جرمنی میں اردو کی تدریس اور بعض غلط فہمیاں

کچھ دن پہلے مجھے حیدر قریشی صاحب کا مقالہ بہ عنوان ”جرمنی میں اردو کی بقا اور سماجی اور ثقافتی حیثیت“ پڑھنے کو ملا جو 22 فروری 2019 روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہوا تھا۔ مطالعے کے دوران مجھے مذکور مقالہ نگار کی مایوس کن اور سیاہ منظر کشی پر حیرت ہوئی کہ پڑھتے وقت میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا وہ اسی جرمنی کی بات کر رہے ہیں جس میں میں بھی رہتا ہوں؟
اگرچہ اس مقالے کو چھپے ہوئے کچھ عرصہ ہو چکا ہے، پھر بھی مجھے احساس ہوا کہ یہ بیان تصحیح و ترمیم کا اشد متقاضی ہے۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے ساوتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے اردو لکچرار کی حیثیت سے میں ایسے بے بنیاد مغالطوں کی تردید کیے بغیر نہیں رہ سکتا

Read more