کورونا مشترکہ اعلامیہ میں چھپا خفیہ پیغام کیا تھا

بچپن سے ہمیں سکھایا گیا ہے کہ مقدس متن اور شاعری سیاق وسباق اور تشریح کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے۔ پانچوں مکاتب فکر کے اکابر علماء اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کا متفقہ اعلامیہ بعنوان کورونا وائرس بھی اپنی جگہ ایسا ہی ایک متن ہے۔ یوں تو ہمارے عوام بہت سیانے ہیں اور اس اعلامیہ کے خفیہ پیغام کو انہوں نے کامیابی سے ڈی کوڈ کر لیا ہے۔ اس کا ثبوت جمعہ کے روح پرور اجتماعات ہیں جو حکومت کی تمام رکاوٹوں کے باوجود پورے ملک میں منعقد ہوئے اور یہ ثابت ہوا کہ یہ بہادر قوم ایک حقیر جرثومے سے بالکل خوفزدہ نہیں ہے بلکہ شہادت پر تلی ہوئی ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس اعلامیہ کو لے کر شش وپنج کا شکار ہیں کہ اس کا مفہوم درحقیقت ہے کیا۔ کچھ ناہنجار تو باقاعدہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس لیے ہم اعلامیہ کے بین السطور لکھے معنی سب کی نذر کر رہے ہیں۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف

Read more

کورونا، مولانا، مفتی اور علامہ

خدا بخشے پروفیسر فضل حسن کو۔ یونیورسٹی میں فنانس پڑھاتے پڑھاتے اکثر سیاست کی گلی میں نکل جاتے۔ سیاست سے سماجیات اور عمرانیات پر پہنچتے پہنچتے فنانس کہیں دور رہ جاتی۔ اکثر اوقات انہی لیکچرز میں قوم کے بے لوث رہ نماؤں کا ذکر آتا تو وہ موٹی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے گول گول دیدے گھماتے اور کہتے ”دیکھو، امریکی بہت سمارٹ لوگ ہیں۔ پتہ ہے ان کا پسندیدہ محاورہ کیا ہے۔ دیٹ دئیر از نو سچ تھنگ ایز اے فری لنچ۔ دنیا میں کچھ مفت نہیں ملتا اور جو تمہیں کچھ مفت دینے کا دعوی کرے، سمجھ جاؤ دال میں ضرور کچھ کالا ہے بلکہ کالے میں کچھ دال ہے۔ سب کمانے کے دھندے ہیں“

Read more

عورت مارچ—گیارہ سوال—گیارہ جواب

عورت مارچ کے بارے میں جتنے منہ ہیں ، اتنی باتیں۔ ہر کوئی سوال پوچھتا ہے۔ ہر طرح اور ہر نسل کے سوال۔ ہم نے انہیں سوالوں میں سے گیارہ ایسے سوال چنے جو سب سے زیادہ دہرائے جا رہے ہیں اور ان کے جواب دینے کی ایک کوشش اس ویڈیو میں کی ہے۔ یہ جواب مختصر ہیں، جامع ہیں اور ہماری رائے کا اظہار ہیں۔ نہ یہ کوئی حکم ہے، نہ فتویٰ اور نہ ہی ان پر ہمارا اصرار ہے۔

Read more

کیا انگریزی ذریعہ تعلیم تباہی کی بنیاد ہے

یہ ایک پرانی بحث ہے کہ ذریعہ تعلیم انگریزی ہونا چاہیے، اردو یا پھر مادری زبان۔ ہمارے بہت سے دوست اس بات کے قائل ہیں کہ اردو کو اپنائے بغیر ترقی ممکن نہیں ۔ کچھ انگریزی تعلیم کو باقاعدہ ایک سازش قرار دیتے ہیں ۔ دوسری طرف کچھ حکومتی ادارے اس کوشش میں مصروف رہے…

Read more

کیا ہم اپنے بچوں کی غلط تربیت کر رہے ہیں؟

بچوں کی تربیت ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے، جتنا کہا جائے، کم ہے۔ زندگی کے ابتدائی سال شخصیت کی تعمیر میں سب سے اہم ہوتے ہیں۔ سب والدین بچوں کی تعلیم اور تربیت کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا وہ ایک درست طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ کیا بچے کو مجرد تصورات…

