دوسرا پیگ

آپ مانگا منڈی چلے جائیں۔ آپ ٹنڈو جام چلے جائیں۔ آپ سبّی، لکّی مروت، چونیاں، لورا لائی، تخت بھائی، ٹھٹّھہ، مٹیاری الغرض کہیں بھی چلے جائیں۔ آپ کو لوگ شرابیں پیتے ملیں گے۔ یہ دیسی بھی پیتے ہیں۔ یہ کھانسی کے شربت بھی پی جاتے ہیں۔ یہ ولایتی بھی چڑھا جاتے ہیں۔ یہ پونڈے بھی پی جاتے ہیں۔ یہ زہریلی شرابیں بھی پی جاتے ہیں۔ پھر مر بھی جاتے ہیں۔ مگر یہ شرابیں چھوڑتے نہیں۔ یہ جب پینا شروع کرتے

Read more

جہانگیر ترین کی روحانی عظمتیں

پانامہ کا معاملہ اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔ میاں نواز شریف اپنی سیاسی بقا کے لیے آخری حد تک جا چکے ہیں۔ ان کے پاس جو تُرپ کا پتّہ تھا وہ کھیلا جا چکا ہے۔ اب صرف اس کے نتائج و عواقب کا انتظار ہے۔ اس معاملے کی تفصیل سے پہلے ایک کہانی سن لیجیے۔ سترہویں صدی عیسوی کے اختتام کا ذکر ہے۔ شمالی ہندوستان کے ایک غیرمعروف قصبے میں ایک پختون خاندان آباد تھا۔ گھر میں

Read more

کسی کو نہیں چھوڑوں گا

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یک دم کسی نے صور پھونک دیا ہو یا جادو کے زور سے سب غائب ہو گئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال، عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تا تھا۔ آوارہ جانور ہر

Read more

آخری معرکہ

ممثل بے بدل پنکج ترپاٹھی نے کہا تھا۔ ”گاؤ بھوس٭٭ کے“ ۔ وقت آن لگا ہے، کپتان ہم سے کہے۔ ”اٹھو۔ بھوس٭٭ کے“ ارمان مسلے جاتے ہیں۔ خواہشیں حسرت بن جاتی ہیں۔ جس کے ساتھ مل کر بچوں کے نام سوچے جاتے ہیں وہ کسی عبداللطیف کی چوکڑی کو جنم دے رہی ہوتی ہے۔ یہی دنیا ہے۔ یہی مایا۔ کار ناکام ہے یہ۔ کار ناکام۔ یک سال ادھر سب کچھ کہ ہنکی ڈوری تھا۔ فضائیں مشکبو۔ پسینے گلاب۔ دن کو

Read more

لیجنڈ آف رولا جٹ

کائنات کی وسعت تخیل کی حدود سے ماورا ہے۔ عام ذہن اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ کوانٹم فزکس کی رو سے بہت سی دنیائیں وجود رکھتی ہیں جن میں ہر طرح کے ممکنات ہیں۔ روحانیت واحد رستہ ہے جس کے ذریعے ان دنیاؤں تک رسائی ممکن ہے۔ اس درجے تک پہنچنا بہت کٹھن ریاضت کا متقاضی ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس رستے کے ذریعے مختلف دنیاؤں میں سفر کر کے وہاں کی خبریں لا

Read more

گوگی اور جوگی

میدان سے سطح مرتفع ہونے والی عمر سے گوگی جس کے عشق میں مبتلا تھی اب وہ دیوتا اس کی دسترس میں تھا۔ شاعر نے کہا تھا ”قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا“ مگر گوگی کے پھیروں نے بالآخر عرفان کے دل میں وہ بھانبھڑ مچا دیا تھا جو گوگی کا تن بدن اوائل شباب سے جھلسا رہا تھا۔ گوگی کار سے اتری۔ اک ادائے بے نیازی سے عرفان کی طرف دیکھا جو مبہوت گوگی کی سلیولیس

Read more

صدام، اسلام اور کپتان

‏لڑکپن کے اختتام کا قصہ ہے۔ برسات کی حبس زدہ شام پی ٹی وی کے خصوصی بلیٹن میں بتایا گیا کہ عراق نے کویت پر فوج کشی کر کے قبضہ کر لیا ہے۔ ہمیں سمجھ تو نہیں آئی لیکن ایسا محسوس ضرور ہوا کہ یہ کچھ بہت غلط ہو گیا ہے۔ پاکستانی سیاست میں وہ برسات کافی ہنگامہ خیز تھی۔ بے نظیر کی پہلی حکومت ختم ہوئی۔ انتخابات میں اس وقت کی پی ٹی آئی جتوائی گئی۔ لیکن بڑا عہدہ

Read more

نیوڈ پریاں

میں جب بھی ٹینشن کا شکار ہوتا ہوں۔ ڈپریشن میرا میٹر گھمانے لگتا ہے۔ میرے دماغی پرزے ورک فٹیگ سے ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں۔ میری شوگر ہائی اور وائٹیلٹی لو ہونے لگتی ہے تو میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بیرون ملک ٹور پر نکل جاتا ہوں۔ یہ نسخہ مجھے میرے مرشد نے عنایت کیا تھا۔ یہ کہتے ہیں کہ جب بھی زندگی میں آپ ڈاؤن فیل کرنے لگیں، آپ کی قوت کم ہونے لگے، آپ کی صلاحیتیں سلاجیت مانگنے

Read more

نی میں جانڑاں گوگی دے نال

نی میں جانڑاں جوگی دے نال۔ نصرت کی آواز سوزوکی ایف ایکس میں گونج رہی تھی۔ عرفان اکرم نے پکے سغٹ کا آخری کش لیا تو فلٹر کا ذائقہ آنے لگا تھا۔ اس نے آخ تھو کر کے تھوک اور سغٹ باہر پھینکا۔ سغٹ تو سڑک پر گرا اور تھوک سیونٹی والے کے منہ پر۔ سیونٹی والے نے عرفان کے شجرے میں چرند پرند شامل کرتے ہوئے موٹر سائیکل عرفان کی ایف ایکس کے پیچھے لگا دی۔ عرفان کو کھڑک

Read more

کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی

کسی دن بنوں گی میں راجہ کی رانی۔ ذرا پھر سے کہنا۔ گرمیوں کی سہ پہر گلزار پان شاپ کے ڈیک سے یہ آواز آئی تو گوگی کے دل میں پھر وہی طوفان ابھرا جو پہلی دفعہ خواب میں یہ گانا دیکھ کر ابھرا تھا۔ گوگی کو اچھی طرح یاد تھا کہ میٹرک کے بورڈ کے پرچے تھے اور مطالعۂ پاکستان کے پرچے والی رات پہلی دفعہ اس کو یہ خواب آیا تھا۔ پیر سوہاوہ کی پہاڑیوں کا منظر تھا۔

Read more

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔ زوجہ کو جگا کر وظایف ضروریہ ادا کیے۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔ احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔ نہ نماز نہ روزہ۔ غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کر کے تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا سا ناشتہ

Read more

اک ذرا صبر کہ۔ ۔ ۔

”اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے ہوتے ہیں، اہرام مصر مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پا سکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں

