ایک تھی حمیرا

دراصل جب ہم بات کرتے ہیں مسائل اور ان کے حل کی تو مسائل کے شکار افراد انتہائی نچلی سطح کے وہ افراد یا گھرانے ہوتے ہیں جو معاشی لحاظ سے بہت کمزور ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان مسائل کے حل کے لئے سیمنارز اور مختلف پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تو ان افراد کا تعلق اس طبقے سے ہوتا ہے یا اس کمیونٹی سے ہوتا ہے جو بہت اور پاور فل اور سماجی طور پر فعال رہنے والے ہوتے ہیں۔ آپ بتائیں وہ کیسے جان سکتے ہیں ان مسائل کا حل جو دو وقت کی روٹی کے لئے محنت مشقت کرنے کے تجربے سے ہی ناواقف ہوں۔

جن افراد کی دسترس میں سب کچھ ہے وہ بیٹھ کر ان مسائل کی بات کرتے ہیں اپنے ہی جیسے دوسرے لوگوں سے۔ خیر یہ بھی ایک المیہ ہے کہ معاشرہ درستگی کی سمت میں پروان چڑھنے سے کیوں گریزاں ہے۔ پاکستان میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر لوگوں کو ابھی تک یہی نہیں معلوم کہ ان کے ایک دوسرے کے لئے کیا حقوق اور فرائض ہیں۔ ڈگریوں اور کتابی کہانیوں سے ان کا تو دور دور تک کیا واسطہ ہونا ہے۔ انہیں تو والدین، اولاد، بہن بھائی، اور میاں بیوی کے رشتوں میں بھی تمیز نہیں اور نا یہ شعور ہے کہ ایک کا دوسرے پر کیا حق ہے۔

Read more