فیض صاحب۔ کارپوریٹ برانڈ یا جمہور کی آواز؟

منیزہ آپا سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں نے پی ٹی وی پر صبح کی نشریات شروع کیں۔ ایک تو خادم روایتی میڈیا کا خوش شکل شاہ زادہ نہیں تھا بلکہ دور دور تک نہیں تھا دوسرا یہ کہ حریفان خرام کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا تجربہ ہم سے زیادہ رکھتے تھے اس لیے منیزہ ہاشمی کو مجھ سے کوئی خاص توقعات نہیں تھیں اور اس کا اظہار انہوں نے ایک دو دفعہ بغیر لحاظ رکھے میرے منہ پر بھی کر دیا۔ خیر صاحب، وہ پی ٹی وی پر راج کرتی تھیں اور میڈیا کی حد تک، ہم نے ابھی گھٹنوں کے بل بھی چلنا نہیں سیکھا تھا۔ منیزہ آپا کے خدشات خندہ پیشانی سے سنے کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

Read more

کرتار پور کے بعد مزید راہ داریوں کے نامراد منصوبے

چلیے ایک راستہ کھلا۔ ایک راہداری ہے جو خاردار سرحد کے آر پار ہے۔ دو طرف دشمن بندوقیں اور توپیں لیے کھڑے ہیں پر راہداری میں دمکتے چہروں والے سکھ بے خوف ہیں۔ ستر سال پہلے ہوئے کتنے ہی قتل عام ، کتنی ہی عورتوں کا ریپ، کتنی ہی املاک کی تباہی سب اس راہداری…

Read more

فقیر محمد کو زہر کہاں سے ملے گا

فقیر محمد پڑھا لکھا نہیں ہے کیونکہ وہ پانچ برس کی عمر سے کام کر رہا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس نے کتابیں نہیں پڑھیں۔ وہ نہیں جانتا کہ آئن رینڈ کون ہے اور اس کی تحریروں میں معاشرے کے لیے کیا درس ہیں۔ اسے معروضیت جیسی مشکل اصطلاحات کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ…

Read more

وہ جو عمران خان تقریر میں نہ کہہ سکے

امی اور ابو دونوں کے پڑھے لکھے ہونے کا نقصان یہ تھا کہ ہر دو طرف سے نصیحت میں دلیل کا تڑکا لگا ہوتا تھا اس لیے اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر اوقات بات کرنے کے بعد سامنے بٹھا کر پوچھا جاتا تھا ”اچھا بتاؤ،…

Read more

حجاب کی تعلیمی پالیسی پر بدنیت دانشوروں کے چودہ سوال

متبادل بیانیہ صرف باتوں سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہ تو خوش قسمتی ہے خادم اعلی اور جناب وزیر اعظم کی، کہ ان کی صفوں میں محترم سید رضا گیلانی جیسے نابغہ روزگار مجاہد موجود ہیں۔ ان کے ہوتے اب کسی کو متبادل بیانیے کی فکر میں دبلا ہونے…

Read more

انور سعید صاحب کے بیٹے! عزیز از جان گدھے

(ایک عظیم استاد اور فلسفی ڈاکٹر رادھا کرشنن کے یوم پیدائش کی مناسبت سے) سکول میں جماعت ہشتم کے بورڈ کے امتحان کا نتیجہ آیا تو توقعات سے شاید بدتر تھا یا بہتر، یہ تو مجھے آج تک نہیں پتہ لیکن انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ سکول میں اب نہم کے پانچ سیکشنز سے…

Read more

ملحدوں کا حسین

میرا بچپن اور لڑکپن جس گھر میں گزرا، وہ لاہور کی ایک نسبتا نئی آبادی میں تھا۔ گھر خال خال تھے۔ کچھ فاصلے پر آبادی کی سرحد تھی۔ اس زمانے میں آبادیوں کے گرد دیوار بنانے کا رواج نہ تھا تو پرانی اور نئی آبادی کے بیچ حد فاصل کے طور پر بس ایک چھوٹی سی سڑک تھی۔ ہمارے گھر کے سامنے خالی پلاٹوں کا ایک سلسلہ تھا، اس کے بعد وہی چھوٹی سی سڑک اور پھر ایک امام بارگاہ جو کہ اس پرانی آبادی کا گویا مرکز تھی۔

Read more

کیا شیعہ ایک اقلیت ہیں؟

چرن جیت سنگھ خاموش طبعیت کے آدمی تھے۔ زیادہ نہیں بولتے تھے۔ پر جو کچھ سکھ برادری پر پاکستان میں بیت رہا تھا اس کے ذکر پر ان کی آنکھوں کے گوشے نم سے ہو جاتے۔ کچھ دیر وہ انہی نم مگر چپ آنکھوں سے ہمیں دیکھتے پھر اپنی انگلی سے اپنی ہتھیلی پر ایک دکھائی نہ دینے والا زخم کریدنے میں لگ جاتے۔ اس ملاقات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ان کے حساس دل میں چند گرام سیسہ اتار کر انہیں خاموش کر دیا گیا۔