Read more

داستان افغان فروشوں کی

جاڑے کی گلابی سہ پہر ماضی کی یادیں یوں یلغار کرتی ہیں جیسے صاحبقراں امیر تیمور کے لشکر غنیم کو تہہ تیغ کرنے بڑھے آتے ہوں۔ وائے افسوس۔ کیسے گہر تھے جو خاک میں مل گئے۔ کیسی ذہانتیں تھیں جو ستائش کی تمنا سے ماورا غیاب و خاموشی میں وطن پر قربان ہو گئیں۔ نصف صدی ادھر، جاڑے کے یہی دن۔ فقیر مشروب کی تلاش میں سرگرداں۔ جارج گھسیٹے خاں مگر، جیسز کرائسٹ ان کے کیسکٹ کو نور سے بھر

Read more

صحت کا انصاف

برنارڈ شاہ فلسفی، شاعر، ڈرامہ نگار، سائنسدان، طبیب اور ادیب تھے۔ یہ انگلینڈ کے رہنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ انگلینڈ میں ایک بادشاہ تو تاج و تخت والا ہے اور دوسرا برنارڈ شاہ۔ ان کے نام کے ساتھ ’شاہ‘ عوام نے اپنی طرف سے لگایا۔ شاہ جی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ انسان کا جسم کمزور ہو تو اس کا دماغ بھی کمزور ہوتا ہے۔ ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو چینی اور گھی جیسی چیزیں استعمال

Read more

دنیا کے فیصلے

برنارڈ شاہ فلسفی، شاعر، ڈرامہ نگار، سائنسدان، طبیب اور ادیب تھے۔ یہ انگلینڈ کے رہنے والے تھے۔ کہتے ہیں کہ انگلینڈ میں ایک بادشاہ تو تاج و تخت والا ہے اور دوسرا برنارڈ شاہ۔ ان کے نام کے ساتھ ’شاہ‘ عوام نے اپنی طرف سے لگایا۔ شاہ جی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ انسان کا جسم کمزور ہو تو اس کا دماغ بھی کمزور ہوتا ہے۔ ایسی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو چینی اور گھی جیسی چیزیں استعمال

Read more

اچھی فلم کیسے بنائیں؟

برصغیر پاک و ہند کے غیور لوگ یا تو فلموں کے شائق ہوتے ہیں یا خود چھوٹی موٹی فلم ہوتے ہیں۔ اچھے زمانوں میں فلم بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا تھا۔ ایک خوبرو، تندرست عفیفہ، ڈاڑھی مونچھ منڈا ایک لمڈا اور پوری دنیا پر حکومت کرنے کے منصوبے بنانے والا ایک عجیب الخلقت ڈان۔ یہ تین چیزیں لے کر ان میں عفیفہ کی غربت، لمڈے کی خودداری اور ڈان کی بے غیرتی شامل کردی جاتی تھی۔ حسب خواہ شائقین

Read more

کھوتا پلی پر اجنبی

تنہا سفر کرنا ہمارے لیے کبھی کوئی ایسا خوشگوار کام نہیں رہا۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ سفر کے آغاز میں ہی سوجائیں اور آنکھ کھلے تو منزل مراد شاد باد آچکی ہو۔ سفر کی نیند بھی بہرحال خواب میں کروڑ پتی ہونے والا حساب ہے ؛آنکھ کھلنے پر بندہ وہی کا وہی اور وہیں کا وہیں ہوتا ہے۔ خیر۔ آج ہم آپ کو ایک حالیہ سفر کا قصّہ سنانے جارہے ہیں۔ فیصل آباد سے ایشیا کے صاف اور خوبصورت

Read more

پنڈت جی سفر کی کنڈلی بنانا بھول گئے۔۔۔

پنڈت جی سُرور اور مدہوشی کی درمیانی حالت میں تھے۔ اگرچہ ہیں تو وہ یوپی کے ٹھاکر اورمشہور غازی آباد ڈسٹرکٹ سے ان کا تعلق ہے لیکن ہم انہیں پنڈت جی ہی کہتے ہیں اور بظاہر انہیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں بلکہ ہمیں تو لگتا ہے کہ وہ اندر ہی اندر خوشی بھی محسوس کرتے ہیں۔ شاید ایک درجہ ترقی پانا سبھی کو بھلا لگتا ہے۔ ان سے ہماری ملاقات ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ہماری چوپال

Read more

مفتیان کرام اور مشائخ عظام کی حمایت میں۔ *کپتان، جوش اور فرائڈ٭

جبلت سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں۔ روح پر گرانی لاد لیتے ہیں۔ خود کو ہم کوستے ہیں اور اس پر تقلید کے خوگر مذہب کے سوداگر جو زیست کو عذاب بنانے پر تلے ہیں۔ مرد آزاد فرائڈ البتہ حقیقت پا گیا تھا۔

Read more

اتنے کم ظرف نہیں ہم جو بہکتے جاویں

نوٹس بورڈ پر کلاس روم اور لیکچرر کا نام تلاش کرتے ہوئے نظر، رستم علی ضیاء، پر پڑی تو پہلا خیال جو ذہن میں آیا وہ ایک لمبے تڑنگے، دس بج کے دس منٹ والی مونچھوں اور مصطفی قریشی جیسی آواز والی دبنگ شخصیت کا تھا۔ کلاس روم ڈھونڈتے ہوئے نئے بلاک کے ایک کمرے میں پہنچے تو پینتیس چالیس، انواع و اقسام کے لڑکے بالے پہلے سے موجود تھے۔ ہم بھی دم سادھ کے حسب معمول و عادت، پچھلے بنچوں پر جا کر تشریف فرما ہو گئے۔ کچھ توقف کے بعد خاموشی سی چھا گئی اور منمناتی ہوئی سی ایک آواز سنائی دینے لگی۔ آواز کا مخرج البتہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ تھوڑا تردد کیا اور ذرا اچک کر دیکھا تو ایک منحنی سے معنک صاحب، جو ٹنڈولکر کے ہم قد تھے، پروفیسرانہ مونچھیں اور صورت پر ثقلین مشتاق جیسی معصومیت لیے کچھ کہہ رہے تھے۔ ہم نے آخری بنچ کو چھوڑ کے دو بنچ آگے ہجرت کی تو آواز کچھ واضح ہوئی۔ وہ اپنا تعارف کرا رہے تھے اور وہی روایتی باتیں کر رہے تھے جو استاد پہلے دن اپنے طلباء سے کرتے ہیں۔ ہمیں بہرحال، رستم علی ضیاء، اچھے لگے۔

Read more

کلبھوشن جادھو اور انصاف کا ترازو

یہ اکابرین ملت اور بزرگان دین کا عکس ہیں۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزق حلال پر بیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ شہسوار ہے جس کا ملت اسلامیہ کو انتظار ہے۔ یہ سیاست میں آ گئے۔ انہوں نے 22 سال سٹرگل کی۔ یہ آخر کار کامیاب ہو گئے۔ ان کی کامیابی کی داستان کسی ہالی ووڈ بلاک بسٹر سے کم نہیں۔ یہ داستان کسی اور وقت بیان کی جائے گی۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ کیسے اپنے وعدے پورے کرتے ہیں۔

