خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے ہر سال ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں جن میں شرکاء بڑے بڑے بینرز اٹھائے ہوتے ہیں جن پر خواتیں کے حقوق لکھے ہوتے ہیں مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز کا انتظام کیا جاتا ہے جس میں ہمارے معاشرے کی وہ خواتین جو کامیاب ہوتی ہیں مہمان خصوصی ہوتی ہیں اور خواتین کے مسائل پر بات کرتی ہیں یہ خواتین ڈاکٹر وکلاء صحافی انجینئر ہوتی ہیں اپنے شعبے کی ماہر ہوتی ہیں جو روز اپنے گھروں سے اپنے اپنے کاموں پر نکل جاتی ہیں اپنے گھر کو چھوڑ کر نکلنے والی یہ عورتیں بے شک ہمارے معاشرے کا فخر ہیں۔
لیکن ان خواتین کے علاوہ بھی کچھ خواتین وہ ہیں جو نہ تو ڈاکٹر ہوتی ہیں نہ صحافی نہ وہ وکیل ہوتی ہیں نہ وہ انجینئر یہ وہ خواتین ہوتی ہیں جو اُن تمام خواتین کے گھر میں جب موجود ہوتی ہیں جب وہ خود یا تو گھر سے باہر ہوتی ہیں یا پھر آرام کر رہی ہوتی ہیں۔ جی یہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی وہ خواتین ہوتی ہیں جو اپنے بچوں کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلتی ہیں یہ وہ مجبور خواتین ہوتی
Read more