سرب دیال بھی اسی ملاقات میں موجود تھے۔ ہندوؤں کی حالت زار پر ان کا رواں رواں احتجاج کرتا تھا۔ اس کے بعد رنکل کا قصہ ہوا کہ انوشا میگھوار کا، مجھے ہر دفعہ ان کا تمتماتا چہرہ اور اپنی شرمندگی یاد آتی اور میں زمین میں تھوڑا اور گڑ جاتا۔

Read more

کشمیر: آؤ نئی کہانی لکھتے ہیں

کشمیر پر ستر سال میں ہمارا سب سے اہم سرکاری اقدام پانچ فروری کی چھٹی رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری اور نیم سرکاری اقدامات میں کشمیر پر ہونے والے گرما گرم بین الکلیاتی مباحثے، روز کی ایک ہی الفاظ والی پی ٹی وی خبرنامے پر چلنے والی ٹکر جو اب باقی سیٹلائٹ چینلز پر بھی چلتی ہے۔

کشمیر جہاد کے نام پر پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچوں اور نوجوانوں کے تابوت، منصورہ اور مرید کے میں ہونے والے روح پرور اجتماعات، مینار پاکستان پر حافظ سعید کی شہہ سواری کا منظر، میاں طفیل سے قاضی حسین احمد اورسراج الحق تک کی مال روڈ پر نکلنے والے کشمیری فلوٹ کی قیادت، کشمیری رہنماؤں کی ایک ہی سکرپٹ پر لکھی تقریریں اور اب اسی سکرپٹ کے خلاصے پر مبنی ٹویٹس، اُدھر سے آنے والے بزدلانہ گولے اور ادھر سے جانے والے بہادرانہ گولے۔

Read more

اسامہ کائرہ کی موت کے ساتھ جڑے کچھ قصے

موت ایک عجیب معاملہ ہے، کسی اپنے کی موت۔ وہ موت جو کبھی سوچی نہیں جاتی۔ وہ موت جو وقت سے پہلے آتی ہے۔ وہ موت جو ایک صاف آسمان پر اچانک گھر آنے والی ایک سیاہ بدلی کی طرح سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ ایسی موت ایک عجیب معاملہ ہے۔ نہ سمجھ میں آنے والا معاملہ۔ جس پر گزرے، سو گزرے پر کسی اور کے لیے اسے محسوس کرنا ممکن نہیں ہے۔ کچھ درد صرف دیکھے جا سکتے ہیں۔ کچھ غم صرف لکھے جا سکتے ہیں پر وہ دل میں نہیں سماتے۔ ذہن ان کو ماپ نہیں سکتا ہاں مگر اس کے لیے جس پر وہ بیتے۔

ڈینیل ہینڈلر اپنے ایک ناول میں ایسے ہی کسی پیارے کی موت کو بیان کرتا ہے تو ٹھٹک جاتا ہے۔ وہ لفظ ڈھونڈتا ہے پر لفظ نہیں ملتے۔ لفظ اتنے گہرے نہیں ہوتے کہ اس میں اتنا دکھ سما سکے۔ اسلم انصاری نے کہا تھا کہ کلام دکھ ہے کہ کون کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے۔ تو میرے دوست لفظ نہیں ہیں۔ کوئی لفظ نہیں ہیں۔ بس ایک احساس سا ہے۔ ایک عجیب سا احساس۔ جیسے رات کے اندھیرے میں دوسری منزل کو جاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھو۔ آخری سیڑھی پر قدم دھرو تو یاد نہ رہے کہ آخری سیڑھی ہے۔ اس کے بعد کی سیڑھی کے لیے قدم اٹھاؤ اور سیڑھی نہ ملے۔

بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں قدم زمین ڈھونڈتا ہے مگر وہاں خلا ہے۔ وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں بے یقینی ہے، توازن کی معدومیت ہے، ایک خاموش چیخ ہے، ایک دل کی رکی ہوئی دھڑکن ہے۔ بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں ہم پر یہ رمز کھلتی ہے کہ اگلا قدم ویسا نہیں ہے جیسا سوچا تھا۔ وہاں نہیں ہے جہاں اسے ہونا تھا۔ اب ایک ایسی نئی مطابقت کرنی پڑے گی جو نہ وہم میں تھی نہ گمان میں۔ بس اس ایک لمحے کے سوویں حصے کو کھینچ لیجیے تو وہ عمر بن جائے گی جو پیاروں کی ناگہانی موت کے بعد بسر ہوتی ہے۔

Read more