میرے ابا جان، سائنسی تحقیق اور جانو جرمن کچھوا
جس کرائے کے گھر میں ہم ستر کی دھائی میں مقیم تھے وہ دو کمروں پر مشتمل ایک چڑیا گھر تھا۔ ہم چار بہن بھائیوں کی موجودگی میں وہاں شیر، ہاتھی چیتے وغیرہ کی گنجائش تو نہیں نکلتی تھی مگر امی، جو مقامی کالج میں لڑکیوں کو فارسی پڑھاتی تھیں، اپنے تمام تر قلبی تعلق اور محبت کے باوجود شاید ہم بچوں کو یکے از نوعِ حیوانات ہی سمجھتی تھیں۔ ایک واقعہ جو امی خود سنا کر بہت لطف اُٹھاتی
Read more
