کیا ہم اپنے بچوں کی غلط تربیت کر رہے ہیں؟

بچوں کی تربیت ایک ایسا موضوع ہے جس پر جتنا لکھا جائے، جتنا کہا جائے، کم ہے۔ زندگی کے ابتدائی سال شخصیت کی تعمیر میں سب سے اہم ہوتے ہیں۔ سب والدین بچوں کی تعلیم اور تربیت کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا وہ ایک درست طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ کیا بچے کو مجرد تصورات…

Read more

وہ کون سے راستے ہیں جن پر عورت آج بھی ”محرم“ کے بنا قدم نہیں دھر سکتی؟

میرا جسم، میری مرضی۔ اس پر بہت بحث ہو چکی۔ بہت سے سوال اٹھائے گئے۔ بہت سے جواز تراشے گئے۔ حق میں بھی، مخالفت میں بھی۔ کیا ہم نے یہ سوچا کہ یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ یہ فیصلہ کہ عورت نے کس طرح جینا ہے، اس معاشرے میں کون کرتا…

Read more

خلیل الرحمن قمر سے افکار علوی تک

شاعری میں ہماری پہنچ اس نوآموز سے بھی کم ہے جس کی دو غزلوں میں سے پہلی سننے کے بعد استاد نے دوسری پڑھنے کا مشورہ دے ڈالا تھا۔ کچھ روز ہوتے ہیں کہ برسوں سے مٹی کھاتی ایک پیٹی سے وہ ڈائری ملی جسے کبھی بیاض سمجھتے تھے۔ شوق سے بیوی کو اس میں سے کچھ کلام سنایا تو اس نے تنک کر کہا ”اتنے دن ہو گئے ہیں، آپ نے کالم نہیں لکھا“۔ اگلے دن سے وہ ڈائری کہیں نظر نہ آئی۔ تین بٹا چار بہتر قسمیہ کہتی ہے کہ اس نے ادھر ادھر نہیں کی۔ ایسے موقع پر والد محترم یاد آتے ہیں جو ایسے موقع پر کہا کرتے تھے ”ہاں، یہ یقیناً فرشتوں کا کام ہو گا۔ نیک لوگوں کے لیے ایسی ہی غیبی مدد اترتی ہے“ پر جیسے کلام ہمیشہ غیر مطبوعہ رہے گا، ایسے ہی یہ جملہ بھی ناگفتنی رہے گا۔ آخر جان بیوی کو دینی ہے۔

Read more

سوال کیوں نہیں مرتا؟ یہ بھی ایک سوال ہے

ہمارے پاس نہ کوئی میرزا ہیں نہ کوئی شیخ صاحب اس لیے خودکلامی سے کام چلا لیتے ہیں۔ خود ہی سوال داغتے ہیں، خود ہی جواب تراشتے ہیں اور بقول شفیق الرحمان بعد میں خود ہی کو گھرکتے ہیں کہ جواب کتنا غلط ہے۔ سردیوں کی دھوپ میں ایک عجیب آلسی پن ہے جو جسم…

Read more

میٹرک کا امتحان، ننانوے کا پھیر اور نقل کے منصوبے

ایک زمانہ تھا کہ ہم سکول اور درسی کتب کی محبت میں مبتلا نہ سہی پر ان سے گہری انسیت ضرور رکھتے تھے۔ امی اور ابو دونوں نے بچپن سے ذہن میں یہ خیال راسخ کرنا شروع کر دیا تھا کہ ہمارے کاسۂ سر میں موجود دماغ لاکھوں میں نہ سہی، ہزاروں میں ایک ہے۔…

Read more

فیض صاحب۔ کارپوریٹ برانڈ یا جمہور کی آواز؟

منیزہ آپا سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں نے پی ٹی وی پر صبح کی نشریات شروع کیں۔ ایک تو خادم روایتی میڈیا کا خوش شکل شاہ زادہ نہیں تھا بلکہ دور دور تک نہیں تھا دوسرا یہ کہ حریفان خرام کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا تجربہ ہم سے زیادہ رکھتے تھے اس لیے منیزہ ہاشمی کو مجھ سے کوئی خاص توقعات نہیں تھیں اور اس کا اظہار انہوں نے ایک دو دفعہ بغیر لحاظ رکھے میرے منہ پر بھی کر دیا۔ خیر صاحب، وہ پی ٹی وی پر راج کرتی تھیں اور میڈیا کی حد تک، ہم نے ابھی گھٹنوں کے بل بھی چلنا نہیں سیکھا تھا۔ منیزہ آپا کے خدشات خندہ پیشانی سے سنے کیونکہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

Read more

کرتار پور کے بعد مزید راہ داریوں کے نامراد منصوبے

چلیے ایک راستہ کھلا۔ ایک راہداری ہے جو خاردار سرحد کے آر پار ہے۔ دو طرف دشمن بندوقیں اور توپیں لیے کھڑے ہیں پر راہداری میں دمکتے چہروں والے سکھ بے خوف ہیں۔ ستر سال پہلے ہوئے کتنے ہی قتل عام ، کتنی ہی عورتوں کا ریپ، کتنی ہی املاک کی تباہی سب اس راہداری…

Read more

فقیر محمد کو زہر کہاں سے ملے گا

فقیر محمد پڑھا لکھا نہیں ہے کیونکہ وہ پانچ برس کی عمر سے کام کر رہا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس نے کتابیں نہیں پڑھیں۔ وہ نہیں جانتا کہ آئن رینڈ کون ہے اور اس کی تحریروں میں معاشرے کے لیے کیا درس ہیں۔ اسے معروضیت جیسی مشکل اصطلاحات کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ…

Read more

وہ جو عمران خان تقریر میں نہ کہہ سکے

امی اور ابو دونوں کے پڑھے لکھے ہونے کا نقصان یہ تھا کہ ہر دو طرف سے نصیحت میں دلیل کا تڑکا لگا ہوتا تھا اس لیے اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر اوقات بات کرنے کے بعد سامنے بٹھا کر پوچھا جاتا تھا ”اچھا بتاؤ،…

Read more

حجاب کی تعلیمی پالیسی پر بدنیت دانشوروں کے چودہ سوال

متبادل بیانیہ صرف باتوں سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہ تو خوش قسمتی ہے خادم اعلی اور جناب وزیر اعظم کی، کہ ان کی صفوں میں محترم سید رضا گیلانی جیسے نابغہ روزگار مجاہد موجود ہیں۔ ان کے ہوتے اب کسی کو متبادل بیانیے کی فکر میں دبلا ہونے…

Read more