آدمی اکیلا کیوں رہ جاتا ہے؟

منٹو اور عصمت نے بھی وقت سے آگے نکلنے کی سزا کاٹی اور اب سنیل گنگو پادھیائے کی باری ہے۔

منیر نیازی کی ایک انتہائی انوکھی اور مختصر سی نظم ہے۔ اس نظم کی اور باتوں کے علاوہ اس کا ایک انوکھا پن یہ ہے کہ اس کا عنوان نظم کے متن سے بڑا ہے۔ یہ نظم انہوں نے پہلے پنجابی میں لکھی اور پھر خود ہی اسے اردو میں بھی کیا۔

نظم کا عنوان ہے : ویلے توں اگے لنگن دی سزا
اور نظم ہے : بندہ کلّا رہ جاندا اے
یعنی: وقت سے آگے نکنے کی سزا
آدمی اکیلا رہ جاتا ہے

اس وقت میں منیر نیازی کی شاعری پر یا اس نظم پر بات نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس نظم کے ذریعے سعادت حسن منٹو کو یاد کرنا چاہتا ہوں اور اس کی وجہ ہے مغربی بنگالی کے اس وقت بلا مبالغہ زندہ ادیبوں میں سب سے بڑے ادیب اور دانشور سنیل گنگو پادھیائے کے خلاف کولکتہ کی ایک عدالت کا یہ حکم کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے اور انہیں تین دسمبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

Read more