عورت ،عزت، چار دیواری اور چادر کا فرسودہ چیتھڑا
دھڑکتے دل کے ساتھ جب میں نے سسرال کی دہلیز پار کی تو گویا میرے صدیوں سے ضبط آنسو چھلک ہی گئے۔ میں نے پیچھے مڑ کر آخری بار اس گھر کو دیکھا۔ میرا چہرہ پسینے اور آنسوؤں سے تر تھا۔ میری قدآور سیاہ چادر میرے خدوخال کو مکمل ڈھکے ہوئے تھی۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر اپنا چہرہ چادر سے پونچھنے کی کوشش کی تو یاد آیا ماں کہتی تھی چادر اور چار دیواری عورت کی محافظ ہوتی ہے۔
Read more