کچھ سال پہلے ازلی دشمن انڈیا کا ایک جاسوس کلبھوشن جادھو بلوچستان سے پکڑا گیا۔ یہ بہت ظالم اور مکار تھا۔ یہ وطن پاک میں دہشت گردی کراتا تھا۔ یہ معصوم پاکستانیوں کو قتل کر دیتا تھا۔ یہ دھماکے کر کے پل اور تنصیبات تباہ کر دیتا تھا۔ بہت جدوجہد کے بعد اس کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے بعد وہ ہوا جو نہایت دردناک ہے

Read more

شطرنج کے کھلاڑی

ماہا گلریز نے ادائے بے نیازی سے سنہری بال جھٹکے اور نئے ماڈل کی سیاہ آؤڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ کیمبرج کا موسم خون جما دینے والا تھا۔ نیلی جینز، کالی ٹرٹل نیک اور ڈارک براؤن اوور کوٹ میں ملبوس ماہا گلریز، حسن کا آخری سٹاپ لگ رہی تھی۔ سرخ و سفید رنگت، شہد جیسے بال، نیلی آنکھیں، ستواں ناک، ترشے ہوئے بھرے بھرے ہونٹ۔

ماہا کا آج ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ وہ سرکاری سکالر شپ پر ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوئی۔ اس کے ابا گلریز جیلانی بہت اہم اور طاقتور شخصیت تھے۔ ماہا کی ابتدائی تعلیم کانونٹ میں ہوئی۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئی ماہا آج دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے میں پہنچی تھی۔ ماہا کا نصابی اور غیر نصابی ریکارڈ شاندار تھا۔ ٹینس کی بہترین کھلاڑی ہونے کے علاوہ اسے گانے سے دلچسپی تھی۔ وہ جب لمز میں پڑھتی تھی تو ایک میوزک بینڈ کی لیڈ سنگر بھی تھی۔ بینڈ کا نام ”ٹوائیلائٹ ریوولیوشن“ تھا۔ اس بینڈ کے تین چار گانے بہت مشہور ہوئے۔ فارم ہاؤسز کی پارٹیز میں اکثر ڈی جے وہی گانے چلاتے تھے۔

Read more

سلطان کا آخری ٹل

آپ سلطان کو دیکھ لیں۔ یہ بانسانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نمبردار کے منشی تھے۔ یہ بہن بھائیوں میں وچکارلے (بیچ والے ) تھے۔ یہ بچپن سے ہی کھیل کود کے شوقین تھے۔ ان کی والدہ سے روایت ہے کہ قبل از پیدائش بھی کافی اودھم مچاتے تھے۔ بانسانوالہ کی گردونواح میں وہی اہمیت تھی جو پارٹیشن سے پہلے علی گڑھ کی یو پی میں تھی۔ ان کے والد اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ سلطان کی ابتدائی تعلیم نمبردار کے ڈیرے پر ہوئی۔ جہاں یہ والد کے ساتھ جاتے تھے کیونکہ یہ گھر میں سب کا جینا حرام کیے رکھتے تھے۔

نمبردار کے ڈیرے سے ہی ان کو گلی ڈنڈا کھیلنے کا شوق ہوا۔ یہ ابا جی کی نظر بچا کر ڈیرے سے بھاگ جاتے۔ یہ فرینڈز کے ساتھ آوارہ گردی کرتے۔ یہ ٹیوب ویل پر نہاتے۔ یہ گنے توڑتے (کھیتوں سے ) ۔ بڑے لڑکوں کو گلی ڈنڈا کھیلتے دیکھ کر ان کو بھی کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ نیامت ورک، جو گلی ڈنڈے کا ماہر کھلاڑی تھا، سے دوستی گانٹھ کر سلطان بھی بڑے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے لگے۔ یہ پیدائشی کھلاڑی نکلے۔ ان کا ٹل ایسا جاندار ہوتا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرتا۔

Read more

گجر، ملک اور زہریہ ٹاؤن

آپ قدرت جاوید کو دیکھ لیں۔ آپ امجد کامرانی کو دیکھ لیں۔ آپ رفعت حسین کو دیکھ لیں۔ آپ سمیع اللہ خان کو دیکھ لیں۔ یہ خود کو پھنے خاں سمجھتے تھے۔ یہ کہتے تھے ہم اصلی صحافی ہیں۔ یہ لوگوں سے بدتمیزیاں کرتے تھے۔ یہ الٹے سیدھے سوال پوچھتے تھے۔ یہ روڈ بھی تھے اور ایروگنٹ بھی۔ یہ سیلف رائیچیس بھی تھے اور ان کمپیٹنٹ بھی۔ یہ نیوز پیپرز میں کالم بھی لکھتے تھے۔ یہ چینلز پر ٹاک شو بھی کرتے تھے۔ کوئی ان کے کالم ریڈ نہیں کرتا تھا۔ ان کے شوز کی ریٹنگ بھی پوور ہوتی تھی۔ مگر یہ سیلف کرئیٹڈ ہائیپ کی وجہ سے بڑے صحافی کہلاتے تھے۔ آج یہ یو ٹیوب پر سفر کرتے ہیں۔ کوئی نیوز پیپر ان کو پبلش کرنے پر تیار نہیں۔ یہ چینلز کے ترلے کرتے ہیں۔ یہ اپنا شو چلوانا چاہتے ہیں۔ چینلز والے ان کو گراس نہیں ڈالتے۔ یہ بٹر ہو چکے ہیں۔ یہ کانسپریسی تھیوریز بناتے ہیں۔ یہ اداروں کے اگینسٹ نیریٹو بناتے ہیں۔ یہ اینیمز کے ہاتھوں میں پلے ہو رہے ہیں۔

Read more

پابی کی ڈائری

تہجد کی ادائیگی کے دوران آنکھ لگ گئی۔ کشف کا وقت تھا۔ خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ اردوان پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ہوائی مستقر پر گارڈ آف آنر کے بعد انہوں نے گھٹنوں کے بل جھک کر خاں صاحب کی بیعت کی اور اعلان کیا کہ آج سے پاکستان کے سارے قرضے ترکی کے ہوئے اور ترکی کے سارے وسائل پاکستان کے۔ اردوان نے نم آنکھوں اور رندھی آواز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد آج کا دن امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا دن ہے۔ آج سے میں نیازی خلافت کی شروعات کا اعلان کرتا ہوں۔ خاں صاحب ہی وہ بطل جلیل ہیں جن کا وعدہ حضرت اوریا مقبول جان کے پیش گوئیوں والے بزرگ ذکر کرتے رہے ہیں۔ اردوان 8 فٹ کی تلوار اور لعل و گہر جڑا تاج لے کر خاں صاحب کی طرف بڑھ رہے تھے کہ کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا۔ دیکھا تو خاں صاحب جناح کیپ، تہبند اور کرتے میں ملبوس مجھے جگا رہے تھے۔ ”اٹھ جاؤ! فجر کا وقت ہو گیا ہے۔“

Read more

چھترول بھی نعمت ہوتی ہے

آپ گامے بھیڈ کو دیکھ لیں۔ اس کو پولیس نے ڈکیتی کے جھوٹے الزام میں پکڑا اور مار مار کر ’بھیڈ‘ سے دنبہ بنا دیا۔ لیکن اس چھترول نے گامے کی زندگی بدل دی۔ آپ حیران ہوں گے کہ چھترول سے تو زیادہ سے زیادہ سونے کا آسن بدلتا ہے، زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟ لیکن گامے کی زندگی پر چھترول نے جو دور رس اثرات مرتب کیے اس کا ذکر آگے آئے گا۔

