حجاب کی تعلیمی پالیسی پر بدنیت دانشوروں کے چودہ سوال

متبادل بیانیہ صرف باتوں سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہ تو خوش قسمتی ہے خادم اعلی اور جناب وزیر اعظم کی، کہ ان کی صفوں میں محترم سید رضا گیلانی جیسے نابغہ روزگار مجاہد موجود ہیں۔ ان کے ہوتے اب کسی کو متبادل بیانیے کی فکر میں دبلا ہونے…

Read more

انور سعید صاحب کے بیٹے! عزیز از جان گدھے

(ایک عظیم استاد اور فلسفی ڈاکٹر رادھا کرشنن کے یوم پیدائش کی مناسبت سے) سکول میں جماعت ہشتم کے بورڈ کے امتحان کا نتیجہ آیا تو توقعات سے شاید بدتر تھا یا بہتر، یہ تو مجھے آج تک نہیں پتہ لیکن انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں اب نہم کے پانچ سیکشنز سے…

Read more

ملحدوں کا حسین

میرا بچپن اور لڑکپن جس گھر میں گزرا، وہ لاہور کی ایک نسبتا نئی آبادی میں تھا۔ گھر خال خال تھے۔ کچھ فاصلے پر آبادی کی سرحد تھی۔ اس زمانے میں آبادیوں کے گرد دیوار بنانے کا رواج نہ تھا تو پرانی اور نئی آبادی کے بیچ حد فاصل کے طور پر بس ایک چھوٹی سی سڑک تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے خالی پلاٹوں کا ایک سلسلہ تھا، اس کے بعد وہی چھوٹی سی سڑک اور پھر ایک امام بارگاہ جو کہ اس پرانی آبادی کا گویا مرکز تھی۔

Read more

کیا شیعہ ایک اقلیت ہیں؟

چرن جیت سنگھ خاموش طبعیت کے آدمی تھے۔ زیادہ نہیں بولتے تھے۔ پر جو کچھ سکھ برادری پر پاکستان میں بیت رہا تھا اس کے ذکر پر ان کی آنکھوں کے گوشے نم سے ہو جاتے۔ کچھ دیر وہ انہی نم مگر چپ آنکھوں سے ہمیں دیکھتے پھر اپنی انگلی سے اپنی ہتھیلی پر ایک دکھائی نہ دینے والا زخم کریدنے میں لگ جاتے۔ اس ملاقات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ان کے حساس دل میں چند گرام سیسہ اتار کر انہیں خاموش کر دیا گیا۔

سرب دیال بھی اسی ملاقات میں موجود تھے۔ ہندوؤں کی حالت زار پر ان کا رواں رواں احتجاج کرتا تھا۔ اس کے بعد رنکل کا قصہ ہوا کہ انوشا میگھوار کا، مجھے ہر دفعہ ان کا تمتماتا چہرہ اور اپنی شرمندگی یاد آتی اور میں زمین میں تھوڑا اور گڑ جاتا۔

Read more

کشمیر: آؤ نئی کہانی لکھتے ہیں

کشمیر پر ستر سال میں ہمارا سب سے اہم سرکاری اقدام پانچ فروری کی چھٹی رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری اور نیم سرکاری اقدامات میں کشمیر پر ہونے والے گرما گرم بین الکلیاتی مباحثے، روز کی ایک ہی الفاظ والی پی ٹی وی خبرنامے پر چلنے والی ٹکر جو اب باقی سیٹلائٹ چینلز پر بھی چلتی ہے۔

کشمیر جہاد کے نام پر پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچوں اور نوجوانوں کے تابوت، منصورہ اور مرید کے میں ہونے والے روح پرور اجتماعات، مینار پاکستان پر حافظ سعید کی شہہ سواری کا منظر، میاں طفیل سے قاضی حسین احمد اورسراج الحق تک کی مال روڈ پر نکلنے والے کشمیری فلوٹ کی قیادت، کشمیری رہنماؤں کی ایک ہی سکرپٹ پر لکھی تقریریں اور اب اسی سکرپٹ کے خلاصے پر مبنی ٹویٹس، اُدھر سے آنے والے بزدلانہ گولے اور ادھر سے جانے والے بہادرانہ گولے۔

