امید، حوصلہ اور کرونا کا خوف

دو دن پہلے میں ریڈیو کی عمارت کے پاس کھڑا تھا۔ شام کسی نوجوان بیوہ کی طرح اداس تھی۔ وحشت چاروں اور ٹپک رہی تھی۔ سڑک کے اس پار میرا دوست نظر آیا۔ میں نے ایک دم نظریں پھیر لیں۔ مگر اس نے مجھے دیکھا تھا۔ لپک کے میری طرف آیا۔ لاکھ گریز پائی کے باوجود وہ اسی بے تکلفی سے قریب آیا۔ پھر بے ساختگی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔ مجھے جھٹکا لگا، ہچکچایا۔ مگر اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو جھٹک نہ سکا۔ ہاتھ ملایا۔

یہ ہماری تہذیبی قدریں ہیں۔ ہماری فطرت میں رچے بسے رویے ہیں۔ بدن کے ہارڈوئیر میں انسٹال سوفٹ وئیر ہے۔ ان پہ گرفت پاتے وقت لگتا ہے۔

Read more