چاغی میں شدید قحط سالی کے پھیلتے اثرات
پانچ سالوں تک مطلوبہ مقدار میں بارشیں نہ ہونے کے سبب چاغی شدید قحط سالی کی زد میں ہے جہاں پانی کے قدرتی ذرائع خشک ہونے اور چراگاہیں ختم ہونے سے لوگوں کی معاش کے سب سے بڑے ذرائع زراعت اور مالداری اپنی آخری سانسیں لے رہی ہیں کیونکہ کئی علاقوں میں پانی کی سطح 20 تا 25 فٹ نیچے گرگئی جبکہ 6281 مالدار اپنے مویشی موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر قصابوں کو بیچ رہے ہیں۔ چاغی میں قحط سالی نے انسانی زندگیوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کیا ہے جہاں 2509 بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ کئی بچے موت کی منہ میں چلے گئے جن کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ بارشوں میں ریکارڈ کمی نے چاغی میں درجہ حرارت کو 48 سے 51 سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا جس کی وجہ سے بعض اوقات دالبندین ائرپورٹ میں فلائٹ تک لینڈ نہیں کرپاتی۔
Read more
