہاں سے قریب ہی تھی جہاں سے ہم اپنی ٹرانسپورٹ تک پہنچے رب نواز صاحب کو ہردوسودھی اتارا شکریہ رب نواز صاحب۔

کھٹوائی پہنچ کا چائے کا موڈ بن گیا خوش گپیاں، چائے، دوست اور خنکی۔ یہاں سے سب نے جدا ہونا تھا کہ ٹھیک ایک مہینے بعد پھر بھانڈر، جاھلر لیک ٹریک پلان ہو چکا ہے اور اس پہ پھر ملاقات کا وعدہ کیا سب نے۔ میں اور اعجاز صاحب جوہرآباد کے لئے نکلے، جوہر آباد آ کر چائے کا ایک اور دور چلا۔ اس کے بعد اعجاز اعوان صاحب اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد دانش بٹ کی دیگر تحریریں