دینی مدارس کے طلبہ اور جدید فضلاء سے چند گزارشات

سب سے پہلے تو یہ کہ آپ خود کو تیس مارخان سمجھنا چھوڑدیں۔ زمانہ طالب علمی میں ہم بھی اس خبط اور غلط فہمی کا شکار تھے کہ ہم جوں ہی تکمیل کی سند لیں گے۔ مدارس ہم پر ٹوٹ پڑیں گے بلکہ ہمیں تو آدھی رات تک اس پریشانی سے نیند نہیں آتی تھی کہ جب ہمیں لے جانے کے لیے کئی مہتممین کا جھگڑا ہوگا تو ہم انہیں کیسے چھڑائیں گے۔ لیکن پچھلے ایک ماہ سے مختلف مدارس

Read more