رانا، مولانا اور آزادی مارچ

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی ہوئی ہیں۔ یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے…

Read more

حویلی کی چوتھی منزل کر لیں

چھیما ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ پِنڈ کی حد شروع ہونے میں دو پیلیاں باقی تھیں کہ اس نے بَنتو کو آتے دیکھا۔ بَنتو چودھری زوار کی حویلی میں چودھرانی کی خاص تھی۔ چھیما یوں تو وڈھیری عمر کا تھا لیکن خوب کس کے بچے کچھے بال کالے کرتا اور طیفے نائی سے شیو…

Read more

ٹویٹو سلطان کی ڈائری

زوجۂ اقدس نے جھنجھوڑ کر جگایا تو ابھی صرف 11 بجے تھے۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کھڑکی سے آنے والی دھوپ نے ناکام کی تو سائیڈ ٹیبل سے کالا چشمہ اٹھایا اور آنکھوں پر جما کر غور سے زوجۂ اقدس کو دیکھا۔ وہ اتنے میں ہی خوش ہو گئیں اور میرے فون کی طرف ہاتھ…

Read more

مونٹانا کا کیبن اور خلائی مخلوق

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر ہے۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی ”ایلیزئین فیلڈز“ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔

Read more

ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات۔ ہیہات۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ! ہیہات۔ ہیہات۔

مضمون کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔ بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔ درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔ آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب کو دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

یوٹوپیا نے کیسے ترقی کی؟

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یک دم کسی نے صور پھونک دیا ہو یا جادو کے زور سے سب غائب ہوگئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال، عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تاتھا۔ آوارہ جانور ہر طرف مٹر گشت کرتے نظر آتے۔

ویرانی دیکھ کر اکا دکا جنگلی جانور بھی شہر کے مضافات سے آگئے تھے۔ رات ہونے کو تھی۔ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ سفید گھوڑے پر سوار ایک شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا دُرّہ تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں رک کر وہ گھوڑے سے اترا۔ دُرّہ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ٹریفک سگنل پر مارا اور کہا، میں نے کہا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب بھی اگر کوئی کہیں چھپا ہے تو ظاہر ہو کر حساب دے ورنہ اس کا انجام بھی باقی سب جیسا ہوگا۔

Read more

مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا

عرش سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔ حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔ ربع صدی ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا، تشریف ابّا…

Read more

ظفر کمال اور ڈولی

آپ ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔ یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔

ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔

Read more

اسد عمر: اصل سازش بے نقاب

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہو چکا ہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ…

Read more

بادشاہ اور رس گُلّے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سے جھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک رس گُلّا ملتا۔

رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی۔ رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔ چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔

Read more