ٹیکری ایجوکیشن سینٹر کے پانچ سال



2 اگست بحیثیت ایک طالب علم کے میری زندگی میں اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دن ہمارے علاقے ٹکری ولیج میں ایک ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام ٹکری ایجوکیشن سینٹر ہے اور آنے والے اگست کی دو تاریخ کو ٹکری ایجوکیشن سینٹر اپنے کامیابی کے پانچ سال مکمل کرنے کو ہے۔ ٹکری ایجوکیشن سینٹر کا قیام اور اسکے پانچ سال مکمل ہونا ہمارے لئے کسی تہوار سے کم نہیں کیونکہ اس سینٹر کا قیام جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کے لئے کیا گیا تھا آج اس سینٹر کے بدولت ہمارے معاشرہ میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے
میں ایک ایسے معاشرہ سے تعلق رکھتی ہوں جو مختلف برائیوں کی آماجگاہ ہے اور ان تمام برائیوں کی جڑ ناخواندگی میں پوشیدہ ہے نہ تعلیمی ادارے وجود رکھتے ہیں جو معاشرے کی پسماندگی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے علاقے میں موجود پرائمری اسکول میں بچوں کی وہ تربیت نہیں کی جاتی کہ وہ صیح و غلط کی پہچان کرسکے۔ گٹکا ، ماوا ، چھالیا بچوں کا پسندیدہ غذا بن چکا ہے چھوٹے چھوٹے بچے منہ میں گٹکا چبائے نظر آتے ہیں انکے بات کرنے کا انداز ایسا ہے کہ طالب علم سے زیادہ گلی کے آوارہ معلوم ہوتے ہیں ایک معصوم بچہ جسکی عمر 10 یا 11 سال ہو گٹکا منہ میں چباتے ہوئے بات کریں تو تعجب ہوتا ہے آخر اس میں کس کا قصور ہے انکے والدین کا یا ان کا اپنا یا ہمارے سماجی نظام کا لیکن جہاں تک میں جانتی ہو کہ قصور ان کا ہوتا ہے جن میں شعور نام کی چیز ہوتی ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے علاقے میں تعلیمی اداروں کے نہ ہونے کی وجہ سے شعور نام کی شئے نایاب ہوچکی ہے.

