پڑھے لکھے پروفیسر اور جہالت کا راج

جہالت ہمارا سب سے بڑا قومی دشمن ہے لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم خود ہی اپنے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں تعلیم کی کمی ہے یا ڈگریوں والے موجود نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں 11 ہزار 670 پی ایچ ڈی پروفیسرز کام کر رہے ہیں جبکہ سالانہ 18 ہزار انجینئرز، 30 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، پونے چار لاکھ بزنس گریجویٹس فارغ التحصیل ہورہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں بھاری بھرکم ڈگریوں والے اساتذہ پر مشتمل فیکلٹیز قائم ہیں۔

گویا سب کچھ ہے لیکن جہالت ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ ڈگریوں والے سینکڑوں نوجوان مقابلے کا امتحان پاس کرکے بیورو کریسی کا حصہ بن رہے ہیں لیکن سرکاری محکموں کا حال ابتر ہو رہا ہے۔ ہسپتال بن رہے ہیں۔ ان میں جدید میڈیکل ٹیکنالوجی سے آراستہ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ سینکڑوں ڈاکٹرز بھرتی کیے جا رہے ہیں لیکن مریض تڑپتے نظر آتے ہیں۔ بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

Read more

ایک تجربہ جس سے مجھے یوٹرن کی اہمیت سمجھ آئی

بہت مدت بعد صوبہ خیبرپختونخوا کی طرف سفر کا موقع ملا۔ اسلام آباد سے روانہ ہوئے تو موسم ابر آلود تھا۔ موٹروے کی چکنی اور کشادہ سڑک پر گاڑی دوڑنے کے بجائے گویا تیرتی ہوئی جارہی تھی۔ نہ کوئی رش، نہ بار بار کی بریکس، نہ کوئی جھٹکا۔ اگرچہ ہم دوست کسی قریبی ساتھی سے اس کے قریبی کی وفات پر اظہارتعزیت اور دعائے مغفرت کے لئے جارہے تھے اور دلوں میں غم کی کیفیت طاری تھی لیکن بے تھکان سفر اور تاحد نگاہ پھیلے حسین مناظر کے بیچوں بیچ نوازشریف کی بنائی ہوئی موٹروے پر تیرتی ہوئی ہماری گاڑی نے یوں اپنے حصار میں لیا کہ غم بھول گیا۔ موسم بہت حسین تھا اور چند قطرے بوندا باندی کے بعد سورج بادلوں کے سفید پردوں میں سے جھانکنے کی کوشش کررہا تھا جس سے ہوشربا رنگ فضاء میں بکھرے ہوئے تھے۔ اس منظر میں اتنی طاقت تھی کہ ہمارے دل بھی گد گدانے لگے۔

Read more