گڈریا۔ اردو کا شاہکار افسانہ
رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ ”اب بول بیٹا، اب بول“ اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ ”پہلے بودی کاٹو بودی“ اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا ”بلا دیں جے؟ “ اور رانو ں نے کہا۔ ”جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔ “ پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا ”کلمہ پڑھ پنڈتا“ اور داؤ جی آہستہ سے بولے :
”کون سا؟“
رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا ”سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!“
Read more
