ایک چرواہے کی پریشانی

مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس باباجی کو کیا مسئلہ ہے۔ میں اسے ذہنی مریض سمجھنے لگا تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ چاچاجی اس سب کا آپ کی دل کی بیماری کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس نے قدرے حیرت سے میری طرف دیکھا اورکہا کہ۔ ڈاکٹر صاب تعلق تو بنتا ہے نا۔ یہاں شہر میں ہر چیز ملاوٹ زدہ ہے۔ مصالحہ، گھی، سبزیاں، فروٹ اور پانی کوئی چیز خالص نہیں۔ یہاں تک کہ سانس لینے کے لیے ہوا بھی خالص نہیں ملتی۔ جب سے شہر آیا ہوں روز مسجد سے کسی نہ کسی کی فوتگی کا اعلان سنتا ہوں۔

موت کی وجہ پوچھو توکہتے ہیں کہ دل کا دورہ پڑا تھا۔ صاب آپ کے شہر کی صاف ہوا ختم ہوچکی ہے۔ ہرطرف دہواں ہے۔ یقین نہیں آتا توصبح فجر کی نماز کے بعدباہر نکل کر دیکھ لیں۔ آپ کو آسمان بھی نظر نہیں آئے گا۔ صاب۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ دھواں میرے پھیپھڑوں کوبھی خراب کر چکا ہے۔ تبھی میری کھانسی ٹھیک نہیں ہورہی۔

Read more

ہنزرہ میں پسو کی جانب

پیر و مرشد حضرت علامہ اقبال نے تقریبا ایک صدی قبل ارشاد فرمایا تھا کہ ”ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت۔ ؛؛حالانکہ ان کے زمانے میں سائنس نے اتنی ترقی کی تھی نہ مشینیں روز مرہ زندگی میں اتنی لازم و ملزوم تھیں۔ آج کا دور تو مشینوں کا ہے۔ پوپھٹنے سے شام کے ڈھلنے تک ہر لمحہ ہر لحظہ مشینوں کا محتاج ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آدمی خود بھی ایک مشین کی مانند ہوگیا ہے اورکوہلو کے بیل کی طرح صبح شام غم روزگار میں مگن رہتا ہے۔

یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اس دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے مشین بن جانا مجبوری ہے ورنہ زندگی کی دوڑ میں آدمی پیچھے رہ جاتا ہے۔ اور وقت کی بے رحم موجیں اسے نگل جاتی ہیں۔ اور اس کا وجود صفحہء ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ جاتا ہے۔ تقدیر کے اس جبر کے ہاتھوں مجبور انسان کی حسرت ناتمام کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے۔

Read more