جب ’کھردرے لفظوں‘ کا مرحلہ آن پہنچے
چار پانچ برس کا بچہ، اپنے یہاں اس قدر ذخیرہ الفاظ ڈویلیپ کرچکا ہوتا ہے، کہ مطلب کی ہر بات کا ابلاغ، مختصر جملوں میں، پوری کامیابی سے کرسکے؛ لیکن اب بات یہاں تک محدود نہیں رہتی۔ وہ جان لیتا ہے کہ اظہار ”باہر جانا“، ”آئش کریم دے دو“، یا ”پہلا کلمہ طیب، طیب معنے پاک“ کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے؛ جہاں پہلے وہ دو لفظی اظہار میں اصرار کا تاثر بھرنے کو محض اپنی آواز بلند کر لیتا اور بعض اوقات چیخ پکار
Read more