اس لئے ان بچوں کے والدین کا کوئی قصور نہیں کیونکہ وہ تعلیم سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے صیح تربیت نہیں کرسکتے اور جو اکا دکا تعلیم یافتہ ہیں وہ اکثر اپنے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اقدام اٹھاتے ہیں انکی خواہش ہے کہ انکے بچوں کو اچھی نوکری ملے اکثر معاشرتی مفاد کے برخلاف انفرادی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے غریب اور تعلیم سے محروم بچوں میں گٹکا، پان اور نسوار کا نشہ عام ہوتا جارہا ہے اگر کم عمر بچوں کی بات کریں تو انکے پسندیدہ کھیل فٹبال کرکٹ کے بجائے تاش اور جوا کھیلنے کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی وہ منشیات کے عادی افراد میں شامل ہوتے تھے بد قسمتی سے جو عمر نوجوانوں کے کالج جانے کی ہوتی ہیں ہمارے بھائی اس نازک عمر میں فیکٹریوں اور گوداموں میں نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے جن نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا وہ مالی مشکلات کی وجہ سے اپنے تعلیمی سفر کو جاری نہ رکھ سکےاوراپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ذریعہ معاش کے ذرائع تلاشنے میں لگ گئے اور اس مفروضے کو اپنی زندگی کا حصہ بنا ڈالے کہ انٹر کرلیا ہے کسی فیکٹری میں نوکری مل جائیگی۔
اگر لڑکیوں کی بات کریں تو انکے لئے صرف علاقے میں پرائمری اسکول موجود ہیں اور سیکنڈری لیول کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انکے خواہشات انکے دل میں ہی دفن ہوجاتے ہیں انکو مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ملتی اور یہ کہہ کر انہیں ٹالا جاتا ہے کہ لڑکی ہو پڑھ کر کیا کرو گی۔ویسے بھی لڑکیوں کا کام کپڑے دھونا اور برتن مانجنا ہوتی ہیں انہیں زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔پرائمری تک پڑھی ہو بڑی بات ہے نام لکھنا جانتی ہو اور کیا کروگی پڑھ کر تم کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دوگی اور پھر یہ کہتے ہیں کہ اسکول دور ہے اسی وجہ سے ہمارا دل نہیں کرتا کہ تمہیں علاقے سے باہر بھیجو بڑی ہو گئی ہو چھوٹی بچی نہیں ہواتنی دور کیسے جاؤ گی ہمارے علاقے میں کوئی بھی سیکنڈری اسکول نہیں ہے۔ پرائمری اسکول ہو کر بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر پرائیوٹ اسکولوں کی بات کریں تو وہ تعلیمی اداروں سے زیادہ کاروباری ادارے کا کردار ادا کرہئے ہیں ٹکری ولیج کے لوگوں کا ذریعہ معاش ماہی گیری ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں پڑھانے سے قاصر ہیں۔
یہ تھی ماری پور ٹکری ولیج کی داستان مختلف برائیوں کی آماجگاہ اور حکومتی اداروں کی عدم توجہی جس نے ان باشعور نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ ان برائیوں کو مزید پنپنے سے روکنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ ہے علم و شعور کا وہ راستہ ہے ٹکری ایجوکیشن سینٹر کے قیام کا
اس لئے ان نوجوانوں نے کافی سوچ و بچار کے بعد اس تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جسے آج پانچ سال مکمل ہوچکے ہیں اور آج اسی سینٹر کی مرہون منت ہے کہ میں میٹرک کی ایک طالب علم ایک کالم لکھنے کی طاقت رکھتی ہو۔ میں شکریہ ادا کرنا چاہتی ہو ان نوجوانوں کا اور غموار بلوچ کا جوکہ اس عظیم مقصد میں واحد لڑکی ہے انہوں نے دو اگست دو ہزار تیرہ کو کو ٹیکری ایجوکیشن سینٹر کی بنیاد رکھی آج ٹیکری ایجوکیشن سینٹر میں300 طلبہ و طالبات دو شفٹوں میں پڑھتے ہیں شفٹA میں اللہ بخش سہیل زمان شہباز شہ مرید آصف سومار آصف مراد شبیر اور ناصر پڑھاتے ہیں جبکہ شفٹ B میں کل 14 گرلز ٹیچرز پڑھاتی ہیں۔
ٹکری ایجوکیشن سینٹر کے شفیق اور مہربان استادوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اللہ بخش بلوچ ٹکری ایجوکیشن سینٹر کا ایک ایسا ٹیچر ہے جو معذور ہونے کے باوجود کبھی یہ محسوس نہیں کرتا کہ میں معذور ہو ایک تندرست انسان وہ کام سر انجام نہیں دے سکتا لیکن اللہ بخش بلوچ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ہمہ وقت حاضر ہے۔ سینٹر کے دیگر ٹیچرز وہ ہے جو کل اسی سینٹر میں طالب تھے اپنی محنت سے آج وہ سینٹر کے ٹیچر اور ذمہ دار بن گئے ہیں
ٹیکری ایجوکیشن سینٹر نے ہمارے معاشرہ کے ماحول کو کافی حد تک تبدیل کردیا ہے آج ٹیکری سے کافی لڑکیاں اپنے علاقے سے باہر پڑھنے کے لئے جاتی ہیں زیادہ تر بچوں کو پڑھنے کا شوق ہوگیا اس سینٹر کی بدولت یہ مثبت نتیجہ ہمارے سامنے آیا ہے کہ بچے منشیات سے دور ہے
میں جب بھی سینٹر کے اندر داخل ہوتی ہو تو میرےچہرے پہ ایک مسکراہٹ پھیل جاتی ہیں اور دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے اتنے محصوم بچے ہاتھ میں کتاب لئے اس انتظار میں بیٹھی ہوئی کہ کب میرے ٹیچرز آکر مجھے پڑھائینگے بچوں کے انتظار کے اس منظر کو دیکھ کر اپنا بچپن یاد آتا ہے جب میں بھی ان بچوں کی طرح اپنے ٹیچرز کے انتظار میں کتابیں کھولے ہوئی بیٹھتی تھی اور یہ خیال کہ اگر آج یہ سینٹر نہ ہوتا تو مجھے اور دوسری کئی لڑکیوں کو پڑھنے کا شوق کبھی پیدا نہیں ہوتا اس علاقے میں غموار کبھی جنم نہیں لیتی لیکن آج اسی سینٹر نے غموار اور دوسری کئی لڑکیوں کو ایک نئی زندگی دی اور اس نئی زندگی کا نام ہے اپنی زندگی کو اپنے مرضی سے جینا۔
میں جب اپنے ان بھائیوں کے درمیان بیٹھتی ہو تو فکر کا احساس ہوتا ہے کہ قربانیوں سے بھرپور نوجوان اس مقصد کے حصول میں ہمارے شانہ بشانہ ہے ان نوجوانوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ اس کھٹن راستے میں کئی مشکلات آئیں گی لیکن انہوں نے تمام مصائب کو قبول کرکے اس سینٹر کی بنیاد رکھی
میں سلام کرتی ہو ان نوجوانوں کو اور غموار بلوچ کو جس نے ایسے معاشرہ کے لڑکی ہونے کے باوجود یہ قدم اٹھایا ہے اس کے بعد میں سر مبین کے کردار کا شکرایہ ادا کرنا چاہونگا کہ سر اپنے نوکری میں مصروف ہونے کے باوجود بھی ہمارے سینٹر آتے ہیں مختصر وقت میں بھی وہ ہمیں بہت ساری باتیں سمجھاتی ہیں اور مختلف موضوعات پر ہمیں لیکچر دیتے ہے میرے پاس ایسا کوئی لفظ کہ میں سرمبین اور ان نوجوانوں کی تعریف میں بیان کرسکو میں بہت باتیں کہنا چاہتی ہو لیکن میرے الفاظ ان قربانیوں کی ترجمانی نہیں کرسکتے
آج ٹکری ایجوکیشن سینٹر کو پانچ سال کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے اور ان پانچ سالوں میں سینٹر نے بہت ہی اہم کامیابیاں اپنے نام کرلیں ہے جن میں نمایاں کامیابی لڑکیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور کل ہیی لڑکیاں اپنے معاشرے کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہونگے۔ ٹکری سینٹر کی کامیابی سے جاری سفر ہمارے معاشرے کو حقیقی انسانی معاشرے بنانے میں سرخرو ہوگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

رشائل بلوچ کی دیگر تحریریں
رشائل بلوچ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں