عورت ذات کا گورکھ دھندا: مل جائے تو اوجھل اور نہ ملے تو بے کل

عورت کے وجود میں بسی خوبصورتی کا زہر تو ویسے بھی ہر کس و ناکس کی رگ رگ میں دوڑتا ہے۔ پر، یہاں وجود کی خوبصورتی کسے مطلوب ہے؟ بس ایک عجیب سی طلب ہے، جو کسی آتش کدے میں بھڑکتی ہوئی کبھی نا بجھنے والی آگ کی طرح، کب کے تار تار ہوئے دامن…

Read more

سلام باؤ جی …. ایک طوائف اور ایک شریف زادے کی کشمکش

سلام باؤ جی۔ عورت کی منمناتی ہوئی سی آواز میرے کانوں میں گونجی، میں نے کن اکھیوں کی بھی کن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھا اور آہستہ سے سلام کا جواب دے کر آگے بڑھتا چلا گیا۔میں اس کے پاس سے روزانہ یوں ہی گزرتا ہوں جیسے کوئی ایکسپریس ٹرین جو چھوٹے چھوٹے سٹیشنوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتی اور فراٹے بھرتے نکل جاتی ہے۔ لیکن، باوجود اس لگاتار بے اعتنائی کے وہ مجھے روزانہ ہی ’سلام باؤ جی‘ کہہ دیا کرتی۔ شاید میرا حلیہ بابوؤں جیسا تھا، ڈریس پینٹ، استری کی ہوئی شرٹ، اکڑا ہوا کالر، سلیقے سے بنے بال، پاؤں میں پالش ہوئے بند جوتے، دھیمی چال، سرفوجیوں کی طرح تھوڑا سا اٹھا ہوا۔

Read more