Read more

جعفر حسین آپ کو سلام کہتا ہے، سر جی

یہ 90 کی دہائی کے اوائل کا قصہ ہے۔ پرانا دور ہمیشہ سادہ اور اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت تک ہم دنیا کو اس طرح نہیں جانتے جیسی وہ ہے۔ یہ تو وقت جب گزرتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وقت ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، انسان اور رویے اچھے نہیں ہوتے۔ یہ گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ لائلپور کا قصہ ہے۔ ان دنوں سردیوں میں اردو، انگریزی، اسلامیات وغیرہ کی کلاسز کمروں سے نکل کر باغیچوں میں منتقل ہوجاتی تھیں۔ کالج میں ہاکی، فٹبال اور کرکٹ کے الگ الگ میدان تھے۔ اردو اور انگریزی کی کلاس اکثر لائبریری کے سامنے والے باغیچے میں ہوتی تھی جس کے ساتھ ہی ہاکی کا میدان تھا۔

یہ سرما کی نرم دھوپ والا دن تھا۔ فرسٹ ائر کے رنگروٹوں کی بڑی تعداد اردو کی کلاس میں انہماک سے بیٹھی ہاکی کا میچ دیکھ رہی تھی۔ کرسی پر براجمان جوان العمر، نرم نقوش اور خوش پوش لیکچرار میرؔ کی غزل پڑھاتے ہوئے، ”تھا عشق مجھے طالب دیدار ہوا میں“ تک پہنچے تو رک گئے۔ اور سامنے بیٹھے ہونق بچوں سے دریافت کیا کہ وہ سامنے پگڈنڈی پر جو صاحب آرہے ہیں، کیا کوئی ان کو جانتا ہے؟ ان کا اشارہ چھوٹا سا چرمی بیگ بغل میں دبائے تیز تیز قدموں سے چلتے ادھیڑ عمر فرد کی طرف تھا۔ بھولی سی صورت والے ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ استاد خوش ہو کر بولے، ہاں بھئی بتائیں، کون ہیں یہ؟ وہ ناہنجار اپنی لائلپوری پنجابی میں بولا، ”سرجی، اے کوئی گولیاں ٹافیاں ویچن آلے نیں۔“ (سر جی یہ کوئی گولیاں ٹافیاں بیچنے والے ہیں )

Read more

باپ سروں کے تاج محمد

نئے جوتے، کپڑے پہنے، عطر لگائے، بے دلی سے ’سیویاں‘ (جسے اب شیر خورما کہتے ہیں) کھاتے ہوئے، ابو کہتے کہ جلدی کرو بھئی، نماز کا وقت نہ نکل جائے۔ ان کو میٹھا پسند تھا، ہمیں بھی تھا؛ ہر لائلپوری کو ہوتاہے، لیکن سیویاں کبھی پسند نہیں آئیں۔ ان کو کھانا مشکل اور اس سے مشکل نئے کپڑے بچانا ہوتا تھا۔ عید کے جوڑے پر صبح ہی سیویاں گر جائیں تو سارا دن نئے کپڑوں کی شو کیسے ماری جاتی؟ دل چاہتا کہ انڈا پراٹھا کھائیں لیکن ابو کا اصرار ہوتا کہ عید کی نماز سے پہلے میٹھا کھانا سنت ہے۔ نماز سے واپسی پر پوڑیاں کھائیں گے۔

Read more

کپتان، پاسبان اور صنم خانہ

صاحبقراں امیر تیمور کہ چنگیزی خون تھے، اولیاء کی نظر کرم ہوئی، دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔ انسان کا دل کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔ ۔ ۔

چار برس ادھر، بہار کے دن تھے۔ فضا مشکبار، ہوا مشکبو۔ کپتان کے پاس طالبعلم حاضر ہوا۔ دو وقت مل رہے تھے۔ خادم نے انتظار کرنے کا کہا۔ طبیعت کی بے چینی کا مگر کیا کریں۔ بے اختیار ہو کر اٹھا اور مرغزار کی پچھلی سمت جا نکلا۔ کپتان کہ تالاب کنارے گھاس کے فرش کو جاء نماز بنائے گڑگڑا رہا تھا۔ ”مولا! اس کا دل بدل دے۔ مولا! اس کا دل بدل دے“ ۔ چشم اشک بار۔ ہچکی بندھی ہوئی۔ فقیر نے کہ زندگی میں بہت تغیر دیکھے، ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر کہ ملائک تاب نہ لا سکیں۔

دعا سے فراغت ہوئی تو طالبعلم پر نظر پڑی۔ رخ کپتانؒ متغیر ہوا۔ صوفی کہ جلالی ہوتا ہے یا جمالی۔ کپتانؒ میں دونوں صفات یکجا۔ جلال سے فقیر کی طرف دیکھا، بے ساختہ دہن مبارک سے نکلا، ”تیری میں۔ ۔ ۔“ ۔ فقیر کہ سدا کا کائیاں، نظر انداز کیا۔ محبوب کی توجہ ہی محب کا ایمان ہے۔ مرزا یاد آئے۔ کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ۔ ۔ ۔

Read more

حاجی صاحب

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔ ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آ ٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔ بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریباً دس سال بعد ملے۔ دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

Read more

جولائی میں دھلائی

دسمبر میں اٹھنے والے درد بارے ہم نے کچھ عرصہ پہلے روشنی ڈالی تھی۔ جس میں ان تکالیف کا کماحقہ جائزہ لیا گیا تھا جو دسمبر میں دردیلی شاعری اور رومانٹک ناسٹلجیا کا باعث بنتی ہیں۔ یہ وجوہات اگر بالکل درست نہ بھی ہوں تو پھر بھی کسی نہ کسی درجے پر ان کو حق بجانب سمجھا جا سکتا ہے۔ دسمبر تو تک بات قابل برداشت تھی لیکن ہم نے کچھ ایسی شاعری بھی دیکھی جس میں جولائی کو بھی

Read more

 کیا حکومت نے سارے وعدے پورے نہیں کر دیے؟

منشور بلا فصل

روزگار کی یقینی فراہمی

اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ ایک مومن 70 کفار پر بھاری ہوتا ہے تو ایک کروڑ مومنین کی نیٹ پاور ستر کروڑ کافروں کے برابر ہوگی۔ ان سے جو کام لیا جائے گا وہ بھی دور جدید کا ایک سائنسی /ایمانی معجزہ ہوگا۔ یہ سب ملازمین مل کر پاکستان کو دھکا لگائیں گے اور کینیڈا کے پاس لے جائیں گے۔ ہمارے سائنسی ماہرین کے مطابق اس کام میں تقریباً سترہ گھنٹے، چون منٹ اور بتیس سیکنڈ لگیں گے۔ دو سے تین سیکنڈز کا فرق پڑ سکتا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں میں خلافت

آئن سٹائن نے 1905 میں نظریۂ اضافت پیش کیا۔ اس کے ٹھیک دس برس بعد اسی سے متعلقہ ورم ہول (Wormhole) نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کے مطابق کائنات میں ایک شارٹ کٹ تشکیل پاتا ہے جس کے ذریعے زمان و مکان کی حدیں توڑ کر وقت یا سپیس میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ 1997 تک ورم ہول صرف تھیوری کی حد تک ہی تھا۔ عملی طور پر انسان اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔ 1997  میں یونیورسٹی

