کولیٹرل ڈیمیج یا ناحق خون

2009 کے اواخر کی بات ہے۔ میں بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچرر ملازمت کر رہا تھا۔ شادی کو دو سال ہوئے تھے۔ ایک دن قریب نو بجے رات میں۔ اپنی مسز کے ساتھ چھ نمبر سے واپس یونیورسٹی آرہا تھا۔ ان دنوں ہماری رہائش یونیورسٹی کی طرف سے دیے گئے سرکاری گھر ای۔ فائیو میں تھی۔ راستے میں اچانک سے ایک پولیس وین جو شاید پٹرولنگ ڈیوٹی پر تھی، کراس کر کے ہمارے سامنے آئی اور مجھے موٹر

Read more