اصل غریب کون؟

وہ جوان لڑکے لڑکیاں جو چُست ہیں کام کرنے کے قابل ہیں لیکن ایک امیر شخص کا انتظار کرتے ہیں جو اللہ واسطے اُن کو پچاس ( 50 ) روپے دے اور اتنی ہی دیر میں اشارہ بند ہوتا ہے۔ ایک طرف کی ساری ٹریفک رُک جاتی ہے۔ جوانوں کی بھیڑ مچ جاتی ہے جو امیر ترین گاڑی والے کی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ اللہ کے، اُن کو اُن کے بچوں کے اور والدین وغیرہ کے واسطے دیتے ہیں اور یقیناً خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتے لیکن جب میں دوسری جانب ایک محنت پسند طبقے کو دیکھتا ہوں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے، جو محنت کر کے تھوڑا بہت کما کر گزر بسر کر لیتے ہیں اور جب امیر لوگ جو گاڑیوں میں پھرتے ہیں ایسے لوگوں کی مدد تک نہیں کرتے تو بہت افسوس ہوتا ہے۔

Read more