رزقِ حلال، سلائی مشین اور الحذر

معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟ رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دیے جاسکتے ہیں کرپٹ مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

پون صدی ہوتی ہے۔ لائلپور کہ تَر دماغ و ہنرمند نفوس کا گڑھ ہے، ایک مردِ جفاکش کندھے پر چادریں رکھے گھنٹہ گھر گول چوک میں کھڑا بیچتا تھا۔ پنجاب کے وسط میں موسم کی شدّت۔ الحذر۔ جون، جولائی کی گرمی کہ چیل انڈے چھوڑ دے مگر یہ ہنرمند اپنے کام میں جُتا رہتا۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔ برکت اس کام میں اتنی ہوئی کہ کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا ستارہ مل کا مالک بنا۔

Read more

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، ”سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ “

Read more

ناصرہ فدوی۔ فن اور شخصیت

ادب کے افق پر بہت سے ستارے جھلملاتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ضیاء سے آسمانِ ادب ہمیشہ منور رہتا ہے۔ فرد کی داخلی حسیّات کو اجتماعی لاشعور کی مابعد الطبیعیات سے ہم آہنگ کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں۔ یہ بھاری لکّڑ ہر کوئی نہیں لے سکتا۔ پچھلی چند صدیوں کے اردو ادب میں جو ستارے دائمی نور کا منبع رہے ہیں ان میں جنابِ رضی ٹھاہ کا نامِ نامی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ ہر شے کو ناپنے کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ فاصلے میلوں میں ناپے جاتے ہیں۔ دودھ لٹروں میں اور وزن کیلو میں۔ شاعری ناپنے کا پیمانہ رضی ٹھاہ ہیں۔ کسی بھی شاعر یا شاعری کے مقام کا تعین درپیش ہو تو اس کے لیے ہمیں لا محالہ رضی ٹھاہ کو ہی معیار ٹھہرانا ہوگا۔ ان کا یہ شعر دیکھیے :

اتنے خوش کیوں ہو رضی ٹھاہ
کرلیا ہے کیا اک اور ویاہ؟

Read more

غالب کے خطوطِ جدید: مولوی خادم حسین کے نام

میرے دل کے چین مولوی خادم حسین!

بارے خبر تمہارے پکڑے جانے کی ہوئی۔ طبیعت بوجھل اور دل بے چین ہے۔ رہ رہ کے خیال آتا ہے کہ سرکاری ہرکارے کیسے تمہاری شیریں مقالی سے فیض پائیں گے۔ تم کو بولنے کی عادتِ بد ہے۔ ان کو مار پیٹ کی خُو۔
؎ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

شتابی میں تمہارا تکیہ کلام یاد آیا۔ ابلیس نے بہکایا کہ دوانے کو اس سے بدل دو۔ قلم کو لگام ڈالی۔ تمہارا جملہ کانوں میں گونجا۔ کیا پوچھتے ہو؟ کون سا جملہ؟ ارے بھئی وہی ”لو آیا جے فیر غوری! “۔ سچ کہیں تو تم بھی بادشہ سے کم نہیں۔ دربار سجاتے ہو۔ جانثار رکھتے ہو۔ طبیعت استوار ہو تو خلعتیں بانٹتے ہو۔ مزاج برہم ہو تو سر قلم کراتے ہو۔ اقبال لاہوری کے اشعار پڑھتے ہو۔ جنّوں کی حکایات سناتے ہو۔ کیسے دوست ہو کہ ایک آدھ دانہ ہمارے تصرّف میں نہ دیا۔ جنّ میسر ہوجائے تو کچھ پینے کی سبیل بنے۔ یہ ممکن نہ ہو تو پری سے بھی کام چل جاوے گا۔

