ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
سال پرانی بات ہے۔ یہی دِن تھے اور قائداعظم یونیورسٹی مکمل طور پر میدان جنگ کی سی صورت اختیارکیے ہوئے تھی۔ گرچہ فضا ہر طرح کی افواہوں سے پُر تھی تاہم اِکّا دُکّا ذرائع سے خبر ملتی کہ یونیورسٹی کی طلباء تنظیم چالیس دِن سے اپنے مطالبات لئے کھلے آسمان تلے بیٹھی سراپہ احتجاج ہے۔ مطالبات کی پوچھ گچھ پر قائداعظم کے چودہ نکات کی مشابہہ ایک لمبی لِسٹ ہاتھ میں تھما دی دی جاتی۔ گرچہ چند ایک نکات کے
Read more
