نسلوں کے مقروض

میرا اور میرے ہم عمر تمام ہی لوگوں کا تعلق اس گروہ سے ہے جس گروہ نے ایک ایسی صدی میں آنکھ کھولی جسے نوع انسان کی ترقی، اس کے طرز زندگی اور اس کے کمال کی جانب کھلنے والے دروازے کی کھوج کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ صدی تھی جس میں علم و حرفت، عقائد و نظریات، فنون و فکر نے ایسی انگڑائیاں لیں کہ تاریخ انسانی دنگ رہ گئی۔ یوں لگتا تھا جیسے علم اپنے تمام راز وا کرنے کے لئے بیسویں صدی کے انتظار میں کب سے تڑپ رہا تھا۔

Read more