Read more

عالمِ بے بدل مولانا طارق جمیل

جناح کالونی فیصل آبادکی ہوزری مارکیٹ کے دوسرے اور تیسرے بازار کے عین درمیان بخاری مسجد واقع ہے۔ ہم نے ناظرہ قرآن مجید وہیں سے پڑھا۔ دوسرے بازار کے کونے پر ہماری ہوزری کی دکان تھی۔ سکول سے واپس آکر ہم گھر نہیں جاتے تھے بلکہ سپارہ پڑھنے بخاری مسجد چلے جاتے۔ عصر کی اذان کے ساتھ چھٹی ہوتی۔ دکان پر آکر سکول سے ملا ہوا ہوم ورک کرتے۔ اسی اثنا میں مغرب کا وقت ہوجاتا۔ اس وقت تک ہم کافی ہوم سِک محسوس کرنا شروع کردیتے تھے۔

دیکھیے، امی تو بندہ بوڑھا ہوجائے تب بھی یاد آتی ہیں تو اس وقت ہم بالکل چوتھی جماعت میں پڑھنے والے چھوٹے سے بچے تھے۔ خیر۔ بخاری مسجد دیوبندی مسلک کی مسجد تھی۔ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔ جہاد زوروں پر تھا۔ مسجد کے دروازے پر سفید، سیاہ جھنڈے والے پوسٹر اکثر لگے ہوتے جن میں کسی جہادی جلسے اور اس میں عظیم مجاہدین کی شرکت کی خبریں ہوا کرتیں۔ بخاری مسجد میں لیکن ایسا جلسہ کبھی نہیں ہوا۔ وجہ شاید اس کی یہ ہو کہ تجارت اور کاروبار کا کوئی مذہب، مسلک اور قومیت نہیں ہوتی۔ جس مرغی سے چندے، عطیات کے سونے کے انڈے ملتے ہوں اس کو کوئی عالم کیسے ذبح کرسکتا ہے؟

Read more

ملکہ اور کریلے گوشت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مُلکِ شام سے آگے کسی ملک میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وفات پاگیا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی پیر یا درگاہ نہ تھی جس پر چڑھاوا چڑھانے سے بیٹا ملتا ہو۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی۔ اس کا نام مہرالشگفتہ تھا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد وہ اس ملک کی ملکہ بن گئی۔ ملکہ یوں تو بہت سادہ اور نیک دل تھی لیکن اس کی ایک کمزوری تھی۔ اس کو کریلے گوشت بہت پسند تھے۔ ملکہ کے مرحوم اباجان جب تک زندہ رہے، محل میں کبھی کریلے گوشت نہیں پکے کیونکہ مرحوم بادشاہ کا خیال تھا کہ ”تکّہ و کباب اوّل، کریلے و ٹینڈے آخر“۔

Read more

کپتان کی چوتھی جہت

”اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے ہوتے ہیں، اہرامِ مصر مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو

Read more

چوتھی جہت کی کپتانی سرنگ ، سب بدل دے گی

اس دنیا میں تین جہات ہیں۔ مثلث کے تین کونے ہوتے ہیں، اہرامِ مصر مثلث کی شکل میں ہیں۔ ان کی پراسراریت پر صدیوں کی تہیں جمی ہیں۔ آج تک کوئی جیالوجسٹ یا سائنسدان اس کا بھید نہیں پاسکا۔ برمودا ٹرائی اینگل سے جڑی بے شمار پراسرار کہانیاں ہیں۔ ان پر فلمیں بھی بنیں۔ کہانیاں بھی لکھی گئیں مگر ابھی تک کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کا راز کیا ہے۔ دنیا کے نقشے کو دیکھیں تو

Read more

میرے پاس تم ہو

دارالحکومت میں رات بھیگ چلی تھی۔ شام سے ہونے والی بارش تھم چکی تھی۔ ہڈیوں کا گودا جما دینے والی سرد ہوا نے ہر ذی روح کو پناہ لینے پر مجبور کردیا تھا۔ آوارہ کتے تک نظر نہیں آتے تھے۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر نشئی جن پر سردی گرمی کا اثر نہیں ہوتا تھا وہ بھی آج پناہ اور حرارت کی تلاش میں تھے۔ چائے خانوں اور سُوپ کی ریڑھیوں کے علاوہ کہیں بندہ بشر نظر نہیں آتا تھا۔

Read more

رانا، مولانا اور آزادی مارچ

یہ منظر لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے دارالحکومت بگوٹا کے مضافات میں واقع ایک وسیع فارم ہاؤس کا ہے۔ سوئمنگ پول کے کنارے چھتریوں کے نیچے میزیں انواع و اقسام کے مشروبات سے سجی ہوئی ہیں۔ یہ فارم ہاؤس میڈلین کارٹل کے سربراہ ایل مانچو کا ہے جہاں وہ بیرونِ ملک سے آنے والے خاص مہمانوں کی خاطر تواضع اور بزنس سے جڑے معاملات کو دیکھتا ہے۔ آج یہاں ایک بہت خاص مہمان بہت دور سے آیا ہے۔ اس

Read more

حویلی کی چوتھی منزل کر لیں

چھیما ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ پِنڈ کی حد شروع ہونے میں دو پیلیاں باقی تھیں کہ اس نے بَنتو کو آتے دیکھا۔ بَنتو چودھری زوار کی حویلی میں چودھرانی کی خاص تھی۔ چھیما یوں تو وڈھیری عمر کا تھا لیکن خوب کس کے بچے کچھے بال کالے کرتا اور طیفے نائی سے شیو بھی خوب چھیل چھیل کر کراتا ۔ آنکھوں میں سُرمہ ڈالے ، لاہور بادشاہی مسجد کے نواح سے خریدا گیا عطر لگا کے گھوما کرتا

Read more

ٹویٹو سلطان کی ڈائری

زوجۂ اقدس نے جھنجھوڑ کر جگایا تو ابھی صرف 11 بجے تھے۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کھڑکی سے آنے والی دھوپ نے ناکام کی تو سائیڈ ٹیبل سے کالا چشمہ اٹھایا اور آنکھوں پر جما کر غور سے زوجۂ اقدس کو دیکھا۔ وہ اتنے میں ہی خوش ہو گئیں اور میرے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ہم نے فورا انتباہی کھنگورا مار کر انہیں اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ تِس پر انہوں نے فرمایا۔ جا کے کُرلی

Read more

مونٹانا کا کیبن اور خلائی مخلوق

یہ امریکی ریاست مونٹانا کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع گھنے جنگلات کا منظر ہے۔ انسانی آبادی کی رسائی سے دور اس خوبصورت علاقے میں گھنے جنگلات کے بیچوں بیچ بہت بڑے رقبے پر ایک فارم ہاؤس نما محل واقع ہے۔ پہاڑوں پر جاتی دھوپ شام ڈھلنے کی خبر سنا رہی ہے۔ اس فارم ہاؤس پر غیر معمولی چہل پہل ہے۔ یہ فارم ہاؤس امریکی سیاست کو کنٹرول کرنے والے طاقتور عناصر کی خفیہ ترین سوسائٹی ”ایلیزئین فیلڈز“ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ فارم ہاؤس پر جاری سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی اہم تقریب منعقد ہونے جا رہی ہے۔ افق پر پھیلی سرخی غائب ہوتے ہی سیاہ رنگ کی ایس یو ویز کی آمد شروع ہوگئی جو قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ٹھیک جب آسمان نے سیاہی کی چادر اوڑھی اور ستارے نظر آنے شروع ہوئے تو تقریب کا آغاز ہوا۔