Read more

اسامہ کائرہ کی موت کے ساتھ جڑے کچھ قصے

موت ایک عجیب معاملہ ہے، کسی اپنے کی موت۔ وہ موت جو کبھی سوچی نہیں جاتی۔ وہ موت جو وقت سے پہلے آتی ہے۔ وہ موت جو ایک صاف آسمان پر اچانک گھر آنے والی ایک سیاہ بدلی کی طرح سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ ایسی موت ایک عجیب معاملہ ہے۔ نہ سمجھ میں آنے والا معاملہ۔ جس پر گزرے، سو گزرے پر کسی اور کے لیے اسے محسوس کرنا ممکن نہیں ہے۔ کچھ درد صرف دیکھے جا سکتے ہیں۔ کچھ غم صرف لکھے جا سکتے ہیں پر وہ دل میں نہیں سماتے۔ ذہن ان کو ماپ نہیں سکتا ہاں مگر اس کے لیے جس پر وہ بیتے۔

ڈینیل ہینڈلر اپنے ایک ناول میں ایسے ہی کسی پیارے کی موت کو بیان کرتا ہے تو ٹھٹک جاتا ہے۔ وہ لفظ ڈھونڈتا ہے پر لفظ نہیں ملتے۔ لفظ اتنے گہرے نہیں ہوتے کہ اس میں اتنا دکھ سما سکے۔ اسلم انصاری نے کہا تھا کہ کلام دکھ ہے کہ کون کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے۔ تو میرے دوست لفظ نہیں ہیں۔ کوئی لفظ نہیں ہیں۔ بس ایک احساس سا ہے۔ ایک عجیب سا احساس۔ جیسے رات کے اندھیرے میں دوسری منزل کو جاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھو۔ آخری سیڑھی پر قدم دھرو تو یاد نہ رہے کہ آخری سیڑھی ہے۔ اس کے بعد کی سیڑھی کے لیے قدم اٹھاؤ اور سیڑھی نہ ملے۔

بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں قدم زمین ڈھونڈتا ہے مگر وہاں خلا ہے۔ وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں بے یقینی ہے، توازن کی معدومیت ہے، ایک خاموش چیخ ہے، ایک دل کی رکی ہوئی دھڑکن ہے۔ بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں ہم پر یہ رمز کھلتی ہے کہ اگلا قدم ویسا نہیں ہے جیسا سوچا تھا۔ وہاں نہیں ہے جہاں اسے ہونا تھا۔ اب ایک ایسی نئی مطابقت کرنی پڑے گی جو نہ وہم میں تھی نہ گمان میں۔ بس اس ایک لمحے کے سوویں حصے کو کھینچ لیجیے تو وہ عمر بن جائے گی جو پیاروں کی ناگہانی موت کے بعد بسر ہوتی ہے۔

Read more

میری ماں کی کہانی

ہوش سنبھالا تو دیکھا، گھر میں ہر طرف ٹرافیاں اور کپ سجے تھے۔ اخباروں کے لاتعداد تراشے فریم ہوئے پڑے تھے۔ جو فریم نہ ہو سکے، وہ گتے کے ڈبوں میں حفاظت سے رکھے تھے۔ جب بات سمجھنے اور سننے کے لائق ہوئے تو پتہ لگا کہ یہ ان گنت کپ اور ٹرافیاں امی کی…

Read more

پرانے اور نئے پاکستان کے وزیروں کے لطیفے

محترمہ بے نظیر بھٹو کے عہد کا قصہ ہے۔ وزارت خزانہ کی ذمہ داری احسان الحق پراچہ صاحب کے پاس تھی۔ بجٹ اجلاس کے لیے صاحب نے کراچی سے اڑان بھری تو اسی پرواز میں آئی بی اے کراچی کے استاد اور ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوہاب بھی تھے۔ پرواز ہموار ہوئی تو پراچہ صاحب خود اپنی نشست سے اٹھے اور وہاب صاحب کے برابر براجمان ہو گئے۔ سلام دعا کا تبادلہ ہونے کے بعد وہ کچھ جھجکتے ہوئے وہاب صاحب کی طرف جھکے اور بولے ”ڈاکٹر صاحب، میں چاہ رہا تھا آپ مجھے کچھ سمجھائیں کہ یہ بجٹ خسارہ ہوتا کیا ہے“۔ یاد رہے کہ دو روز بعد موصوف نے بجٹ پیش کرنا تھا۔ پراچہ صاحب کا تعلق بھلوال، ضلع سرگودھا سے تھا، بی اے، ایل ایل بی تھے اور مالیات سے ان کا دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا پر سیاست کی نیرنگی تھی کہ وزیر خزانہ کہلائے۔

