ٹوٹے حضورِ والا، ٹوٹے

ہیہات۔ ہیہات۔ تاریخ کے چوراہے پر بے سدھ ہم پڑے ہیں اور دنیا حظ کشید کرتی ہے۔ کوئی مردِ کار ہے جو پکار کے کہے، ہالٹ! ہیہات۔ ہیہات۔

مضمون کوئی پرانا نہیں ہوتا۔ انسان قدیم ہے، کائنات قدیم تر۔ فطرت سے اغماض ہو نہیں سکتا۔ کون ہے جو لذائذ دنیا سے کنارہ کرلے مگر درویش۔ خدا نے جو راحتیں انسان کو ارزاں کیں کوئی بدبخت ہی ان سے کنارہ کر سکتا ہے۔ کیا پرندوں کا گوشت، پھلوں کا عرق، شباب شجر ممنوعہ ہیں؟ خدا کی خدائی میں یہ دخل ہے۔ بے طرح دل بے قرار ہوا۔ ایک ہی ٹھکانہ جہاں قرار نصیب ہے۔ درویش کہ اب تک وجیہہ ہے، عنفوانِ شباب میں وجاہت کانمونہ تھا۔ درسگاہ کی طالبات کہ ہمہ وقت جھمگٹا درویش کے گرد بنائے رکھتیں۔ ذوق مگر اس وقت بھی اعلی۔ کبھی گہری رنگت اور فلیٹ ارتھ کو آنکھ جھپک کر نہ دیکھا۔ آج بھی اس وقت کو یاد کرتے درویش کی نگاہوں میں چئیرمین نیب کو دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

یوٹوپیا نے کیسے ترقی کی؟

شہر میں ہُو کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور گنجان آباد شہروں کا مخصوص شور غائب تھا۔ حیرانی کی بات تھی کہ کاریں، موٹر سائیکلیں، پک اپ ٹرک، گدھا گاڑیاں، تانگے سڑکوں پر بے ترتیبی سے کھڑے نظر آتے تھے جیسے یک دم کسی نے صور پھونک دیا ہو یا جادو کے زور سے سب غائب ہوگئے ہوں۔ شاپنگ مالز، بازار، تعلیمی ادارے، اسپتال، عدالتیں، تھانے کسی بھی جگہ کوئی انسان نظر نہیں آ تاتھا۔ آوارہ جانور ہر طرف مٹر گشت کرتے نظر آتے۔

ویرانی دیکھ کر اکا دکا جنگلی جانور بھی شہر کے مضافات سے آگئے تھے۔ رات ہونے کو تھی۔ اچانک دور سے گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز آئی۔ سفید گھوڑے پر سوار ایک شخص نمودار ہوا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا دُرّہ تھا۔ شہر کے مرکزی چوک میں رک کر وہ گھوڑے سے اترا۔ دُرّہ شڑاپ کی آواز کے ساتھ ٹریفک سگنل پر مارا اور کہا، میں نے کہا تھا کہ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اب بھی اگر کوئی کہیں چھپا ہے تو ظاہر ہو کر حساب دے ورنہ اس کا انجام بھی باقی سب جیسا ہوگا۔

Read more

مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا

عرش سے نالوں کا جواب آتا ہے۔ آہیں دل پگھلا دیتی ہیں مگر انجام سے بے خبر یہ سرپٹ دوڑتے ہرکارے۔ حیف اس قوم پر جو سیٹیاں مارنے کا الزام لگائے۔۔۔ مُودا دھیں پٹاس بے قصور ہے حضورِ والا۔۔۔ ربع صدی ہوتی ہے؛ طالبعلم ساتویں درجے میں فیل ہوا تو دل خون ہوا، تشریف ابّا…

Read more

ظفر کمال اور ڈولی

آپ ظفر کمال کو دیکھ لیں۔ آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، مصنف، پریمی اور منصف ہیں۔ ایک بندے میں اتنی خوبیاں شاذو نادر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پولینڈ کی کہاوت ہے کہ ہر صدی میں ایسے دو انسان ہوتے ہیں جن میں یہ خوبیاں موجود ہوں۔ ہم برصغیر کو دیکھیں۔ ہم جان جائیں گے کہ پچھلی صدی میں علامہ اقبال ایسی شخصیت تھے اور اس صدی میں جناب ظفر کمال۔ یہ لاہور کے مضافات میں سپاہیانوالہ میں پیدا ہوئے۔

ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ یہ بچپن سے ہی خوبصورت اور ذہین تھے۔ سکول میں اساتذہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ ہر جماعت میں یہ بآسانی پاس ہوجاتے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی ان کی ذہانت اور حسن کے چرچے تھے۔ یہ جب آنکھوں میں سُرمہ لگاتے۔ بالوں میں چنبیلی کا تیل لگا کر پٹیاں جما کر باہر نکلتے تو لوگ انگلیاں منہ میں داب لیتے۔

Read more

اسد عمر: اصل سازش بے نقاب

2011 کے آغاز میں جب واضح ہوچکا تھا کہ اب عمران خان کا راستہ روکنا ناممکن ہو چکا ہے تو ایک گھناؤنا کھیل رچایا گیا جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ وقت نہیں۔ بالآخر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی، بدمعاشی اور عیاری سے خان کا راستہ روک دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ…

Read more

بادشاہ اور رس گُلّے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتی تھی۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سے جھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک رس گُلّا ملتا۔

رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی۔ رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔ چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔

Read more

ملکہ اور کریلے گوشت

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مُلکِ شام سے آگے کسی ملک میں ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک دن وہ وفات پاگیا۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی کیونکہ اس ملک میں ایسا کوئی پیر یا درگاہ نہ تھی جس پر چڑھاوا چڑھانے سے بیٹا ملتا ہو۔ اس بادشاہ کی ایک خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی۔ اس کا نام مہرالشگفتہ تھا۔ بادشاہ کی وفات کے بعد وہ اس ملک کی ملکہ بن گئی۔ ملکہ یوں تو بہت سادہ اور نیک دل تھی لیکن اس کی ایک کمزوری تھی۔ اس کو کریلے گوشت بہت پسند تھے۔ ملکہ کے مرحوم اباجان جب تک زندہ رہے، محل میں کبھی کریلے گوشت نہیں پکے کیونکہ مرحوم بادشاہ کا خیال تھا کہ ”تکّہ و کباب اوّل، کریلے و ٹینڈے آخر“۔

Read more

ٹونی اور جج کی کہانی

اس زمانے میں ڈونگے بونگے سے بہاولنگر تک لاری چلتی تھی جو دن میں دو چکر لگاتی۔ لاری کے ڈرائیورکا نام حاجی رمضان تھا۔ ادھیڑ عمر، مہندی رنگی جماعت کٹ ڈاڑھی، چوخانے کا رومال سر پر بندھا ہوا۔ حاجی نوجوانی سے ہی اس کام میں پڑ گیا تھا۔ دس بارہ سال کنڈکٹری کی۔ پھر استاد مقبول جب بوڑھا ہوگیا تو ایک دن لاری درخت میں دے ماری۔ مالکوں نے حاجی کو ترقی دے کر ڈرائیور بنا دیا۔ حاجی رمضان ڈرائیور بہت زبردست تھا۔ کسی دن دو کی بجائے تین چکر بھی لگا لیتا۔

کبھی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا۔ لاری میں بندے بھی گنجائش سے تین گنا بٹھاتا۔ عید شبرات پر من مانا کرایہ بھی وصول کرتا۔ ڈیزل، سپیر پارٹس کی مد میں بھی پیسے بناتا۔ مالک بھی خوش اور حاجی کو بھی اچھی آمدنی ہوجاتی۔ پہلے حاجی نے اپنا گھر پکا کیا۔ پھر اپنے والدین کو حج کرایا اور خود بھی حج کیا۔ تین چار پلاٹ بھی خریدے۔ بہنوں کی شادیاں بھی کیں۔

Read more

رزقِ حلال، سلائی مشین اور الحذر

معاشی حرکیات سے نابلد، آتشِ حسد میں جلتے لوگ اس کے سوا کیا کہیں؟ رزقِ حلال ہے یہ رزقِ حلال۔ ہزار الزام کپتان کو دیے جاسکتے ہیں کرپٹ مگر وہ نہیں۔ کوئی دن میں ہاتف چیخ کر پکارے گا۔ فاعتبرو یا اولی الابصار

پون صدی ہوتی ہے۔ لائلپور کہ تَر دماغ و ہنرمند نفوس کا گڑھ ہے، ایک مردِ جفاکش کندھے پر چادریں رکھے گھنٹہ گھر گول چوک میں کھڑا بیچتا تھا۔ پنجاب کے وسط میں موسم کی شدّت۔ الحذر۔ جون، جولائی کی گرمی کہ چیل انڈے چھوڑ دے مگر یہ ہنرمند اپنے کام میں جُتا رہتا۔ رزقِ حلال حضورِ والا رزقِ حلال۔ برکت اس کام میں اتنی ہوئی کہ کندھے پر چادریں رکھ کے بیچنے والا ستارہ مل کا مالک بنا۔

Read more

نیو جرسی اور پرانی قمیص

یہ سترہ سال پہلے موسم خزاں کی ایک اداس شام تھی۔ زمان پارک لاہور کے ایک گھر میں ویرانی کا ڈیرہ تھا۔ ڈرائنگ روم میں تین افراد سر جھکائے سوچوں میں گم تھے۔ ان میں سے ایک وجیہہ و شکیل شخص نے گردن اٹھائی اور یوں گویا ہوا، ”سب کچھ ختم ہوگیا۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک تو یہ کام چلتا رہے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ کون اس کام کو چلائے گا؟ کیسے چلائے گا؟ کیا میری محنت اور جدوجہد میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی؟ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ “

Read more