لائن آف کنٹرول اور کرناہ کے عوام


گزشتہ ہفتے کرناہ۔ کپواڑہ روڈ پر ایک برفانی تودے کی لپیٹ میں آکر گیارہ افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ شاہراہ کرناہ تحصیل کو باقی دنیاکے ساتھ مربوط کرنے کا واحد زمینی راستہ ہے۔ کرناہ، تقسیم ریاست سے قبل ضلع مظفر آباد کا ایک حصہ تھا لیکن اب سرحدی ضلع کپواڑہ کی ایک شمالی تحصیل ہے۔ اس علاقے کی دوسری جانب وادی نیلم واقع ہے جو سرینگر کے برعکس کرناہ سے بلکل متصل ہے۔ مذکورہ حادثہ، جس کی وجہ سے کرناہ تحصیل میں زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، کو سابقہ حکومتوں کی ناکامی کے طور پر دیکھا جا تاہے۔ اس حوالے سے جو اظہار ناراضگی سوشل میڈیا پر دیکھی جارہی ہے، اس کا ایک جواز بنتا ہے۔ ان بے یارو مدد گار افراد کی موت کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ریاستی و مرکزی حکومت کی جانب سے اس فراموش کردہ حصہ کشمیر کے تئیں بے اعتنائی اور لا پرواہی کا نتیجہ ہے۔

یہ علاقہ فوجی اعتبار سے کافی اہم ہے۔ یہاں کے باشندے صرف موسم گرما کے دوران ہی یہاں سے باہر آ جا سکتے ہیں۔ موسم سرما شروع ہوتے ہی یہاں کے عوام کے لئے ڈر اور خوف کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ باقی دنیا کے ساتھ کٹ جاتے ہیں۔

حالیہ حادثے کو روکا جاسکتا تھا بشرطیکہ اس حوالے سے قلیل اور طویل مدتی اقدامات اٹھائے گئے ہوتے، شاید اس حوالے سے حکومت کی جانب سے پسیاں گرآنے کی تنبیہ بھی جاری کی گئی ہو لیکن اکثر اوقات عوام روز مرہ کی مجبوریوں کی وجہ سے اس طرح کی ہدایات پر کبھی کبھار دھیان نہیں دیتے، حالانکہ سادھنا درہ ایک جانا مانا موت کا کنواں ہے لیکن اگر حکومت دھیان دے تو اس طرح کے حوادث کو روکا بھی جا سکتا ہے۔ اس بڑے حادثے سے دو ہی دن قبل علاقے کے ایک جانے مانے سماجی کارکن الطاف خواجہ بھی اس وجہ سے برین ہیمریج ہوجانے کے بعد اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے کیونکہ اس کے اہلِ خانہ کو بیماری کے بعد سرینگر پہنچنے میں پانچ گھنٹے کا وقت لگ گیا۔ خواجہ اور باقی افراد کی موت اگرچہ طے تھی لیکن ساتھ ہی اگر ایک نظر کرناہ وادی میں دستیاب عوامی سہولیات کی جانب دوڑائی جائے اور وہ بھی ایسے موسم میں، جب حالات محض موسم کے مزاج کے تابع ہوتے ہیں تو حکومت کے ترقی کے سارے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ حالانکہ برصغیر کو آزادی ملے ستر برس گزر گئے لیکن کرناہ جیسے علاقوں کی حالت زار حکمرانوں کی غیر سنجیدگی اور لاپرواہی کی منہ بولتی داستانیں ہیں، جہاں طرزِ حیات سات دہائیوں سے گویا منجمد ہوگئی ہے۔

کرناہ کا علاقہ عسکری نقطہ نگاہ سے کافی اہم ہے، اسی لئے وہاں ترقی کی رفتار کافی سست ہے۔ ایسے علاقوں میں سڑکیں عام طور پر دفاعی تقاضوں کو مدِ نظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں لیکن یہاں یہ کام بھی پورا نہیں کیا گیا۔ پچھلے پانچ برسوں کے دوران خراب سڑکوں کی وجہ سے 185لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

علاقے کے سیاست دانوں نے اپنے عوام کو اس طرح سے مایوس کیوں کر رکھا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے، جس کا جواب ترجیحی بنیادوں پر تلاش کیا جانا ناگزیر ہے۔ سال1996۔ 2014ء تک اس علاقے کی نمائندگی نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے کفیل الرحمٰن نے کی۔ ان کی ممبری کے دوران ان کی جماعت نے ریاست میں دس برس تک حکومت کی۔ یہ حکومت بھی علاقے کے عوام کی واحد مانگ یعنی ٹی پی چوکی بل سے زالرا موڑ تک ایک ٹنل کی تعمیر کو پورا نہ کر سکے، جو تقریباً ستر ہزار نفوس پر مشتمل اس علاقے کے عوام کو10500فٹ کی بلندی پر واقع سادھنا گلی کی وجہ سے ہونے والے اس طرح کے حادثات سے بچا سکتی تھی۔