میاں نواز شریف کے دور میں ان کے رشتہ دار میاں بلال یاسین وزیر خوراک تھے۔ ایک دن اتوار بازار کے دورے میں لوگوں نے شکایت جڑ دی کہ لیموں بہت مہنگے ہو گئے ہیں۔ وزیر موصوف کو طلب اور رسد کے قوانین سے آ گاہی نہیں تھی مگر شاید ملکہ میری اینٹونینٹ سے واقف تھے اس لیے فرمایا کہ عوام کو چاہیے کہ لیموں کی جگہ کھانے پر ٹماٹر نچوڑ لیا کریں۔

Read more

آپ اذان سن کر کیا کرتے ہیں؟

پہلے نماز جمعہ کا اہتمام قریبی مسجد میں ہوتا تھا پھر جامعہ کے لان میں ہونے لگا۔ ایک فیکلٹی کے رکن کے ذمے خطبہ اور امامت سپرد کر دی گئی جن کا تعلق کمپیوٹر سائنسز سے تھا۔ ان کے ایک یادگار خطبے کے چند ارشادات ایسے تھے کہ دوبارہ کان دھرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ باقی باتیں تو خوف فساد خلق سے رہنے دیتے ہیں پر ایک حکم جو انہوں نے دیا وہ آپ کی نذر ہے اور انہی کے الفاظ میں ہے۔

”ہم گناہ گار لوگ ہیں۔ روزانہ کتنے ہی غلط کام کرتے ہیں۔ اس دنیا کی طلب میں ہم سے بہت سے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جو خدا کی بارگاہ میں ناپسندیدہ ٹھہرتے ہیں۔ آپ سب میں سے بہت سارے دوست شادی شدہ ہیں۔ ان کو مزید احتیاط کرنی چاہیے۔ ان میں سے کئی کام ایسے ہیں، کئی باتیں ایسی ہیں جو آپ کر جاتے ہیں اور جانتے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ گناہ تو اپنی جگہ پر آپ کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ آپ جتنی بھی احتیاط کریں پر یہ ممکن ہے کہ آپ جانے انجانے میں اپنا نکاح فسخ کر بیٹھیں اور پھر گناہ کی زندگی گزاریں۔ اس لیے میری آپ سے درخواست ہے اور بڑے ادب سے درخواست ہے کہ مہینے میں کم ازکم ایک دفعہ کسی اچھے عالم کے ہاتھ تجدید نکاح کروا لیا کیجیے“

Read more

رینا اور روینا کے مسلمان ہونے کا معجزہ اور شناختی کارڈ کا قصہ

امی اور ابو روایتی مسلمان تھے بلکہ کسی حد تک سخت گیر بھی مگر تنگ نظر نہیں تھے۔ گھر میں قرآن کے ساتھ اناجیل اربعہ اور مہا بھارت کے تراجم بھی موجود تھے۔ بچپن میں جو پہلی باقاعدہ مذہبی کتاب میرے ہاتھ میں تھمائی گئی وہ مولانا مودودی کی تفہیم القرآن تھی پر اس کے بعد ابو کی لائبریری کے دروازے بغیر کسی خاص ہدایت کے مجھ پر وا کر دیے گئے۔ یہ قصہ کہیں لکھ چکا ہوں کہ کیسے اس چھوٹی سی عمر میں یہ خیال ذہن میں جگہ بنا لینے میں کامیاب ہو گیا کہ مذہب ایک اختیار ہے، جبر نہیں اور والدین نے بھی اس خیال کی توثیق کر دی۔ پر بہت جلد یہ سمجھ میں آ گیا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کون سا راستہ چننا ہے، سہل نہیں ہے۔ جتنا پڑھتا گیا، لگتا کہ کم ہے۔ الجھنیں بڑھتی چلی گئیں۔ اسی کشمکش میں عمر کے اٹھارہ سال گزر گئے۔

سرکاری بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد یہ بھی لازم تھا کہ شناختی کارڈ بنوایا جائے۔ سو متعلقہ دفتر پہنچا۔ شناختی کارڈ کے فارم لیے، تصاویر وغیرہ اور باقی لوازمات کی کاپیاں پہلے ہی اکٹھی کر رکھی تھیں۔ اب فارم بھرنا تھا۔ پہلے ہی صفحے پر ایک خانہ مذہب کا تھا۔

Read more