Read more

ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات۔ ہیہات۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ! ہیہات۔ ہیہات۔

مضمون کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔ بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔ درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔ آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب کو دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

یوٹوپیا نے کیسے ترقی کی؟

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یک دم کسی نے صور پھونک دیا ہو یا جادو کے زور سے سب غائب ہوگئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال، عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تاتھا۔ آوارہ جانور ہر طرف مٹر گشت کرتے نظر آتے۔

ویرانی دیکھ کر اکا دکا جنگلی جانور بھی شہر کے مضافات سے آگئے تھے۔ رات ہونے کو تھی۔ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ سفید گھوڑے پر سوار ایک شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا دُرّہ تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں رک کر وہ گھوڑے سے اترا۔ دُرّہ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ٹریفک سگنل پر مارا اور کہا، میں نے کہا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب بھی اگر کوئی کہیں چھپا ہے تو ظاہر ہو کر حساب دے ورنہ اس کا انجام بھی باقی سب جیسا ہوگا۔

Read more

مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا

عرش سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔ حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔ ربع صدی ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا، تشریف ابّا جی خلد آشیانی نے خونم خون کی۔ طیش اور مایوسی۔ کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا

Read more

ظفر کمال اور ڈولی

آپ ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔ یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔

ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔

Read more

اسد عمر: اصل سازش بے نقاب

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہو چکا ہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات سب کی سمجھ میں آنے لگی کہ بہت دیر تک خان کو اسلام آباد سے دور رکھنا ممکن نہیں ہے۔ اس موقع پر ایک

Read more

بادشاہ اور رس گُلّے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سے جھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک رس گُلّا ملتا۔

رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی۔ رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔ چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔

Read more

ٹونی اور جج کی کہانی

اس زمانے میں ڈونگے بونگے سے بہاولنگر تک لاری چلتی تھی جو دن میں دو چکر لگاتی۔ لاری کے ڈرائیورکا نام حاجی رمضان تھا۔ ادھیڑ عمر، مہندی رنگی جماعت کٹ ڈاڑھی، چوخانے کا رومال سر پر بندھا ہوا۔ حاجی نوجوانی سے ہی اس کام میں پڑ گیا تھا۔ دس بارہ سال کنڈکٹری کی۔ پھر استاد مقبول جب بوڑھا ہوگیا تو ایک دن لاری درخت میں دے ماری۔ مالکوں نے حاجی کو ترقی دے کر ڈرائیور بنا دیا۔ حاجی رمضان ڈرائیور بہت زبردست تھا۔ کسی دن دو کی بجائے تین چکر بھی لگا لیتا۔

کبھی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔ لاری میں بندے بھی گنجائش سے تین گنا بٹھاتا۔ عید شبرات پر من مانا کرایہ بھی وصول کرتا۔ ڈیزل، سپیر پارٹس کی مد میں بھی پیسے بناتا۔ مالک بھی خوش اور حاجی کو بھی اچھی آمدنی ہوجاتی۔ پہلے حاجی نے اپنا گھر پکا کیا۔ پھر اپنے والدین کو حج کرایا اور خود بھی حج کیا۔ تین چار پلاٹ بھی خریدے۔ بہنوں کی شادیاں بھی کیں۔

Read more

رزقِ حلال، سلائی مشین اور الحذر

معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟ رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دیے جاسکتے ہیں کرپٹ مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

پون صدی ہوتی ہے۔ لائلپور کہ تَر دماغ و ہنرمند نفوس کا گڑھ ہے، ایک مردِ جفاکش کندھے پر چادریں رکھے گھنٹہ گھر گول چوک میں کھڑا بیچتا تھا۔ پنجاب کے وسط میں موسم کی شدّت۔ الحذر۔ جون، جولائی کی گرمی کہ چیل انڈے چھوڑ دے مگر یہ ہنرمند اپنے کام میں جُتا رہتا۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔ برکت اس کام میں اتنی ہوئی کہ کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا ستارہ مل کا مالک بنا۔

Read more

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، ”سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ “

Read more

ناصرہ فدوی۔ فن اور شخصیت

ادب کے افق پر بہت سے ستارے جھلملاتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی ضیاء سے آسمانِ ادب ہمیشہ منور رہتا ہے۔ فرد کی داخلی حسیّات کو اجتماعی لاشعور کی مابعد الطبیعیات سے ہم آہنگ کرنا ہر کسی کے بس کا نہیں۔ یہ بھاری لکّڑ ہر کوئی نہیں لے سکتا۔ پچھلی چند صدیوں کے اردو ادب میں جو ستارے دائمی نور کا منبع رہے ہیں ان میں جنابِ رضی ٹھاہ کا نامِ نامی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ ہر شے کو ناپنے کا کوئی نہ کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ فاصلے میلوں میں ناپے جاتے ہیں۔ دودھ لٹروں میں اور وزن کیلو میں۔ شاعری ناپنے کا پیمانہ رضی ٹھاہ ہیں۔ کسی بھی شاعر یا شاعری کے مقام کا تعین درپیش ہو تو اس کے لیے ہمیں لا محالہ رضی ٹھاہ کو ہی معیار ٹھہرانا ہوگا۔ ان کا یہ شعر دیکھیے :

اتنے خوش کیوں ہو رضی ٹھاہ
کرلیا ہے کیا اک اور ویاہ؟

Read more

غالب کے خطوطِ جدید: مولوی خادم حسین کے نام

میرے دل کے چین مولوی خادم حسین!

بارے خبر تمہارے پکڑے جانے کی ہوئی۔ طبیعت بوجھل اور دل بے چین ہے۔ رہ رہ کے خیال آتا ہے کہ سرکاری ہرکارے کیسے تمہاری شیریں مقالی سے فیض پائیں گے۔ تم کو بولنے کی عادتِ بد ہے۔ ان کو مار پیٹ کی خُو۔
؎ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

شتابی میں تمہارا تکیہ کلام یاد آیا۔ ابلیس نے بہکایا کہ دوانے کو اس سے بدل دو۔ قلم کو لگام ڈالی۔ تمہارا جملہ کانوں میں گونجا۔ کیا پوچھتے ہو؟ کون سا جملہ؟ ارے بھئی وہی ”لو آیا جے فیر غوری! “۔ سچ کہیں تو تم بھی بادشہ سے کم نہیں۔ دربار سجاتے ہو۔ جانثار رکھتے ہو۔ طبیعت استوار ہو تو خلعتیں بانٹتے ہو۔ مزاج برہم ہو تو سر قلم کراتے ہو۔ اقبال لاہوری کے اشعار پڑھتے ہو۔ جنّوں کی حکایات سناتے ہو۔ کیسے دوست ہو کہ ایک آدھ دانہ ہمارے تصرّف میں نہ دیا۔ جنّ میسر ہوجائے تو کچھ پینے کی سبیل بنے۔ یہ ممکن نہ ہو تو پری سے بھی کام چل جاوے گا۔

Read more

باس کا المیہ

کہانی میں ہیرو اتنا ضروری نہیں جتنا ولن ضروری ہے۔ فلموں کو دیکھ لیں جس فلم کا ولن بمباٹ ہو فلم بھی سپر ہٹ ہوتی ہے۔ مشہور ولن حضرات میں ایک عادت مشترک ہے کہ سبھی احباب وفاداری کو خاص اہمیّت دیتے ہیں۔ شاید غالب کے طرفدار ہیں کہ وفاداری بشرط استواری اصل ایمان ہے۔ وفاداری کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ بندہ طاقتور اور بالکل احمق ہو۔ سوچنے والے اور ذہین لوگ ولن حضرات کو بالکل پسند نہیں ہوتے اور وہ ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ مبادا کسی دن انہیں کا بولو رام کرکے ان کی جگہ باس بن جائیں۔ باس کا المیہ ہے کہ اس کے پاس آگے جانے کی گنجائش نہیں ہوتی، صرف پیچھے یا اوپر جاسکتا ہے۔

Read more

سنیل حسرت کے ساتھ ایک دن

آپ دنیا کا چکر لگا لیں۔ آپ یورپ چلے جائیں۔ امریکہ چلے جائیں۔ روس چلے جائیں۔ برازیل چلے جائیں۔ کولمبیا چلے جائیں۔ نیوزی لینڈ چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پاکستانی مل جائیں گے۔ یہ دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ ذہین ہیں۔ یہ محنتی اور خوش اخلاق ہیں۔ یہ لوگوں کو اپنے اخلاق اور کام سے گرویدہ کر لیتے ہیں۔ بابا جی کی دعا سے میں نے تقریبا ساری دنیا وزٹ کی ہوئی ہے۔ بابا جی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یہ گگّو منڈی کے نواحی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ پرانی جوتیوں، کپڑوں، ٹین ڈبے کے عوض مرونڈا اور لاہوری پُوڑا دیتے تھے۔ یہ بالکل ان پڑھ تھے۔ میں ان سے گگّو منڈی میں ملا جب اپنی کلاس فیلو نسرین کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا تھا۔ وہاں نسرین کے بھائیوں نے مجھے کافی کُوٹا۔

اسی وقت بابا جی اپنی ریڑھی کے ساتھ گلی میں وارد ہوئے۔ انہوں نے مجھے چھڑایا، لہوری پُوڑا اور پانی کا گلاس دیا۔ میرے حواس قائم ہوئے تو بابا جی کہنے لگے، ”پُتّر، تیرے ماتھے پر مجھے حرام لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔ تو بہت ترقی کرے گا۔ اپنی دو خواہشیں بتا، جو تو اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہتا ہے۔ “ یہ حیران کردینے والا واقعہ تھا۔ ابھی بابا جی نے اپنا جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ چاروں طرف سے ہلکے بادل آگئے۔ ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔

Read more

ہیرو ہیروئن کا ناک نقشہ: ایک ادبی و تحقیقی مقالہ

فی زمانہ ادب کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس میدان میں سنجیدگی کے ساتھ تحقیقی، تنقیدی اور تعمیری کام کیا جائے، ورنہ بے ادبی فروغ پاتی جائےگی جو بنیادی اخلاقیات کے لئے سخت ضرر رساں ہے۔ اسی تناظر میں ہم نے اس میدان میں پاؤں دھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ زیر نظر مقالہ، زنانہ ڈائجسٹوں کے ہیرو اور ہیروئن کی بنیادی کرداری خصوصیات، نفسیات، مابعد الطبیعیاتی تحلیل نفسی وغیرہم پر مشتمل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا

Read more

حسین ایثار کا انٹرویو

پروگرام میں خوش آمدید۔ ہمارے آج کے مہمان مقبول کالم نویس، ڈرامہ نگار، شاعر اور دانشور جناب حسین ایثار ہیں۔ جن کے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کا نام حسین ایثار ہے! ۔

جی۔ ایثار صاحب۔ کچھ اپنے بارے بتائیے۔

میں۔ (سگریٹ کا طویل کش لے کر خلاؤں میں گھورتے ہوئے ایک لمبا وقفہ ) میرا تعلق لائل پور سے ہے۔ انتہائی پیارا، دلآویز، حسیں، دلنشیں، دلدار، جان من شہر تھا۔ اب تو اس شہر کےنام سے جغرافیہ تک سب بدل گیا ہے۔ ڈھیٹ، بے حیا، غلیظ، منافق، واہیات، بے ہودہ، بدتمیز (منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے) ہوچکا ہے اب یہ شہر۔ ۔ میں تو۔

Read more

جارج گھسیٹے خاں آنجہانی، عارف بے ریا اور یک گونہ بے خودی

کوئی جائے اور شہباز مسیح کو بتائے؛ فقیروں کو لُوٹ کے تونگری نہیں ملتی۔ خدا اس کی قبر کو نُور سے بھر دے۔ ربع سال ہوتا ہے، جون کی تپتی صبح کو جانکاہ اطلاع ملی، جارج گھسیٹے خاں گزر گئے۔ ایسا نجیب و بے ریا آدمی۔ زمین کا نمک۔ دو دہائیوں کی سنگت رہی۔ ایک بھی دن ایسا نہیں کہ شکایت کا موقع دیا ہو۔ ہمیشہ جو کہا، وہی ملا۔ قناعت ایسی کہ تہواروں پر بھی وہی دام جو عام

Read more

درد تے نئیں ہو رئی جی؟

معاملہ چونکہ ٹھنڈا پڑگیا ہے لہذا اب ہم اپنا لُچ تلتے ہیں۔ بورڈ پر لکھے ہوئے ڈاکٹر اور کپیٹن کے لفظ تو سمجھ میں آجاتے تھے لیکن بریکٹ میں لکھے ریٹائرڈ کے معنی سے شناسائی نہ تھی۔ ڈاکٹر تو خیر اب اردو کا ہی لفظ سمجھا جاتا ہے لیکن کیپٹن کے لفظ سے شناسائی، فوج سے جڑی مڈل کلاسی رومانویت کی وجہ سے تھی۔ سکول کے آخری ایّام تک جوبھی مستقبل بارے ہم سےدریافت کرتا کہ ”آ پ بڑے ہوکر

Read more

پابی کی ڈائری

تہجّد کی ادائیگی کے دوران آنکھ لگ گئی۔ کشف کا وقت تھا۔ خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ اردوان پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ہوائی مستقر پر گارڈ آف آنر کے بعد انہوں نے گھٹنوں کے بَل جھک کر خاں صاحب کی بیعت کی اور اعلان کیا کہ آج سے پاکستان کے سارے قرضے ترکی کے ہوئے اور ترکی کے سارے وسائل پاکستان کے۔ اردوان نے نَم آنکھوں اور رُندھی آواز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمانی خلافت

