آنکھوں دیکھی بیان کرنا بے حیائی ہے تو ایسے کام کرنے والے خود کیا ہیں؟ ریحام خان کی ہم سب سے گفتگو


عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے ہم سب سے اپنی خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر مجھے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آنکھوں دیکھی باتیں بیان کرنے پر بے حیا اور واہیات کے القابات سے پکار رہے ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ایسی حرکتیں کرنا عین حیا کے مطابق ہے۔ یعنی کہیں پر کچھ افراد کو سیاسی عہدوں اور پارٹی منصب لینے کے لئے sexual favors (جنسی مراعات) دینا پڑیں اور بالخصوص خواتین کا استحصال ہو لیکن اس کی پردہ پوشی کرنا عین اچھا ہے جب کہ حقائق بیان کرنا بے حیائی ہے؟ ریحام خان نے سوال کیا کہ کیا واہیات حرکتیں کرنا درست ہے؟

انیلہ خواجہ کے ٹی وی پر بیان کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنا موقف دیا۔ یاد رہے کہ انیلہ خواجہ پی ٹی آئی کی انٹرنیشنل میڈیا کوآرڈینیٹر ہیں اور خان صاحب پر کافی اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ انیلہ خواجہ کے حوالے سے میڈیا پر یہ خبریں گردش میں ہیں کہ ریحام کی کتاب کے لیِکڈ (Leaked) حصوں میں ریحام نے انہیں Chief of Harem قرار دیا ہے۔ ریحام نے کہا کہ انیلہ خواجہ اور ان کے ہمدرودں نے مجھ پر تنقید کی ہے کہ میں نے عورتوں کو رسوا کیا ہے اور ان کے لئے سیاسی میدان میں آزادی اور مواقع کو کم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ وہ خود عورتوں کے حقوق اور ان کی سیاست میں موزوں نمائندگی کی حامی ہیں۔ اگر کوئی خاتون سیاسی کارکردگی کی بجائے کسی ناجائز ذریعے سے اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کرے گی اور ان خواتین کی حق تلفی کرے گی جو اصل میں سیاسی میدان میں محنت اور لگن سے کام کر رہی ہیں تو ایسی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کریں گی۔

ریحام خان نے مزید بتایا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما، جو بہت محنتی، دیانتدار اور نظریاتی کارکن ہیں، تین سال سے ان کے ساتھ ای میل کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ جب عائشہ گلالئی والا واقعہ پیش آیا تو اس نے مجھے ای میل پر خود اپنے ساتھ پیش آنے والے کئی واقعات بتائے مگر میں نے اس کے حوالے سے بالکل خاموشی اختیار کی کیونکہ اس بیچاری کا گھر برباد ہو جائے گا اور اس کا شوہر اسے گھر سے نکال دے گا۔ اس خاتون نے براہ راست عمران خان، جہانگیر ترین اور نعیم الحق کا نام لیا ہے۔ لیکن میں نے اپنی کتاب میں اس خاتون کا کہیں ذکر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مراد سعید نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں امیر مقام کی گاڑی استعمال کرتی ہوں تو میں یہ بتا دوں کہ میری آج تک امیر مقام سے ملاقات نہیں ہوئی بلکہ امیر مقام نے بھی آج تک مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تو میں امیر مقام کو اور شہباز شریف کو پیغام بھیجنا چاہتی ہوں کہ وہ ایک لاکھ پونڈ جس کا الزام لگایا گیا ہے مجھے بھجوا ہی دیں۔

ریحام خان نے مزید بتایا کہ میں میٹرو بس کی سخت مخالف تھی۔ میں نے اس پر کافی تنقید کی تو حنیف عباسی نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا آپ ایک دفعہ آکر اس منصوبے کو دیکھیں تو سہی۔ اس کی بعد آپ جتنی چاہیں تنقید کریں۔ تو میں نے اس پراجیکٹ پر پروگرام کیا۔ وہ پروگرام جیسے ریکارڈ ہوا، ویسے ہی پیش کیا گیا۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرا اور حنیف عباسی کا آپسی رویہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید اضافہ کیا کہ جیسے ہی پروگرام ختم ہوا، حنیف عباسی نے مجھے خداحافظ کہا اور وہیں سے اجازت لے لی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ واقعی میٹرو منصوبے سے متاثر ہوئیں کچھ روز بعد جب ان کی ملاقات جماعت اسلامی کے ایک بڑے لیڈر کی والدہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں شہباز شریف کو بہت دعائیں دیتی ہوں میں نے استفسار کیا کہ ماں جی آپ اس سے اتنا کیوں خوش ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا بیٹا اکثر مصروف ہوتا ہے۔ ہم عورتیں باعزت طریقے سے بالکل سہولت کے ساتھ خود میٹرو پر جاکر شاپنگ کرکے یا ضروری کام نپٹا کر گھر آجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حفیظ اللہ نیازی نے سچ کہا ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ تاہم پی پی پی کے لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ حفیظ اللہ نیازی انتہائی معقول شخص ہیں اور بے لاگ تبصرہ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر انہیں اپنے گھر میں تکلیف برداشت کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ مائزہ حمید نے ایک ٹی وی چینل پر کہا ہے کہ کتاب میں خواتین کا ذکر کرنا غلط ہے اور مجھے خواتین کے لئے مسائل پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تو میرا جواب وہی ہے کہ کیا خواتین کا استحصال ہوتے رہنے دینا چاہیے اور کیا ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی نہیں کرنی چاہیے جومیرٹ کی بجائے sexual favors (جنسی ہتھکنڈوں) کی بدولت دوسروں کی حق تلفی کرتی ہیں اور کیا جو لوگ ایسے مکروہ کرتوت کرتے ہیں، انہیں کھلی چھٹی دے دینی چاہیے۔

ریحام خان نے مزید کہا کہ مبین رشید کو میرے خلاف استعمال کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ وہ دو ٹکے کا شخص نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت بری طرح گھبرائی ہوئی ہے۔ وہ میری کتاب سے خائف ہیں اور لوگوں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ مجھے ٹارگٹ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ انہیں مجھے ہدف بنانے کے لئے مجھ ہی سے انٹرویو کی درخواست کرتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی۔

ریحام خان کا کہنا تھا کہ میں جب بنی گالہ میں تھی تو میں نے وہاں دیکھا کہ پی ٹی آئی نے کیسے سارا میڈیا قابو کیا ہوا ہے اور کس طرح ان کی مرضی سے میڈیا میں خبروں اور تبصروں کو اینگلنگ (خاص زاویہ) دی جاتی ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں