یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

ہمارے وزیراعظم جنہوں نے قطر سے واپسی پر سانحہ ساہیول کے متاثرین کو انصاف مہیا کرنا تھا، بلآخر واقعہ کے 82 دن بعد ان کو سانحہ ساہیوال کے متاثرین یاد آ ہی گئے اور ان کو ایوان وزیراعلی پنجاب کے آفس میں بلا کر چیک تھما دیے، سانحہ ساہیوال کے دلخراش واقعہ کے بعد وزیر اعظم کئی بار لاہور آئے مگر انہوں نے سانحہ ساہیوال کے متاثرین ملنا تک مناسب نہ سمجھا۔ اس بار بھی ان کے پاس جا ان کا درد بٹانے کے ان کو اپنے در پر بلا کر ملاقات کی ایک بار پھر انصاف دلانے کی رویتی یقین دلانی کروائی اور اس واقہ میں جاں بحق ہونے ذیشان کے اہلخانہ کوبلانا تک گوارا نہیں کیا، کیوں ذیشان کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دیا جا چُکا ہے۔ پہلے دن سے اس کیس کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے واقعہ کے بعد کئی کئی من گھڑت کہانی گھڑی گئیں جو ایک کے بعد ایک جھوٹ کو پلندہ ثابت ہوتی گئیں، مگر ہمارے ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانوں چلتا ہے۔ طاقت والے جس کو مجرم ثابت کر دیں اور جس کو چاہے مظلوم ثابت کر دیں۔

Read more