آخر کس کے لئے؟

آواز اَن سُنی اتنی شدید کے کانوں کے پردے چاک کر گئی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا تھا راقم ارضِ خاک کے ساتھ خاک ہو گیا۔ جنگ تو ایسے ہی ہوتی ہے، آپ کو مجھے کہاں موقعہ ملے گا اپنی تنقید بیچنے کا، ہو گا یہ کوئی بم دُشمن کا، پہلے اپنے بچوں کو پڑھا لیجیے۔ صُلح کا قدم خان صاحب نے بڑھایا اچھی بات، معاملہ کی شدت میں کمی آرہی ہے بہترین، لیکن سوال تو وہی ہے، آخر کِس کے لئے جنگ؟ مستقبل کشمیر کا بغاوت کو 30 سال ہو گئے مجاہدین لاتعداد بار بدنام ہوئے آپ بھی اُنھیں دہشتگرد قرار دے گئے۔ مگر اب وہ مجاہد ہیں یا دہشتگرد؟

Read more