شاید کرناہ کے عوام کے لئے باقی تقاضہ ہائے زندگی کی اتنی اہمیت نہ ہو، جتنی کی اس ٹنل کی ہوسکتی تھی لیکن یہ ایک ایسی دیرینہ مانگ ہے، جس کی جانب کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی۔ حالانکہ کرناہ میں اُس غیر یقینیت کا زیادہ اثر نہیں دیکھا گیا، جو ریاست کے باقی حصوں میں پائی جاتی ہے، اس لئے سیاست دانوں نے ان برسوں کے دوران یہا ں’نارملسی پروجیکٹ‘ کے نام پر لوٹ کھسوٹ کرکے خوب کمائی بھی کی۔ مثال کے طور پر جب کبھی مرکزی حکومت یا مقامی مین اسٹریم سیاست دانوں کو نارملسی کا نقارہ پیٹنا مطلوب ہوتا تو ان کے عوامی جلسے کرناہ، ٹیٹوال، گریز اور مژھل جیسے علاقوں میں منعقد ہوتے تھے اور چونکہ ان علاقوں کے عوام کافی سادہ لوح اور مجبور ہیں، اس لئے ان کا فریب میں آجانا بھی لازمی تھا لیکن اس کے باوجود بدلے میں انہیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اگر گزشتہ پانچ برسوں کو دیکھا جائے تو اس دوران بھی علاقے میں دو سیاست دانوں کا راج رہا، جن میں ایم ایل اے راجہ منظور اور ایم ایل سی مرچال شامل ہیں لیکن موجودہ حکومت نے بھی مقامی عوام کی پریشانیوں کو کم کرنے کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی۔

جو بات عام آدمی دیکھ رہا ہے، وہ قانون بنانے والوں کی لا چاری کے سوا کچھ بھی نہیں اور ایم ایل اے راجہ منظور نے اس بات کا برملا اظہار جنوری2017کے اسمبلی سیشن کے دوران بھی کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’’ کاش کہ ہمارے مظفر آباد کی جانب جانے والے سبھی راستے کھلے ہوتے تاکہ میں اپنے علاقے کے بیماروں کو مظفر آباد کے شفاء خانوں میں لے جاسکتا کیونکہ وہاں کا صحت عامہ کا نظام اور انتظام ہمارے علاقے کے ہسپتالوں سے کئی درجہ بہتر ہے‘‘

حد یہ ہے کہ کرناہ علاقے میں سعد پورہ گاؤں کے عوام کوآبپاشی کے لئے دوسری جانب (لیپا ویلی) سے آنے والے پانی پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو زمینداری اور کھانے پینے کے کام آتا ہے اوراگر کبھی دوسری جانب سے پانی روک دیا گیا تو اس علاقے کی زمین بنجر میں تبدیل ہوجائے گی۔ دوسری جانب ترقی کی بہتر صورت حال کو دیکھتے ہوئے کرناہ کے عوام نے 27فروری2016ء کو ٹیٹوال کی جانب احتجاجی مارچ کرکے مانگ کی تھی کہ ان کا وہ راستہ کھول دیا جائے تاکہ وہ وہاں سے اشیائے خوردنی حاصل کرسکیں۔ یہ احتجاج ’ فوڈ سیفٹی ایکٹ‘ کے خلاف تھا، جس کے بارے میں عوام کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جن کے پاس زرعی اراضی نہیں بچی ہے، وہ اس کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے لیکن اس جلوس کو سرکاری عہدیداروں کی یقین دہانی پر لائن آف کنٹرول سے صرف تین کلومیٹر دور چتر کوٹ کے مقام پر روک دیا گیا تھا۔

یہی نہیں، ایسے کئی اور بھی واقعات ہیں، جب یہاں کے عوام نے دوسری جانب کے حکام سے فریاد کی ہے کہ اہ ان کی پریشانیوں کا ازالہ کریں۔ 8جنوری کو ہزاروں لوگوں نے ٹنگڈار میں جمع ہوکر ٹیٹوال کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ آئے دن کی پریشانیوں سے بچنے کے لئے پاکستانی جانب جا کر بس جائیں۔ یہ اور اس طرح کی کئی کوششیں اس سے پہلے بھی عوام کر چکے ہیں اور جب بھی صحافی وادی سے اس علاقے میں گیا تو وہاں کے عوام نے اس علاقے کا تقابلی جائزہ دوسری جانب وادیٔ نیلم اور لیپا کے ساتھ کرتے ہوئے یہی واحد فریاد سنا کر واپس لوٹا دیاکہ وہاں حکمرانوں کی غفلت شعاری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور عوام گوناگوں پریشانیوں کے گرداب میں مبتلاء ہیں جبکہ دوسری جانب پکی سڑکیں، مسلسل بجلی کی سپلائی اور بہتر صحت عامہ دستایب ہے۔