Read more

انصاف کا ترازو

یہ اکابرینِ ملّت اوربزرگانِ دین کا عکس ہیں۔ یہ ہارڈ ورک اور تقوی پر بیلیو کرتے ہیں۔ ان کی ساری لائف اونسٹی، پرہیزگاری، باکرداری اور رزقِ حلال پر بَیس ہے۔ یہ ورلڈ کپ جیت گئے۔ انہوں نے ہسپتال بنا دیا۔ یہ حمید گل سے ملے۔ وہ ایک جوہری تھے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ یہی وہ شہسوار ہے جس کا ملّت اسلامیہ کو انتظار ہے۔ یہ سیاست میں آگئے۔ انہوں نے 22 سال سٹرگل کی۔ یہ آخر کار کامیاب ہوگئے۔

Read more

وکی پرنس، سموسے اور ساجدہ کی سیلفی

یہ زندگی سے مایوس ہوچکے تھے۔ ان کی لائف ڈپریسنگ اور پین فُل ہوچکی تھی۔ ایک ایک کرکے ان کی زندگی کی تمام خوشیاں، غموں میں بدل گئی تھیں۔ یہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے، وہ کَم سے کَڑم بن جاتا۔ ان کا سموسوں کا بزنس تباہ ہوگیا۔ ان کی ریڑھی کے بالکل سامنے ایک اور بندے نے ریڑھی لگا لی۔ وہ آدھی قیمت پر سموسے بیچنے لگا۔ اس کے سموسوں میں آلو بھی زیادہ ہوتے۔ وہ چٹنی بھی زیادہ

Read more

ڈیم ، چندہ اور کپتان رفاہ بن فلاحی

ارض و سما کے فیصلے گاہے اتنے سہل ہوتے ہیں کہ درویش تو کیا عامی بھی ظاہری آنکھ سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ کوئی جائے اور قنوطیت پرستوں کو امیّد دلائے۔ ربع صدی کا قصّہ ہے۔ درویش کے آستانے پر حاضری کا وقت ابھی دورتھا۔ چیچو کی مَلیاں وہ دھرتی جس نے خالو خلیل جیسے بطلِ جلیل کو جنم دیا۔ جھلستی جولائی کی ایک سہ پہر طالبعلم وہاں پہنچا تو چیل، ماس اور کتا، ہڈّی چھوڑ چکا تھا۔ خالو

Read more

پانامہ کا ہنگامہ۔ نواز شریف، بابا رام دیو اور عمران خان

پانامہ کے معاملے میں بری طرح پھنس جانے کے بعد نواز شریف کے سامنے بچاؤ کا کوئی رستہ باقی نہیں رہا تھا۔ آخری حل یہی تھا کہ استعفٰی دینے کے بعد اقتدار شہباز شریف یا چوہدری نثار میں سے کسی کے سپرد کردیں اور نواز شریف اس پر راضی تھے ان کی شرط صرف یہ تھی کہ ان کی دولت کو نہیں چھیڑا جائے گا لیکن یہ راستہ عالمی اسٹبلشمنٹ کے لیے قابلِ قبول نہیں تھا۔ اس خطے میں اپنے

Read more

ہمارے انقلابی منشور کا تفصیلی پلان

روزگار کی یقینی فراہمی:۔ اقتدار میں آنے کے ایک ہفتے کے اندر اندر ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی۔ ایک مومن 70 کفار پر بھاری ہوتا ہے تو ایک کروڑ مومنین کی نیٹ پاور ستر کروڑ کافروں کے برابر ہوگی۔ ان سے جو کام لیا جائے گا وہ بھی دورِ جدید کا ایک سائنسی /ایمانی معجزہ ہوگا۔ یہ سب ملازمین مل کر پاکستان کو دھکا لگائیں گے اور کینیڈا کے پاس لے جائیں گے۔ ہمارے سائنسی ماہرین کے مطابق اس

Read more

کِی فرق پیندا اے

کالونی کے مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی برادرِ خُورد نے ون وے کی خلاف ورزی کی تو ہم نے ان سے دریافت کیا، ”کِی تکلیف اے تینوں؟ “۔ جواب ملا کہ دوسری طرف سے جانے پر یوٹرن لینا پڑتا۔ مزے کی بات یہ کہ صرف بیس پچیس میٹر کا فرق پڑتا۔ ہم نے انہیں بائیک موڑنے اور اسی طرف سے جانے کا حکم دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا، سگ باش بردارِ خورد مباش۔ برادر نے بائیک موڑی اور اسی

Read more

صوبے اُنا لوووو

مدت مدید کی بات ہے جب ہم کافی چھوٹے تھےتو ہمارے محلے میں منجی پیڑھی بُننے والے آیا کرتے تھے۔ یہ حضرات اکثر و بیشتر پٹھان ہوتے تھے اور ایک مخصوص لَے اور لہجے میں آواز لگایا کرتے تھے کہ منجی پیڑھی ٹھُکا لووووو، منجی اُنا لوووو۔ اب منجی آؤٹ آف فیشن سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس میں نئی نسل کے تجربات برداشت کرنے کی صلاحیت ذراکم ہے۔ آپ میں سے ذرا قدیم احباب نے منجی بُنی جاتی ضرور دیکھی

Read more

ایمان اور خاتمہ

جھنگ بازار کے آبائی مکان سے ہجرت کرکے طارق روڈ (فیصل آباد میں بھی طارق روڈ ہے!) پر شفٹ ہوئے تو فدوی بہت کم عمر تھا۔ سکول جانا شروع ہی کیا تھا۔ ابو جی صبح تڑکے اٹھنے کے عادی ہیں۔ ہمیں بھی اسی وقت اٹھنا پڑتا۔ فجر کی نماز مسجد میں ان کے ساتھ جا کے پڑھتے۔ پھر صبح کی سیر کے لئے زرعی یونیورسٹی جاتے۔ سردی ہو یا گرمی اس معمول میں خلل نہیں آتا تھا۔ جمعہ کی نماز

Read more

صیہونی سازش اور اہل ایمان کا روحانی دفاع

یہ لاہور کے مضافات میں واقع قلعہ نما محلاّت کے ایک کمرے کا منظر ہے۔ سنہری رنگ کے مرکزی صوفے پر سابق وزیر اعظم بیٹھے ہیں اور ان کے دائیں بائیں اور سامنے کے صوفوں پر مریم نواز، رانا ثناءاللہ، کیپٹن صفدر، سعد رفیق، خواجہ آصف، شہباز شریف اور پرویز رشید براجمان ہیں۔ ویڈیو لنک پر اسحاق ڈار بھی اس ملاقات میں شریک ہیں۔ نواز شریف کے چہرے پر مایوسی، افسردگی اور پریشانی واضح ہے۔ سینٹر ٹیبل پر خورونوش کی

Read more

لاؤ تو اعمال نامہ اپنا

یہ کچھ پیچیدہ سی سادہ بات ہے۔ متوسط طبقے کے شہری، پنجابی، پاکستانی، سُنی مسلمان ہونے کے ساتھ بائی ڈیفالٹ کچھ سافٹ وئیر انسٹال ہوتے ہیں۔ ان میں سے پہلا یہود و ہنود، امریکہ، شیعہ، احمدی، سیاستدانوں سے نفرت اور دوسرا اسلام، پاکستان، مشرقی روایات اور پاک فوج سے محبت ہے۔ آپ سے کیا پردہ، فدوی بھی عنفوان شباب سے ذرا پہلے جماعتیا ہوا کرتا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ فدوی اس عالمگیر سچائی کے استثنی کی مثال ہے

Read more