Read more

وہ کون سے راستے ہیں جن پر عورت آج بھی ”محرم“ کے بنا قدم نہیں دھر سکتی؟

میرا جسم، میری مرضی۔ اس پر بہت بحث ہو چکی۔ بہت سے سوال اٹھائے گئے۔ بہت سے جواز تراشے گئے۔ حق میں بھی، مخالفت میں بھی۔ کیا ہم نے یہ سوچا کہ یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ یہ فیصلہ کہ عورت نے کس طرح جینا ہے، اس معاشرے میں کون کرتا…

Read more

خلیل الرحمن قمر سے افکار علوی تک

شاعری میں ہماری پہنچ اس نوآموز سے بھی کم ہے جس کی دو غزلوں میں سے پہلی سننے کے بعد استاد نے دوسری پڑھنے کا مشورہ دے ڈالا تھا۔ کچھ روز ہوتے ہیں کہ برسوں سے مٹی کھاتی ایک پیٹی سے وہ ڈائری ملی جسے کبھی بیاض سمجھتے تھے۔ شوق سے بیوی کو اس میں سے کچھ کلام سنایا تو اس نے تنک کر کہا ”اتنے دن ہو گئے ہیں، آپ نے کالم نہیں لکھا“۔ اگلے دن سے وہ ڈائری کہیں نظر نہ آئی۔ تین بٹا چار بہتر قسمیہ کہتی ہے کہ اس نے ادھر ادھر نہیں کی۔ ایسے موقع پر والد محترم یاد آتے ہیں جو ایسے موقع پر کہا کرتے تھے ”ہاں، یہ یقیناً فرشتوں کا کام ہو گا۔ نیک لوگوں کے لیے ایسی ہی غیبی مدد اترتی ہے“ پر جیسے کلام ہمیشہ غیر مطبوعہ رہے گا، ایسے ہی یہ جملہ بھی ناگفتنی رہے گا۔ آخر جان بیوی کو دینی ہے۔

Read more

سوال کیوں نہیں مرتا؟ یہ بھی ایک سوال ہے

ہمارے پاس نہ کوئی میرزا ہیں نہ کوئی شیخ صاحب اس لیے خودکلامی سے کام چلا لیتے ہیں۔ خود ہی سوال داغتے ہیں، خود ہی جواب تراشتے ہیں اور بقول شفیق الرحمان بعد میں خود ہی کو گھرکتے ہیں کہ جواب کتنا غلط ہے۔ سردیوں کی دھوپ میں ایک عجیب آلسی پن ہے جو جسم…

Read more

میٹرک کا امتحان، ننانوے کا پھیر اور نقل کے منصوبے

ایک زمانہ تھا کہ ہم سکول اور درسی کتب کی محبت میں مبتلا نہ سہی پر ان سے گہری انسیت ضرور رکھتے تھے۔ امی اور ابو دونوں نے بچپن سے ذہن میں یہ خیال راسخ کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہمارے کاسۂ سر میں موجود دماغ لاکھوں میں نہ سہی، ہزاروں میں ایک ہے۔…

Read more

فیض صاحب۔ کارپوریٹ برانڈ یا جمہور کی آواز؟

منیزہ آپا سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں نے پی ٹی وی پر صبح کی نشریات شروع کیں۔ ایک تو خادم روایتی میڈیا کا خوش شکل شاہ زادہ نہیں تھا بلکہ دور دور تک نہیں تھا دوسرا یہ کہ حریفان خرام کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا تجربہ ہم سے زیادہ رکھتے تھے اس لیے منیزہ ہاشمی کو مجھ سے کوئی خاص توقعات نہیں تھیں اور اس کا اظہار انہوں نے ایک دو دفعہ بغیر لحاظ رکھے میرے منہ پر بھی کر دیا۔ خیر صاحب، وہ پی ٹی وی پر راج کرتی تھیں اور میڈیا کی حد تک، ہم نے ابھی گھٹنوں کے بل بھی چلنا نہیں سیکھا تھا۔ منیزہ آپا کے خدشات خندہ پیشانی سے سنے کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

Read more