جب سابق صدر ہند مرحوم اے پی جے عبدالکلام آزاد نے اس علاقے کا دورہ کیا تو انہوں نے بھی کرناہ کے عوام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ٹنل کی تعمیر کا کام ترجیحی بنیادوں پر ہاتھ میں لیا جائے گا لیکن ابھی تک یہ تصور بھی محض کاغذات پر ہی موجود ہے، یہاں تک کہ BROکے سربراہ برگیڈئر اے کے داس نے فروری 2016ء میں سرحدی علاقہ جات میں بننے والی چھ سرنگوں کی تفصیلات دیتے ہوئےPTI کے نمائندے کے سامنے اعتراف کیا تھا ’’ ان میں سادھنا گلی کے پاس ساڑھے چھ کلومیٹر طویل زمین دوز ٹنل بھی شامل ہے، جس سے ٹنگڈارکو باقی دنیا کے ساتھ جوڑنے میں مدد ملے گی اور اس سے جڑے ہوئے سرحدی علاقہ جات کے عوام کو فائدہ ملے گا، جبکہ باقی ٹنلوں میں کیرن سیکٹر میں واقعہ فرکیاں گلی میں ایک ٹنل، جس کی لمبائی ساڑھے تین کلومیٹر ہوگی اور مژھل سیکٹر میں بھی اسی طرح کی ٹنل زمیندار گلی میں بنے گی‘‘

اس کے برعکس پاکستانی جانب سے پہلے ہی لیپا ویلی میں ایک ٹنل کی تعمیر کا کام ایک چینی کمپنی کو دے دیا گیا۔ اس جانب دفتری طوالت کے علاوہ، جو رکاوٹ اس ٹنل کی تعمیر کے راستے میں حائل ہورہی ہے، وہ بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھنے والی چپقلش ہے، جس کی وجہ سے مقامی عوام کی مشکلات میں گوناگوں اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ دونوں جانب محض چند میٹر کی سرحد ی دوری ہے لیکن 1947کی تقسیم نے عوام کو ایک دوسرے سے کوسوں دور کر رکھا ہے اور ان کے ترقی کے سارے راستے مسدود کردیے ہیں۔ اگر محض عوامی مشکلات کے ازالے کے لئے راستے کھول دیے جائیں تو عوامی مشکلات میں کافی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن دونوں جانب اپنی اپنی ملکی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے جو رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اُن کی بلندی اور سنگینی کہیں زیادہ ہے، جو عوامی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

سال2005ء کے دوران آنے والے دلدوز زلزلے کی وجہ سے ٹیٹوال علاقے میں ایک راستہ کھولا گیا تھا، جہاں ایک پل تعمیر کرکے دونوں جانب کے عوام کا رابطہ بڑھایا گیا حالانکہ دونوں جانب کے عوام ایک دوسرے کو کافی قریب سے دیکھتے اور پہچانتے ہیں۔ موسم گرما کے دوران اس راستے سے قلیل تعداد میں آمدورفت کی اجازت دی جاتی ہے۔

سڑک رابطوں کی بحالی اور دونوں جانب کے راستوں کو کھولنا عوام کی اُن مشکلات کے ازالے کا واحد راستہ ہے، جو تقسیم ریاست کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں اور اس سیاسی مسئلہ کو حل نہ کرنے کی وجہ سے دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں، دونوں جانب فوجی طاقت کے استعمال سے عوام گھٹن کے شکار ہورہے ہیں، جہاں تک آئینی دفعات کا تعلق ہے، دونوں جانب کے عوام کو ایک دوسرے کے پاس آزادانہ طور پر آمدورفت کا حق حاصل ہے، اسی طرح کی آمدورفت سے 5جنوری جیسے حادثات کو بھی ٹالا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ فی الوقت حکومت کو بیدار ہو کر ٹنل کی تعمیر کا ترجیحی بنیادوں پر ہاتھ میں لینا چاہیے، جو عوام کی ناراضگی کا باعث بنی ہوئی ہے، ساتھ ہی نا مہربان موسموں کے دوران ایسی شاہروں پر نگرانی بڑھانے سے بھی حادثات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ (مضمون نگار انگریزی اخبار رائزنگ سری نگر کے ایڈیٹر ہیں)۔

Latest posts by ڈاکٹر سید شجاعت بخاری (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر سید شجاعت بخاری کی دیگر تحریریں

ڈاکٹر سید شجاعت بخاری

ڈاکٹر سید شجاعت بخاری رائزنگ کشمیر سری نگر کے چیف ایڈیٹر ہیں

syed-shujaat-bukhari has 2 posts and counting.See all posts by syed-shujaat-bukhari