مذہبی طبقے کا المیہ

’میں اپنی دیگر سہیلیوں کے ہمراہ قریبی مسجد سے منسلک مدرسہ میں قرآن پاک پڑھنے جایاکرتی تھی، میں نے وہاں سے قاعدہ اور پھر قرآن پڑھنا شروع کردیا تقریباً 18 پاروں تک پڑھا، لیکن ایک دن ہمارے استاذ جی کو پتہ چلا کہ میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہو اور یوں انہوں نے مجھے مزید پڑھنے روک دیا۔ اگر وہ مجھے اجازت دے دیتے تو میں قرآن پاک کو مکمل پڑھ کر شاید اسلام کے قریب آتی لیکن ان کا یہ رویہ اسلام سے دور لے گیا‘ یہ قصہ سول سوسائٹی اور عیسائی برادی کی مشہور رہنما نائلہ جے دیال کا ہے جو انہوں نے ستمبر 2012 میں کراچی میں پیمرا کے زیر اہتمام فحاشی کی تعریف کے لیے منعقدہ اجلاس میں مرحوم قاضی حسین احمد ؒ کی موجودگی میں سنایا تھا۔

Read more