Read more

باس کا المیہ

کہانی میں ہیرو اتنا ضروری نہیں جتنا ولن ضروری ہے۔ فلموں کو دیکھ لیں جس فلم کا ولن بمباٹ ہو فلم بھی سپر ہٹ ہوتی ہے۔ مشہور ولن حضرات میں ایک عادت مشترک ہے کہ سبھی احباب وفاداری کو خاص اہمیّت دیتے ہیں۔ شاید غالب کے طرفدار ہیں کہ وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے۔ وفاداری کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ بندہ طاقتور اور بالکل احمق ہو۔ سوچنے والے اور ذہین لوگ ولن حضرات کو بالکل پسند نہیں ہوتے اور وہ ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مبادا کسی دن انہیں کا بولو رام کرکے ان کی جگہ باس بن جائیں۔ باس کا المیہ ہے کہ اس کے پاس آگے جانے کی گنجائش نہیں ہوتی، صرف پیچھے یا اوپر جاسکتا ہے۔

Read more

عالمِ بے بدل مولانا طارق جمیل

جناح کالونی فیصل آبادکی ہوزری مارکیٹ کے دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد واقع ہے۔ ہم نے ناظرہ قرآن مجید وہیں سے پڑھا۔ دوسرے بازار کے کونے پر ہماری ہوزری کی دکان تھی۔ سکول سے واپس آکر ہم گھر نہیں جاتے تھے بلکہ سپارہ پڑھنے بخاری مسجد چلے جاتے۔ عصر کی اذان کے ساتھ چھٹی ہوتی۔ دکان پر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرتے۔ اسی اثنا میں مغرب کا وقت ہوجاتا۔ اس وقت تک ہم کافی ہوم سِک محسوس کرنا شروع کردیتے تھے۔

دیکھیے، امی تو بندہ بوڑھا ہوجائے تب بھی یاد آتی ہیں تو اس وقت ہم بالکل چوتھی جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے تھے۔ خیر۔ بخاری مسجد دیوبندی مسلک کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔ جہاد زوروں پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر سفید، سیاہ جھنڈے والے پوسٹر اکثر لگے ہوتے جن میں کسی جہادی جلسے اور اس میں عظیم مجاہدین کی شرکت کی خبریں ہوا کرتیں۔ بخاری مسجد میں لیکن ایسا جلسہ کبھی نہیں ہوا۔ وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ تجارت اور کاروبار کا کوئی مذہب، مسلک اور قومیت نہیں ہوتی۔ جس مرغی سے چندے، عطیات کے سونے کے انڈے ملتے ہوں اس کو کوئی عالم کیسے ذبح کرسکتا ہے؟

Read more

سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔

اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، ”پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔ اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔ “ یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔

Read more

ہیرو ہیروئن کا ناک نقشہ: ایک ادبی و تحقیقی مقالہ

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے، ورنہ بے ادبی فروغ پاتی جائےگی جو بنیادی اخلاقیات کے لئے سخت ضرر رساں ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے اس میدان میں پاؤں دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر…

Read more

حسین ایثار کا انٹرویو

پروگرام میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمان مقبول کالم نویس، ڈرامہ نگار، شاعر اور دانشور جناب حسین ایثار ہیں۔ جن کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نام حسین ایثار ہے! ۔

جی۔ ایثار صاحب۔ کچھ اپنے بارے بتائیے۔

میں۔ (سگریٹ کا طویل کش لے کر خلاؤں میں گھورتے ہوئے ایک لمبا وقفہ ) میرا تعلق لائل پور سے ہے۔ انتہائی پیارا، دلآویز، حسیں، دلنشیں، دلدار، جان من شہر تھا۔ اب تو اس شہر کےنام سے جغرافیہ تک سب بدل گیا ہے۔ ڈھیٹ، بے حیا، غلیظ، منافق، واہیات، بے ہودہ، بدتمیز (منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے) ہوچکا ہے اب یہ شہر۔ ۔ میں تو۔

Read more

جارج گھسیٹے خاں آنجہانی، عارف بے ریا اور یک گونہ بے خودی

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔ خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک…

Read more