رہیے اب ایسی جگہ
مڈل کلاس کی آدھی زندگی پلاٹ لے کر گھر بنانے میں وقف ہو جاتی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ نو سے پانچ کی چاکری کے بعد چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا ہے تاکہ اخراجات اور خواہشات کا تناسب برقرار رہے، ایسے میں انفرادی نشوونما رُک اور زندگی بھرپور طریقے سے جینے کی بجائے ایک میکانکی عمل بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ سلسلہ جب رُکتا ہے تو انسان تمام تر کمائی کو چاہ کر بھی ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ اچھی زندگی
Read more
