گھر مت آنا۔۔ابا

وہ آج رات بھی ٹھیک سے سو نہ سکا۔ وہ جیسے ہی آنکھیں بند کرنے لگتا، اس کے ذہن میں عجیب عجیب خیالات ابھرنے لگتے۔ کبھی بچوں کی خوراک، کبھی چھوٹی کی فیس تو کبھی ماں کی دوائی۔ سوچیں تھیں کہ پیچھا ہی نہ چھوڑتی تھیں۔ سارا دن سڑکوں کی دھول جھوکنے کے بعد بھی بس اتنے پیسے ہی بن پاتے کہ دو وقت کی روٹی نصیب ہو سکے۔ کوئی اور ہوتا تو اس کو اپنی تقدیر سمجھ کر چپ

Read more