قائد اعظم اکادمی پر تالے پڑنے والے ہیں
بانی پاکستان محمد علی جناح بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم رہبر کی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں نے شب و روز جدوجہد کر کے ہمیں ایک آزاد ریاست عطا کی، جس میں ہمیں آزاد فضاؤں میں زندگی گزار نے کا موقع ہاتھ آیا لیکن ہم نے اپنی خود غرضیوں سے یہ موقع گنوا دیا۔ محمد علی جناح کی زندگی، ان کے کارناموں اور ان کے افکار و خیالات کی بنا پر انہیں مسلم دنیا کا ہیرو اور قائد اعظم قرار دیا گیا۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ان کی وفات کے بعد ہم نے ان کے نصاب سے منہ موڑ کر اپنی راہیں کھوٹی کر لی ہیں اور آج استعماری قوتوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہیں۔
پینتالیس برس پہلے 1975 ء میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی، ان کے کارناموں اور ان کے افکار اور سیاسی نظریات پر کیے جانے والے تحقیقی کاموں کی نشر و اشاعت اور انہیں عوام تک پہنچانے کے لئے ایک غیر معمولی مقاصد کی حامل ”قائد اعظم اکیڈمی“ شہر قائد میں قائم کی گئی تھی، جو آج اپنے قیام کی کم و بیش نصف صدی بعد عضوئے معطل بن کر رہ گئی ہے۔ قائد اعظم اکیڈمی پاکستان کا ایک علمی و تحقیقی ادارہ ہے جو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات حکومت پاکستان کے ماتحت کام کرتا رہا ہے، جس کا مقصد قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی و افکار پر تحقیقی مواد کی اشاعت تھی۔
Read more
